
ایک لڑکی ہے شادی شدہ ،کچھ عرصہ کے بعد وہ لڑکی 5 سال اپنے میکے رہ رہی تھی ،اب اسے طلاق ہو گئی ہے ۔کیا اب اس پر عدت واجب ہے یا نہیں ؟
عورت کو طلاق ملنے کے بعد عدت گزارنا ضروری ہے،اگر چہ وہ طویل عرصہ سے میکے رہ رہی ہو، اور عدت کی مدت حیض(ماہواری ) والی عورت کے لیے تین حیض(ماہواریاں ) ہیں، اور اگر عورت طلاق کے وقت حاملہ ہو تو پھر عدت کی مدت وضع حمل ہے، یعنی جب بچہ پیدا ہوجائے تو عدت ختم ہوجائے گی۔اور اگر عورت کو عمر کے کم یا زیادہ ہونے کی وجہ سے حیض نہیں آتا تو اس کی عدت تین ماہ ہوگی ۔
تحفة الفقہاء میں ہے:
"وأما عدة الطلاق فثلاثة قروء في حق ذوات الأقراء إذا كانت حرة .....وأما في حق الحامل فعدتها وضع الحمل لا خلاف في المطلقة لظاهر قوله: {وأولات الأحمال أجلهن أن يضعن حملهن }."
(تحفة الفقهاء: كتاب الطلاق، باب العدة (2/ 244، 245)،ط. دار الكتب العلمية،بيروت )
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144612100928
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن