
میاں بیوی میں جھگڑا چل رہا تھا، جھگڑے کے دوران بیوی نے شوہر سےکہاکہ مجھے طلاق دےدو، شوہر نے صرف یہ لفظ کہا" طلاق،طلاق،طلاق" اور طلاق کی نیت نہیں تھی، بلکہ اس کا منہ بند کرنے کی نیت تھی، تو طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟
واضح رہے کہ طلاق کے صریح الفاظ سے طلاق بلا نیت واقع ہوجاتی ہے، اوروقوعِ طلاق کے لیے طلاق کے الفاظ کا بیوی کی طرف صراحتاً نسبت کرنابھی ضروری نہیں ہے، بلکہ اگر دیگر قرائن موجود ہوں: جیساکہ مطالبہ طلاق ہو،یا مذاکرہ طلاق ہو یا حالتِ غضب ہو،اور شوہر بیوی کو لفظ طلاق کہہ دے، تو دلالۃً بیوی کی طرف نسبت ہونے کی وجہ سے طلاق واقع ہوجاتی ہے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بیوی کے مطالبہ طلاق " طلاق دےدو" کے جواب میں شوہر نےجب اسےکہا کہ "طلاق،طلاق،طلاق" تو اس سے تین طلاقیں واقع ہوگئیں ہیں،دونوں کا نکاح ختم ہوچکا ہے ،اور بیوی شوہر پر حرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے، اب شوہر کے لیے اپنی مطلقہ بیوی سے رجوع کرنا یا دوبارہ نکاح کرنا حرام ہے،پس مطلقہ بیوی عدت(مکمل تین ماہواریاں اگر حاملہ نہ ہو،اور ماہواری آتی ہو،اگر حاملہ ہو تو وضع حمل تک)گزار کر دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه."
(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق، ج:3، ص:248، ط:سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وحال الغضب ومذاكرة الطلاق دليل إرادة الطلاق ظاهرًا فلايصدق في الصرف عن الظاهر".
(كتاب الطلاق، فصل في النية في نوعي الطلاق، ج:3، ص: 102،ط: دار الكتب العلمية)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(صريحه ما لم يستعمل إلا فيه) ولو بالفارسية (كطلقتك وأنت طالق ومطلقةويقع بها) أي بهذه الألفاظ وما بمعناها من الصريح،(واحدة رجعية،وإن نوى خلافها) من البائن أو أكثر خلافا للشافعي (أو لم ينو شيئا)."
(کتاب الطلاق،باب صریح الطلاق، ج:3، ص:247-250، ط:سعید)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"(ولو قال أنت طالق يقع الطلاق به ولا يحتاج فيه إلى النية ويكون رجعيا تصح نية الثلاث)."
(کتاب الطلاق، الباب الثانی،الفصل الأول في الطلاق الصريح، ج:2، ص:355، ط: رشیدیة)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے:
’’سوال: زید نے اپنے والدین سے غصہ کی حالت میں بوجہ خفگی والدین اس کی زوجہ پر اور اس پر یہ الفاظ کہے: طلاق، طلاق، طلاق، تین مرتبہ یعنی اس لفظ طلاق کو کسی طرف منسوب نہیں کیا اور یہ کہا کہ میں کہیں چلا جاؤں گا یا بھیک مانگ کر کھاؤں گا، آیا یہ طلاق ہوگئی یا نہیں؟
جواب: موافق تصریح علامہ شامی کے اس صورت میں زید کی زوجہ مطلقہ ثلاثہ ہوگئی۔‘‘
(کتاب الطلاق ،ج:9،ص:196، ط: دارالاشاعت)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704100015
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن