بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاقِ معلق کی صورت میں ایک بارشرط پائے جانے کے بعد شرط باقی رہے گی یاختم ہوجائے ؟


سوال

میری بیوی اجنبی لڑکوں کے ساتھ فون پر باتیں کرتی تھی، تو میں نے اسے کہا تھا کہ”اگر تم نے دوبارہ موبائل پر کسی لڑکے سے بات کی تو تومجھ پر طلاق ہے۔“

مجھے اس بات میں شک ہے کہ میں نے "طلاق ہے" کے ساتھ لفظ "حرام" بھی کہا تھا یا نہیں، میری بیوی کا کہنا ہے کہ میں نے وہ لفظ نہیں کہا تھا، میں نے مزید یہ بھی کہا تھا کہ "پھر مجھ سے شکوہ مت کرنا، میں کچھ نہیں کر پاؤں گا،" یہ بات تقریباً بیس مہینے پہلے کی ہے، اور میں وقتاً فوقتاً اسے یہ بات یاد بھی دلاتا رہا کہ ایسا مت کرنا۔بیس دن پہلے میری بیوی نے ایک لڑکے سے بات چیت کر لی تھی، اور میں نے عدت کے اندر اس سے رجوع بھی کرلیا تھا۔

2۔1۔اب سوال یہ ہےکہ  کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں ؟اورکیایہ شرط آئندہ کےلئےبھی باقی رہےگی یاختم ہوگئی ہے؟

3۔اورکیاہم ساتھ رہ سکتےہیں؟

جواب

2۔1۔صورت مسئولہ جب سائل نے اپنی کے اجنبی لڑکوں سے بات کرنے پر  اپنی بیوی کی طلاق کو  معلق كركے يه كها تھا کہ "اگر تم نے دوبارہ موبائل پر کسی لڑکے سے بات کی تو تومجھ پر طلاق ہے۔"اور بیوی نے بیس دن پہلے کسی اجنبی سے بات کی ہے تو شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک  طلاقِ رجعی واقع ہوگئی اور شرط پوری ہو گئی۔اور سائل کی جانب سے عورت کی عدت میں رجوع کرلینے سے نکاح برقرار رہا۔

تعلیق ختم ہوچکی ہے ، دوبارہ اجنبی سے گفتگو کرنے پر مزید طلاق تو واقع نہ ہوگی ، البتہ عورت کا اجنبی لڑکوں سے بلاضرورت بات چیت کرنا شرعاً حرام اور ناجائز ہے ، عورت کو اپنے گزشتہ فعل پر بھی صدق دل سے توبہ وا ستغفار کرنا چاہیے، اور آئندہ بھی اس فعل سے مکمل طور پر اجتناب کرنا لازم ہے ۔ 

سائل کو لفظ "حرام" کہنے میں شک ہے، لہٰذا اس شک کی بنیاد پر کوئی اور طلاق واقع نہیں ہوئی۔

3۔طلاق کےبعداگردوران ِعدت سائل نےرجوع کرلیاتھاتوساتھ رہناجائزہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وإذا أضافه إلى الشرط ‌وقع ‌عقيب ‌الشرط ‌اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

(کتاب الطلاق، الفصل الثالث في تعليق الطلاق بكلمة إن وإذا وغيرهما، ج: 1، ص: 420، ط:دار الفكر بيروت)

الدرالمختاروردالمحتارمیں ہے:

"(وألفاظ الشرط) أي علامات وجود الجزاء (إن) المكسورة....(وإذا وإذا ما وكل و) لم تسمع (كلما) إلا منصوبة ولو مبتدأ لإضافتها لمبني (ومتى ومتى ما) ونحو ذلك كلو كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها(وفيها) كلها (تنحل) أي تبطل (اليمين) ببطلان التعليق (إذا وجد الشرط مرة إلا في كلما فإنه ينحل بعد الثلاث) لاقتضائها عموم الأفعال.

(قوله أي تبطل اليمين) أي تنتهي وتتم، وإذا تمت حنث فلا يتصور الحنث ثانيا إلا بيمين أخرى لأنها غير مقتضية للعموم والتكرار لغة نهر (قوله ببطلان التعليق) فيه أن اليمين هنا هي التعليق (قوله إلا في كلما) فإن اليمين لا تنتهي بوجود الشرط مرة."

(کتاب الطلاق، ج: 3، ص:،350۔ 352، ط: سعید)

الاشباہ والنظائر میں ہے:

"ومنها: شك هل طلق أم لا؟ لم یقع. شك أنه طلق واحدةً أو أکثر؟ بنی علی الأقل، کما ذکر الإسبیجابي."

(قاعدة: من شك هل فعل أم لا، ص: 52، ط: العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"فإنا نجيز الكلام مع النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها؛ لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن، وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة."

 (‌‌كتاب الصلاة، مطلب في ستر العورة، ج: 1، ص: 406، سعيد)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100265

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں