
ایک آدمی کی دو سال پہلے شادی ہوئی پھر لڑکی نے شوہر کوایک لاکھ روپے قرض دیا ، جس میں 55 ہزار حق مہر والے تھے اور باقی لڑکی کے ذاتی تھے، پھر دونوں میں ناچاقی ہوئی شوہر نے بیوی کو والدین کے گھر چھوڑ دیا ، اس دوران لڑکی حاملہ تھی 8-7 مہینے بعد بیٹی کی ولادت آپریشن کے ذریعہ ہوئی، شوہر کہتا ہے میں بیوی نہیں رکھنا چاہتا اور بیوی کے والدین بھی نہیں بھیجنا چاہتے ، دونوں فریق طلاق پر متفق ہوگئے ہیں لیکن ابھی طلاق ہوئی نہیں ہے۔
سوال یہ ہیں کہ:
1۔کیا شوہر پر ایک لاکھ قرض لی ہوئی رقم لوٹانا لازم ہے؟
2۔آپریشن پر جو خرچہ آیا ہے وہ کس کے ذمے ہے؟ شوہر پر یا لڑکی کے والدین پر؟
3۔جو لڑکی پیدا ہوئی ہے دو تین ماہ کی ہے اس کی پرورش کا خرچہ کس پر ہوگا؟یہ بچی والدہ کے پاس رہے گی یا والد کے پاس ؟ اور کتنا عرصہ والدہ کے پاس رہے گی ؟
1۔ صورت مسئولہ میں جب شوہر نے بیوی سے ایک لاکھ روپے کی رقم بطور قرض لی تھی تو شوہر پر اس کا واپس کرنا لازم ہے۔
2۔صورت مسئولہ میں اگر لڑکی کے گھر والوں نے شوہر کی رضامندی سے آپریشن کا خرچہ کیا تھا تو اس خرچ کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے، اور اگر شوہر کو اعتماد میں لے کر نہیں کیا تھا تو آپریشن کا خرچ شوہر کے ذمہ نہیں، البتہ اگر شوہر ادا کردے تو یہ اس کی طرف سے تبرع و احسان ہوگا۔
3۔میاں بیوی میں علیحدگی کی صورت میں لڑکیوں کی عمر نو سال ہونے تک اس کی پروش کا حق اس کی والدہ کو حاصل ہوتا ہے، لہذا صورت مسئولہ میں بچی کی پرورش نو سال كي عمر تك ماں کے ذمے ہےاور بچی کا نفقہ باپ کے ذمے لازم ہے۔
الفقه الإسلامي وأدلته میں ہے:
يجب على المقترض أن يرد مثل المال الذي اقترضه إن كان المال مثلياً بالاتفاق، ويرد مثله صورة عند غير الحنفية إذا كان محل القرض مالاً قيمياً، كرد شاة تشبه الشاة التي اقترضها في أوصافها.
(حكم الهدية للمقرض، ج: 5، ص: 3793، ط: دارالفکر)
وفيه ايضاً:
"نفقات العلاج: قرر فقهاء المذاهب الأربعة أن الزوج لا يجب عليه أجور التداوي للمرأة المريضة من أجرة طبيب وحاجم وفاصد وثمن دواء، وإنما تكون النفقة في مالها إن كان لها مال، وإن لم يكن لها مال، وجبت النفقة على من تلزمه نفقتها؛ ۔۔۔۔۔۔۔ أما الآن فقد أصبحت الحاجة إلى العلاج كالحاجة إلى الطعام والغذاء، بل أهم؛ لأن المريض يفضل غالبا ما يتداوى به على كل شيء، وهل يمكنه تناول الطعام وهو يشكو ويتوجع من الآلام والأوجاع التي تبرح به وتجهده وتهدده بالموت؟! لذا فإني أرى وجوب نفقة الدواء على الزوج كغيرها من النفقات الضرورية، ومثل وجوب نفقة الدواء اللازم للولد على الوالد بالإجماع، وهل من حسن العشرة أن يستمتع الزوج بزوجته حال الصحة، ثم يردها إلى أهلها لمعالجتها حال المرض؟!"
(القسم الثالث الأحوال الشخصية، مايترتب على شروط وجوب النفقة من مسائل ، المسألة الثالثة الزوجة المريضة، ج: 10، ص: 7378، ط: دار الفكر)
فتاویٰ ہندیہ میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة."
(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر، الفصل الرابع فی نفقة الأولاد، ج: 1، ص: 560، ط: رشیدیة)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر ... (وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقاً وزمن."
(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج: 3، ص: 612، ط: سعید)
رد المحتار على الدر المختار میں ہے:
"وفيه أجرة القابلة على من استأجرها من زوجة وزوج ولو جاءت بلا استئجار، قيل: عليه، و قيل: عليها.
(قوله: قيل: عليه إلخ) عبارة البحر عن الخلاصة: فلقائل أن يقول: عليه؛ لأنه مؤنة الجماع، ولقائل أن يقول: عليها كأجرة الطبيب اهـ وكذا ذكر غيره، ومقتضاه أنه قياس ذو وجهين لم يجزم أحد من المشايخ بأحدهما خلاف ما يفهمه كلام الشارح، ويظهر لي ترجيح الأول؛ لأن نفع القابلة معظمه يعود إلى الولد فيكون على أبيه تأمل."
(باب النفقة، ج: 3، ص: 580، ط: دار الفكر)
فقط والله أعلم
فتویٰ نمبر : 144704101447
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن