
کیا اسکولوں میں بچوں سے پارٹی یا ٹور (چکر) کے نام پر 300، 400 یا 500 روپے وغیرہ جمع کرنا جائز ہے، جب کہ یہ رقم طلبہ پر ہی خرچ کرنے کےلیےلی جاتی ہے؟اگر یہ رقم لینا جائز ہو، تو کیا اسی مد سے تیار کیا گیا کھانا اساتذہ بھی کھا سکتے ہیں؟کیا اساتذہ طلبہ کے ساتھ اس قسم کے ٹور (چکر) میں شریک ہو سکتے ہیں یا نہیں؟
صورتِ مسئولہ میں اسکول کے بچوں سے پارٹی یاپکنک کے اخراجات کی مد میں پیسے لینا جائزہے، البتہ پیسوں کےلیے طلبہ کو یا ان کے والدین کو مجبور کرنا درست نہیں، پس اگر پکنک کے اخراجات کی مد میں رقم لی گئی ہو، تو اس رقم سے جملہ اخراجات کیے جا سکتے ہیں، اور اساتذہ ایسی پکنک میں طلبہ کے ساتھ شریک بھی ہوسکتے ہیں اور کھانابھی کھا سکتے ہیں، البتہ اگر طلبہ کی کھانے کے نام پر رقوم جمع کی گئی ہوں، تو اس صورت میں مذکورہ رقم کھانے پر ہی خرچ کرنا ضروری ہوگا، اور اس صورت مذکورہ پکنک میں شمولیت کے لیے اساتذہ یا ادارہ کی انتظامیہ کو بھی رقم شامل کرنا ضروری ہوگا۔
شعب الإیمان للبیہقی میں ہے:
"عن أبي حرة الرقاشي عن عمه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: لا يحل مال امرئ مسلم إلا بطيب نفس منه"
ترجمہ:” خبردار! اے مسلمانو! ظلم نہ کیا کرو، اور یاد رکھو کسی شخص کا مال اس کی دلی رضامندی کے بغیر دوسرے شخص کے لیے حلال نہیں ہے۔“
(الثامن والثلاثون، ج:4، ص:387، ط: دار الكتب العلمية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144701100460
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن