
کیا مدرسے کے استاد کے لیے ایسا کرنا جائز ہے کہ وہ 20 طالب علموں کے لیے 40 طالب علموں کی روٹی سالن گھروں سے اکٹھا کرے اور پھر جو روٹی بچ جائے ان کو سکھا کر بیچے اور اس سوکھی ہوئی روٹی سے حاصل ہونے والے پیسے اپنے ذاتی استعمال میں لائے؟
صورتِ مسئولہ میں مدرسہ کے استاذ کے لیے ضروری ہے کہ کھانا دینے والے لوگوں سے اتنا کھانا وصول کرے جو طلبہ کی ضرورت کے بقدر ہو، زائد وصول نہ کرے، پھر جو کھانا طالب علموں کے لیے وصول کیا گیا ہو، وہ طالب علموں ہی کے لیے مختص ہوگا، اگر کبھی کھانا زائد ہو جائے اور قابلِ استعمال نہ ہونے کی وجہ سے فروخت کرنا پڑے تو اس کی رقم بھی طلبہ کے کھانے پر خرچ کرنا ضروری ہوگا، اپنے ذاتی استعمال میں لانا جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے :
"وهنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره فتأمل."
(کتاب الزکات، ج:2، ص:269، سعید)
فتاوی تاتار خانیہ میں ہے :
"سئل أبو نصر عن رجل جمع مال الناس علي أان ينفقه في بناء المسجد فربما يقع في يده من تلك الدراهم فأنفقها في حوائجه ثم يرد بدلها في نفقة المسجد من ماله أيسع له ذلك ؟
قال: لا يسعه أن يستعمل من ذلك في حاجة نفسه فان عرف مالكه رد عليه وسأله تجديد الإذن فيه وإن لم يعرف إستأذن الحاكم فيما أستعمل وضمن."
(کتاب الوقف، ج:8، ص:177، مکتبه رشیدیه)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144702100692
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن