بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کو ایسے شرط پر معلق کرنا جس کا وقوع عورت سے ہی معلوم ہو سکتا ہے


سوال

رمضان المبارک کے دوران شدید غصے کی حالت میں میرا اپنی اہلیہ کے ساتھ جھگڑا ہوا،( اس وقت اہلیہ کی گود میں ہمارا چار ماہ کا بچہ تھا) تکرار کے دوران اہلیہ کے ہاتھ سے بچہ فرش پر گر گیا، (اہلیہ کا موقف ہے کہ  غلطی  سے بچہ گرا ہے، جان بوجھ کر میں نے نہیں گرایا) مجھے اس پر مزید غصہ آیا اور میں نے ان سے مخاطب ہو کر یہ الفاظ کہے: "اگر تم نے بچہ جان بوجھ کر گرایا ہے اور اب ایکٹنگ کر رہی ہو، تو تم پر تین پتھر طلاق ہوگی"
اب میری اہلیہ حلفاً یہ بیان دے رہی ہیں کہ انہوں نے بچہ جان بوجھ کر نہیں گرایا بلکہ وہ غلطی سے گرا تھا،  چونکہ میں نے طلاق کو ایک خاص شرط (جان بوجھ کر گرانے) پر معلق کیا تھا اور اہلیہ اس شرط کے پائے جانے سے انکاری ہیں، تو کیا اس صورت میں کوئی طلاق واقع ہوئی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ جب طلاق کو کسی ایسے شرط پر معلق کیا جائے، جس کا علم صرف اس عورت سے ہی ہو سکتا ہو، تو اس  صورت میں عورت کے قول کا اعتبار کیا جاتا ہے، صورتِ مسئولہ میں عورت شرط کے وقوع سے انکاری ہے،ا س لئے کوئی  طلاق وقع نہیں ہوئی۔

رد المحتار علی الدر المختار میں ہے :

"ومفهومه أنها لا تطلق بمجرد طهرها من الحيضة الأخرى بل لا بد من الإخبار لما مر من أن ما لا يعلم إلا منها يتعلق بإخبارها."

(کتاب الطلاق، باب التعلیق، مطلب  في اختلاف الزوجين في وجود الشرط، ج :3، ص :362، ط : سعید)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144710100046

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں