بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلبہ کی بچی ہوئی روٹیاں بیچنا


سوال

مدرسے کے طلباء کے  کھانا کھانے کے بعد جو روٹی بچ جائے اسے سوکھا کر مدرسہ کے اساتذہ آپس کے مشورے سے وہاں رائج روٹی کی قیمت سے ہٹ کر  اس کی قیمت متعین کرلیتے ہیں اور پھر اسی قیمت پر بیچتے ہیں۔

تنقیح: بازار کی عام قیمت سے ہٹ کر مشورے سے قیمت طے کرتے ہیں پھر مدرسہ کے ہی کوئی استاد  اسی قیمت پر خریدلیتے ہیں ؛تاکہ اس کا فائدہ ہوجائے۔

جواب

اگر مدرسہ کی طرف سے بطور اِباحت طلبہ کو کھانا کھلایا جاتا ہے اور انہیں مالک نہیں بنایا جاتا، تو ایسی صورت میں روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑے مدرسہ کی ملک ہیں،  اس کو عام بازار ی قیمت پر فروخت کرکے  اس کی رقم اسی  مدرسہ کی ضروریات میں استعمال کر لازم ہے۔

اگر روٹیاں یا ان پر خرچ کی گئی رقم کی تملیک طلبہ کو پہلے سے کرائی جا چکی ہو، یا روٹیاں انہیں گھروں سے وظیفے کے طور پر دی گئی ہوں، تو ایسی صورت میں بچے ہوئے ٹکڑے طلبہ کی ملکیت ہیں، لہٰذا طلبہ کی اجازت سے اسے فروخت کر کے حاصل شدہ رقم کو اُن کی ضروریات پر خرچ کرنا لازم ہے۔

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"‌إذا ‌أباح ‌أحد ‌لآخر ‌شيئا ‌من ‌مطعوماته فأخذه فليس له التصرف فيه بوجه من لوازم التملك كالبيع والهبة ولكن له الأكل والتناول من ذلك الشيء".

( ‌‌(المادة :875) أباح أحد لآخر شيئا من مطعوماته فأخذه، ج:2، ص:479، ط:دار الجيل)

 فتاوی تاتار خانیہ میں ہے :

"سئل أبو نصر عن رجل جمع مال الناس علي أان ينفقه في بناء المسجد فربما يقع في يده من تلك الدراهم فأنفقها في حوائجه ثم يرد بدلها في نفقة المسجد من ماله أيسع له ذلك ؟

قال: لا يسعه أن يستعمل من ذلك في حاجة نفسه فان عرف مالكه رد عليه وسأله تجديد الإذن فيه وإن لم يعرف إستأذن الحاكم فيما أستعمل وضمن فإن لم یقدر علی ذالك رجوت فی الإستحسان أن یجوز له أن ینفق مثل ذالك من ماله في المسجد".

(کتاب الوقف، ج:8، ص:174، مکتبه زکریا)

فتاوی شامی میں ہے:

"و لو خرب المسجد، و ما حوله و تفرّق الناس عنه لايعود إلى ملك الواقف عند أبي يوسف؛ فيباع نقضه بإذن القاضي و يصرف ثمنه إلى بعض المساجد اهـ."

(‌‌كتاب الوقف،سكن دارا ثم ظهر أنها وقف،٣٥٩/٤،ط: سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144702100695

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں