بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

کمپنی کی جانب سے ملازمین کےلیےلی گئی تکافل پالیسی سے فائدہ اٹھانےکاحکم


سوال

میں ایک کمپنی میں بحیثیت ڈائریکٹر کام کررہا ہوں، کمپنی نے تمام ڈائریکٹرز کے لیے 2016 میں ایک تکافل پالیسی لی،جس کے تحت کمپنی ہر ڈائریکٹر کی طرف سے سال کے ،150،000 (ایک لاکھ پچاس ہزار ) روپے جمع کروارہی تھی، کمپنی نے یہ پالیسی سال 2025 میں ختم کردی، اس طرح کمپنی نے میری طرف سے کُل رقم -/ 13،50،000 ( تیرہ لاکھ پچاس ہزار ) روپے ادا کیے، اس رقم پر جو نفع ملا وہ : 513،696 (پانچ لاکھ تیرہ ہزار چھ سو چھیانوے ) روپے ہے، کُل رقم جو ، 2025 میں میری ملکیت میں آئی وہ : 1863،696( اٹھارہ لاکھ تریسٹھ ہزار چھ سو چھیانوے ) روپے ہے، تکافل کمپنی نے اس رقم پر میرے منع کرنے پر زکات ادا نہیں کی، میرا ارادہ ہے کہ زکات میں خود ادا کروں گا، برائے مہربانی يہ بتائے کہ زکات ہر سال کی علیحدہ علیحدہ ادا كرناهوگی؟ یاایک ہی مرتبہ کُل رقم پر  زکات ادا ہوگی؟ یہ بھی بتائیں کہ اس رقم پر حاصل ہونے والا نفع حلال ہے یا حرام؟ میرے ذمہ زکات کی کُل واجب الادا رقم بتادیں!

جواب

صورتِ مسئولہ میں سائل کی تنخواہوں سے جمع شدہ رقم (13,50,000 - تیرہ لاکھ پچاس ہزار) سائل کی ملکیت ہے، اس کا وصول کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ اس کے علاوہ جو اضافی رقم ہے (5,13,696 - پانچ لاکھ تیرہ ہزار چھ سو چھیانوے)اس کووصول کرناجائزنہیں،کیوں کہ یہ اضافی رقم سودہے۔

نیزیہ رقم وصول ہونے اور آپ کے قبضہ میں آنے سے پہلے اس پرزکات لازم نہیں تھی وصول ہوجانےکےبعداسےپہلےسے ملکیت میں موجوداموال زکات کےساتھ ملاکر ان کی زکات اداکی جائےگی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وجملة الكلام في الديون أنها على ثلاث مراتب في قول أبي حنيفة: دين قوي، ودين ضعيف، ودين وسط كذا قال عامة مشايخنا أما القوي فهو الذي وجب بدلا عن مال التجارة كثمن عرض التجارة من ثياب التجارة، وعبيد التجارة، أو غلة مال التجارة ولا خلاف في وجوب الزكاة فيه إلا أنه لا يخاطب بأداء شيء من زكاة ما مضى ما لم يقبض أربعين درهما، فكلما قبض أربعين درهما أدى درهما واحدا، وعند أبي يوسف ومحمد كلما قبض شيئا يؤدي زكاته قل المقبوض أو كثر... وأما الدين الضعيف فهو الذي وجب له بدلا عن شيء سواء وجب له بغير صنعه كالميراث، أو بصنعه كما لوصية، أو وجب بدلا عما ليس بمال كالمهر، وبدل الخلع، والصلح عن القصاص، وبدل الكتابة ولا زكاة فيه ما لم يقبض كله ويحول عليه الحول بعد القبض."

(كتاب الزكاة، فصل في الشرائط التي ترجع الي المال، ج؛2، ص:10، ط: دار الكتب)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144703100529

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں