
چند شریکوں میں زمین مشترک ہے، جن کی تعداد سات ہے۔ زمین کا بٹوارہ نہیں ہوا ، لیکن حصص معلوم ہیں کہ فلاں کا اتنا حصہ اور فلاں کا اتنا حصہ ہے اور تعیین زمین نہیں ہوئی ،بلکہ حصص مشاع ہیں۔ایک شریک اپنا حصہ دوسرے شریک پر فروخت کرتا ہے اور شفیع کو خرید و فروخت کا علم ہوجانے کے بعد ایک دن اپنے گھر میں سکوت اختیار کر لیتا ہے اور دوسرے دن بائع کے پاس جا کر بد کلامی سے پیش آتا ہے اور دھمکی دینا شروع کردیتا ہے کہ فلاں شریک کو آپ نے زمین کیوں دی؟
اور پھر چند دن بعد مشتری پر حق شفعہ کا دعوی کرتا ہے کہ اس میں میرا حصہ ہے۔
یاد رہے کہ مشتری اور شفیع دونوں نفس مبیع میں شریک ہیں۔ کیا شفیع کو شفعہ کا حق ہوگا؟
صورتِ مسئولہ میں جب شفیع خریداری کا علم ہونے کے باجود ایک دن تک خاموش رہا اور پھر دوسرے دن بائع سے اس موضوع پر بدکلامی کی اور شفعہ کا مطالبہ چند دن بعد کیا تو خریداری کا علم ہوتے ہی طلب مواثبۃ (یعنی خریداری کا علم ہوتے ہی فورا شفعہ کا مطالبہ کرنا چاہے سامنے گواہ ہوں یا نہ ہوں) نہ کرنے اور پھر طلب مواثبۃ کے بعد طلب اشہاد (یعنی طلب مواثبۃ کے بعد زمین یا بیچنے والے یا خریدار کے پاس جا کر گواہوں کی موجودگی میں اس بات کا اقرار کرنا کہ میں شفعہ کا مطالبہ کر چکا ہوں اور ابھی بھی کرتا ہوں ) نہ کرنے کی وجہ سے شفعہ کا حق باطل ہوگیاہے، اب مذکورہ شریک کو شفعہ کا حق نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"ويطلبها الشفيع في مجلس علمه) من مشتر أو رسوله أو عدل أو عدد (بالبيع) وإن امتد المجلس كالمخيرة هو الأصح درر وعليه المتون، خلافا لما في جواهر الفتاوى أنه على الفور وعليه الفتوى (بلفظ يفهم طلبها كطلبت الشفعة ونحوه) كأنا طالبها أو أطلبها (وهو) يسمى (طلب المواثبة) أي المبادرة، والإشهاد فيه ليس بلازم بل لمخافة الجحود (ثم) يشهد (على البائع لو) العقار (في يده أو على المشتري وإن) لم يكن ذا يد لأنه مالك أو عند العقار (فيقول اشترى فلان هذه الدار وأنا شفيعها وقد كنت طلبت الشفعة وأطلبها الآن فاشهدوا عليه، وهو طلب إشهاد) ويسمى طلب التقرير (وهذا) الطلب لا بد منه،حتى لو تمكن ولو بكتاب أو رسول ولم يشهد بطلت شفعته
قوله خلافا لما في جواهر الفتاوى إلخ) أشار إلى عدم اختياره لمخالفته لظاهر المتون، لكن هذا القول مناسب لتسميته طلب المواثبة ولظاهر الحديث الآتي، وظاهر الهداية اختياره ونسبه إلى عامة المشايخ قال في الشرنبلالية وهو ظاهر الرواية، حتى لو سكت هنية بغير عذر ولم يطلب أو تكلم بكلام لغو بطلت شفعته كما في الخانية والزيلعي وشرح المجمع اهـ، وقوله وعليه الفتوى من كلام الجوهري وهذا ترجيح صريح مع كونه ظاهر الرواية فيقدم على ترجيح المتون بمشيهم على خلافه لأنه ضمني.
[فروع]
أخبر بكتاب والشفعة في أوله أو وسطه وقرأه إلى آخره بطلت هداية. سمع وقت الخطبة فطلب بعد الصلاة إن بحيث يسمع الخطبة لا تبطل وإلا ففيه اختلاف المشايخ، ولو أخبر في التطوع فجعله أربعا أو ستا فالمختار أنها تبطل لا إن أتم ما بعد الظهر أربعا في الصحيح، ولو ستا تبطل ولا تبطل إن أتم القبلية أربعا، وسلامه على غير المشتري يبطلها ولو عليه لا كما لو سبح أو حمدل أو حوقل أو شمت عاطسا تتارخانية: أي على رواية اعتبار المجلس كفاية وشرنبلالية.
مطلب لو سكت لا تبطل ما لم يعلم المشتري والثمن وفي الخانية: أخبر بها فسكت، قالوا لا تبطل ما لم يعلم المشتري والثمن، كالبكر إذا استؤمرت ثم علمت أن الأب زوجها من فلان صح ردها اهـ. أقول: وبه أفتى المصنف التمرتاشي في فتاواه فليحفظ
(قوله حتى لو تمكن إلخ) أشار إلى أن مدته مقدرة بالتمكن منه كما مر، فلو افتتح التطوع بعد طلب المواثبة قبل طلب الإشهاد بطلت خانية."
(کتاب الشفعۃ، ج:6، ص:224، ایچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101535
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن