بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

27 محرم 1448ھ 13 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے دینے کے بعد مہر کی ادائیگی میں شوہر کا ٹال مٹول کرنے کاحکم


سوال

میری بیٹی کو اس کا شوہر   شادی کے دوسال بعدتین طلاقیں دے چکا ہے ،اس کا مہر د و تولہ معجل  لکھوایا تھا،اور  پانچ تولہ مؤجل لکھوایا تھا ،نکاح کے بعد دو تولہ سونا کسی اور سے عاریت پر لے کر دے دیا تھا، اور یہ کہا کہ یہ دو تولہ سونا کسی اور کا ہے،یہ بعد میں اس شخص کو واپس کردوں گا، اور آپ کو سات تولہ بنوا کر دوں گا، اس کے علاوہ عقد نکاح کے وقت پانچ مرلہ زمین بھی بطور مہر معجل کے طے ہوئی تھی، اب شوہر اور اس کے والد یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ سات تولہ  سونااور پانچ مرلہ  زمین قسط وار  دیں گے، جب کہ شوہراور اس کے  گھر والے کروڑوں کے مالک ہیں، 30 سے 40 مزدور ان کے پاس کام کرتے ہیں۔

کیا شوہر کا یہ کہنا درست ہے؟  ہمارے لیے ان سے نقد کا مطالبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟ 

جواب

واضح رہے کہ  مہر معجل کی ادائیگی  نکاح کے فوار بعد  ہی شوہر کے ذمہ لازم ہوتی ہے،اور مہر مؤجل کی ادائیگی اگر کوئی میعاد مقرر نہ ہوئی ہو تو موت یا طلاق کی صورت میں جدائی گی کی صورت میں لازم ہوتی ہے،لہذا صورت مسئولہ میں سائل کی بیٹی کے  مہر فوری طور پر  ادا کرنا اس کے شوہر کے ذمہ واجب اور ضروری ہے،نیز اگر واقعتا    گنجائش ہونے کے باوجود  شوہر اور اس کے گھر   قسطوں میں ادا کرنے کا کہنا  ظلم ہے،اور اس پر حدیث میں وعیدیں آئی ہیں۔

صحیح البخاری میں ہے:

"عن أبي هريرة رضي الله عنه، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "‌مطل ‌الغني ‌ظلم، فإذا أتبع أحدكم على ملي فليتبع ".

(کتاب الحوالة، باب إذا أحال على ملي فليس له رد، ج:3، ص:277، ط: دار التاصيل)

"ترجمہ:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، مالدار کی طرف سے (قرض کی ادائیگی میں) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔"

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراءمن صاحب الحق، كذا في البدائع."

(کتاب النکاح،الباب السابع،  الفصل الثاني فيما يتأكد به المهر و المتعة،ج:1،ص: 303،ط:رشیدیة)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله فإن سماها أو دونها فلها عشرة بالوطء أو بالموت)؛ لأن بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه وسيأتي أن الخلوة كالوطء فحاصله أن المهر يجب بالعقد ويتأكد بإحدى معان ثلاث."

(کتاب النکاح،باب المھر،ج:3،ص:153،ط:دار الکتاب الاسلامی)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706101482

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں