بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق کے بغیر جدائی کی صورت میں بچی کی پرورش کا حق کس کو حاصل ہے؟


سوال

میری بیٹی  کی شادی کو ڈیڑھ سال کاعرصہ ہوا ہے،اور اس نکاح سے اس کی چھ ماہ کی بیٹی بھی ہے،اور میری بیٹی اب اپنےمیکے میں رہ رہی ہے  اس کا شوہر  فون کرکےصرف  اپنی چھ ماہ کی بیٹی  کو مانگ رہاہے ۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا یہ چھ ماہ کی بیٹی والدہ کے پاس ہونی چاہیے یا والد کے پاس ؟جبکہ دونوں میں طلاق نہیں ہوئی ہے صرف شوہر نے یہ کہاہے کہ مجھے آپ کے ساتھ نہیں رہنا ہے۔

جواب

صور ت مسئولہ میں لڑکی  کی پرورش کا حق نو سال تک والدہ کو حاصل ہوتا ہے،نوسال کے بعد پرورش کا حق پھر بچی کے والد کی طرف منتقل ہوجاتا ہے۔لہذا  زوجین کی جدائی کی صورت میں نو سال تک بچی والد ہ کے پاس رہے گی،نو سال بعد پھر والد کے پاس  رہے گی۔تاہم اس عرصہ میں والد جب بھی بیٹی کے ساتھ ملنا چاہیے تو والدہ کی طرف سے کوئی روکاوٹ نہیں ہونی چاہیے اسی طرح والدہ اگر بیٹی سے ملنا چاہیے تو والد کی طرف سے کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔یعنی دونوں جب چاہیے اپنی بیٹی سے ملاقات کرسکتے ہیں ۔

اور بچی کے متوسط اخراجات (کھانا پینا، کپڑے ،رہائش، تعلیمی اخراجات اور علاج معالجہ وغیرہ) والد کے ذمہ  لازم ہے، اگر وہ بچی کے اخراجات نہیں دیتا تو عدالتی کاروائی کے ذریعے اخراجات حاصل کیے جاسکتے ہیں۔

فتاوی ہندیہ  میں ہے:

حق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاحأو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي"

"والأم والجدة أحق بالغلام حتى يستغني، وقدر بسبع سنين، وقال القدوري: حتى يأكل وحده، ويشرب وحده، ويستنجي وحده. وقدره أبو بكر الرازي بتسع سنين، والفتوى على الأول. والأم والجدة أحق بالجارية حتى تحيض. وفي نوادر هشام عن محمد - رحمه الله تعالى -: إذا بلغت حد الشهوة فالأب أحق، وهذا صحيح. هكذا في التبيين".

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:541، ط:رشيدية)

وفیه ایضا:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي"

كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:543، ط:رشيدية)

فتاوى شامي میں ہے:

"وفي الحاوي: له إخراجه إلى مكان يمكنها أن تبصر ولدها كل يوم كما في جانبها فليحفظ. قلت: وفي السراجية: إذا سقطت حضانة الأم وأخذه الأب لا يجبر على أن يرسله لها، بل هي إذا أرادت أن تراه لا تمنع من ذلك".

(كتاب الطلاق، باب الحضانة، ج:3، ص:571، ط:سعيد)

فتاوی عالمگیریہ میں ہے:

"‌نفقة ‌الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كذا في الجوهرة النيرة".

(کتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:560، ط:رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701100793

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں