بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

طلاق بالمال میں مہر سے زائد رقم لینے کا حکم


سوال

ایک لڑکی نکاح کے بعد دو تین دن سسرال میں رہی اور پھر اپنے میکے واپس چلی گئی، اور وہ کہتی ہے کہ اگر میں سسرال گئی تو مر جاؤں گی، لہٰذا مجھے طلاق چاہئے، میں وہاں نہیں رہنا چاہتی۔ لڑکا پہلے طلاق کے لیے تیار نہیں تھا، اب تیار ہو چکا ہے، لیکن ان کا کہنا ہے کہ ہم نے شادی پر بہت خرچ کیا ہے، لہٰذا تین لاکھ دے دو، پھر ہم طلاق دے دیں گے۔ جبکہ لڑکی اپنا حق مہر اور جو سسرال کے تحفے تحائف تھے، سب واپس کرچکی ہے، کیونکہ لڑکے  والے پہلے سے ہی وہ سب کچھ مانگ رہے تھے۔ اوراب  لڑکی کا جہیز کا سامان روک رکھا ہے، اور کہتے ہیں کہ تین لاکھ دو اور طلاق اور جہیز کا سامان لے لو۔

الف: کیا لڑکے والوں کے لیے تین لاکھ کا مطالبہ درست ہے جبکہ لڑکی حق مہر اور تحفے تحائف لوٹا چکی ہے؟

ب: لڑکے والوں نے لڑکی کا جہیز کا سامان روکا ہے کہ تین لاکھ روپے دو، طلاق لے لو اور سامان لے جاؤ۔ کیا لڑکے والوں کا ایسا کرنا درست ہے؟

جواب

 واضح رہے کہ بغیر عذر کے طلاق دینا یا خلع کا مطالبہ کرنا درست نہیں ، اس لیے زوجین کو چاہیے کہ وہ حتی الامکان گھر بسانے کی کوشش کریں، اور ناخوشگواریوں پر صبر و تحمل سے کام لیں۔ زوجین ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں۔ اگر  باہم حل نہ ہو رہا ہو تو خاندان کے بڑے اور معزز لوگوں سے بات چیت کرکے مسئلے کا حل نکالا جائے، یعنی جس قدر ممکن ہو رشتہ کو برقرار رکھنے کی کوشش کی جائے۔ لیکن اگر نباہ کی کوئی صورت نہ بن سکے، اور دونوں میاں بیوی کو ڈر ہو کہ وہ اللہ کی حدود کو قائم نہیں رکھ سکیں گے، تو اس صورت میں جدائی کا راستہ اختیار کیا جاسکتا ہے ۔

الف :صورتِ مسئولہ میں اگر زیادتی لڑکی کی طرف سے ہو، تو لڑکے والے  طلاق  کے بدلے میں مہر کے بقد رمطالبہ کر سکتے ہیں۔ مہر سے زائد رقم لینا شرعاً ناپسندیدہ (مکروہ) ہے۔

اور اگر زیادتی لڑکے والوں کی طرف سے ہو، تو ان کے لیے طلاق کے بدلے کسی قسم کا مالی مطالبہ کرنا شرعاً جائز نہیں ۔

ب: شریعت میں کسی مال کو اس کے مالک کی اجازت کے بغیر روک کر، اس پر اپنے مقاصد (مثلاً رقم کے حصول) کے لیے دباؤ ڈالناشرعاً ناجائز ہے ۔ لہٰذا اگر صورتِ مسئولہ میں سائل کا بیان واقعی درست ہے، تو لڑکے والوں کا جہیز کے سامان کو روک کر رکھنا  ،ناجائز  عمل ہے۔

مشكاة المصابيح میں ہے:

"وعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌ألا ‌تظلموا ‌ألا ‌لا ‌يحل ‌مال ‌امرئ ‌إلا ‌بطيب ‌نفس ‌منه» . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."

(‌‌‌‌باب الغصب والعارية، الفصل الثاني، ج : 2، ص : 889، برقم : 2946، ط : المكتب الإسلامي)

الاختيار لتعليل المختار میں ہے:

"قال: (وهو أن تفتدي المرأة نفسها بمال ليخلعها به، فإذا فعلا لزمها المال ووقعت تطليقة بائنة) والأصل في جوازه قوله تعالى: {فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] ، وإنما تقع تطليقة بائنة لقوله عليه الصلاة والسلام: «الخلع تطليقة بائنة».

قال: (ويكره أن يأخذ منها شيئا إن كان هو الناشز) قال تعالى: {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] فحملناه على الكراهية عملا بالنص الأول، وقيل هي نهي توبيخ لا تحريم، (وإن كانت هي الناشزة كره له أن يأخذ أكثر مما أعطاها) لما روي «أن جميلة بنت عبد الله بن أبي ابن سلول، وقيل حبيبة بنت سهل كانت تحت ثابت بن قيس بن شماس، فأتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله لا أنا ولا هو، فأرسل رسول الله إلى ثابت، فقال: قد أعطيتها حديقة، فقال لها: " أتردين عليه حديقته وتملكين أمرك؟ فقالت نعم وزيادة، قال: أما الزيادة فلا، فقال عليه الصلاة والسلام: يا ثابت خذ منها ما أعطيتها ولا تزدد وخل سبيلها. ففعل وأخذ الحديقة، فنزل قوله تعالى: {ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا} [البقرة: 229] إلى قوله: {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] » .

(وإن أخذ منها أكثر مما أعطاها حل له) بمطلق الآية.

قال: (وكذلك إن طلقها على مال فقبلت وقع الطلاق بائنا) لما قلنا، (ويلزمها المال بالتزامها) ولأنه ما رضي بالطلاق إلا ليسلم له المال المسمى، وقد ورد الشرع به فيلزمها."

(کتاب الطلاق، ‌‌باب الخلع، ج : 3، ص : 156 ،157، ط : دار الكتب العلمية)

درر الحکام فی شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:

"‌‌لا يجوز لأحد أن يتصرف في ملك الغير بلا إذنه، هذه المادة مأخوذة من المسألة الفقهية (لا يجوز لأحد التصرف في مال غيره بلا إذنه ولا ولايته) الواردة في الدر المختار."

(المقالة الثانية في بيان القواعد الكلية الفقهية، المادة 96،  ج :1، ص : 96، ط : دار الجیل)

فقط واللہ أعلم


فتویٰ نمبر : 144701101514

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں