
میرے شوہر نے مجھے تین طلاقیں دے دی ہیں اور اس پر میں پہلے دارالافتاء سے فتوی لے چکی ہوں ، جس کے مطابق مجھے تین طلاقیں ہوچکی ہیں۔اور عدت گزر چکی ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ طلاق کے بعد میرے بچوں کا خرچہ کس کے ذمے ہوگا ؟میں اکیلی ہوں، الگ سے کرایہ کے گھر میں رہتی ہوں،تو اس کا کرایہ کون دے گا؟ شوہر اگر خرچہ نہ دے تو اس صورت میں کیا حکم ہے؟
اسی طرح میرا حق مہر ایک لاکھ روپے تھا جو انہوں نے اب تک ادا نہیں کیا ہےاوردینے سےانکار کررہاہے تو اس کا کیا حکم ہے؟
1.صورت مسئولہ میں بیٹیوں کا نان ونفقہ ان کی شادیاں ہونے تک والد ہی کے ذمہ ہے، خواہ لڑکیاں ماں کی پرورش میں رہیں، اور بیٹوں کا نفقہ جب تک وہ کمانے کے قابل نہ ہوجائیں اس وقت تک والدہی کے ذمہ ہے خواہ بچہ والدہ کے پاس رہے، اگر والد استطاعت کے باوجود بچوں کا نان نفقہ نہیں دے گا تو وہ گناہ گار ہوگا، والد پر لازم ہےکہ اپنے بچوں کے حقوق پورا کرنے کی کوشش کرے،اور اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں غفلت اور لاپرواہی کا معاملہ نہ کرے اور بچوں کی رہائش کے اخراجات (کرایہ وغیرہ) بھی بچوں کے نفقہ میں شامل ہیں ،اور کرایہ کی وہ مقدار جو بچوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے ہے (یعنی بچوں کے رہنے کا حصہ)، وہ بھی باپ پر لازم ہےاور اگر والد نان ونفقہ وغیرہ نہ دے تو سائلہ کو اپنے حق کی وصولی کے لئے قانونی چارہ جوئی کا حق حاصل ہوگا۔
2. نکاح کے وقت مقرر کردہ حق مہر شوہر نے اگر ابھی تک ادا نہ کیا ہو تو طلاق کے بعد طے شدہ (ایک لاکھ) مکمل حق مہر مطلقہ کا حق ہے جس کی ادئیگی شرعاً اس کے شوہر پر لازم ہے۔شوہرکا حقِ مہر ادا کرنےسےانکار کرناشرعاًناجائز ہے، یہ عورت کا حق ہے، شوہر جب تک نہیں دے گا ، یہ اس کے ذمہ سے ساقط نہیں ہوگا۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد، كذا في الجوهرة النيرة."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج:1، ص:560، ط:رشیدیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وكذا) تجب (لولده الكبير العاجز عن الكسب) كأنثى مطلقا."
(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:614، ط:سعید)
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"و نفقة الإناث واجبة مطلقًا على الآباء ما لم يتزوجن إذا لم يكن لهن مال، كذا في الخلاصة.
و لايجب على الأب نفقة الذكور الكبار إلا أن يكون الولد عاجزًا عن الكسب لزمانة، أو مرض و من يقدر على العمل لكن لايحسن العمل فهو بمنزلة العاجز، كذا في فتاوى قاضي خان."
(كتاب الطلاق، الباب السابع عشر في النفقات، الفصل الرابع في نفقة الأولاد، ج: 1،ص:563، ط:دار الفكر)
فتاوی شامی میں ہے:
"باب النفقة: هي لغةً ما ينفقه الإنسان على عياله، وشرعا (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة زوجية وقرابة وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة، بحر (على زوجها) لأنها جزاء الاحتباس، وكل محبوس لمنفعة غيره يلزمه نفقته……..….. (بقدر حالهما) به يفتى، ويخاطب بقدر وسعه، والباقي دين إلى الميسرة، ولو موسرا وهي فقيرة لا يلزمه أن يطعمها مما يأكل، بل يندب."
(كتاب الطلاق، باب النفقة، ج:3، ص:575،574، ط:سعید)
حاشیۃ الطحطاوی علی الدر میں ہے:
"(وتجب) النفقة بأنواعها على الحر (لطفله) يعم الأنثى والجمع (الفقير) الحر.
قال الشارح: قوله : ( بأنواعها) الثلاثة الملبوس، والمأكول، والسكنى، لكن في إيجاب السكنى نظر فإن الطفل لا يحتاج إليها اللهم إلا أن يقال : إنوجوبها فيما إذا كان محضونًا، وطلبت الحاضنة السكنى كما مر في الحضانة.قوله : (عَلَى الحُر) أما العبد فإن كانت زوجته حرة أو مكاتبة فنفقة الولد عليها، وإن كانت أمه فنفقته على مالكها ، ويأتي بعض هذا في الشرح".
(کتاب الطلاق، باب النفقة، ج:5، ص:214، دار الکتب العلمیة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وروي عن رسول اﷲ صلی اﷲ علیه وسلم، أنه قال من کشف خمار امرأته ونظر إلیها وجب الصداق دخل بها، أو لم یدخل وهذا نص في الباب."
( کتاب النکاح، فصل و أما بیان مایتأکد به المهر، ج:2،ص:292، ط: دار الكتب العلمية)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"و الدليل عليه أنها تحبس نفسها؛ لاستيفاء المهر، و لاتحبس المبدل إلا ببدل واجب و إن بعد الدخول بها يجب. و لا وجه لإنكاره؛ لأنه منصوص عليه في القرآن."
(كتاب النكاح، باب المهور،ج:5، ص: 63، ط: بيروت)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"المهر يتأكد بأحد معان ثلاثة: الدخول، والخلوة الصحيحة، وموت أحد الزوجين سواء كان مسمى أو مهر المثل حتى لا يسقط منه شيء بعد ذلك إلا بالإبراء من صاحب الحق، كذا في البدائع."
(كتاب النكاح، الباب السابع في المهر، الفصل الثاني فيمايتاكد به المهر، ج: 1، ص: 304، ط: دارالفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703101800
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن