بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تکبر کی تعریف اور اس کی اقسام


سوال

تکبر کسے کہتے ہیں؟  تکبر کی اقسام کیا ہیں؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں راہ نمائی فرمائیں۔

جواب

تکبر کے لغوی معنی بڑائی کے ہیں، اصطلاح میں تکبر کہتے ہیں ایک ایسی انسانی کیفیت و حالت کو جس میں انسان اپنے آپ کو دوسرے انسانوں سے زیادہ فوقیت اور فضیلت دیتا ہے، حدیث شریف میں تکبر کی دو قسمیں بیان کی گئی ہیں: 1: حق کی مخالفت کرنا، 2: لوگوں کو حقیرسمجھنا، جیسے کہ مسلم شریف میں درجِ ذیل ہے:

"عن عبد الله بن مسعود، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يدخل الجنة من كان في قلبه مثقال ذرة من كبر» قال رجل: إن الرجل يحب أن يكون ثوبه حسنا ونعله حسنة، قال: «إن الله جميل يحب الجمال، الكبر بطر الحق، وغمط الناس»".

(صحیح مسلم، کتاب الإیمان، باب تحريم الكبر وبيانه، رقم الحدیث:147، ج:1، ص:193، ط:دار إحیاء التراث العربي)

ترجمہ: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جنت میں داخل نہ ہوگا وہ شخص جس کے دل میں ذرہ برابر بھی تکبر ہو، پھر ایک شخص نے کہا: بلاشبہ ہر شخص چاہتا ہے کہ اس کے کپڑے اچھے ہو، اور چپل خوبصورت ہو، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ بلاشبہ اللہ تعالیٰ خوبصورت ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں، تکبر نام ہے حق کے انکار کا اور لوگوں کو اپنے سے حقیر سمجھنے کا۔

امام محمد غزالی رحمہ اللہ نےتکبر کی متکبر علیہ کے اعتبار سے تین اقسام بیان کئے ہیں، جو درجِ ذیل ہے:

1: وہ تکبر جو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ہو جیسے ابلیس، نمرود اور فرعون کا تکبر یا ایسے لوگوں کا تکبر جو خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے بندوں سے نفرت کے طور پر منہ پھیرتے ہیں۔ 

2: تکبر جو اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقابلے میں ہو ،جس طرح کفارِ مکہ نے کیا اور کہا کہ ہم آپ جیسے بشر کی اطاعت نہیں کریں گے ،ہماری ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ نے کوئی فرشتہ یا سردار کیوں نہیں بھیجا، آپ تو ایک یتیم شخص ہیں۔

3:وہ تکبر جو آدمی عام انسانوں پر کرے، جیسے انہیں حقارت سے دیکھے ،حق کو نہ مانے اور خود کو بہتر اور بڑا جانے۔ 

إحياء علوم الدين میں ہے:

"التكبر باعتبار المتكبر عليه ثلاثة أقسام

الأول التكبر على الله وذلك هو أفحش أنواع الكبر ولا مثار له إلا الجهل المحض والطغيان مثل ما كان من نمروذ فإنه كان يحدث نفسه بأن يقاتل رب السماء وكما يحكى عن جماعة من الجهلة

بل ما يحكى عن كل من ادعى الربوبية مثل فرعون وغيره فإنه لتكبره قال أنا ربكم الأعلى إذ استنكف أن يكون عبدا لله ولذلك قال تعالى إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين وقال تعالى لن يستنكف المسيح أن يكون عبدا لله ولا الملائكة المقربون الآية وقال تعالى وإذا قيل لهم اسجدوا للرحمن قالوا وما الرحمن أنسجد لما تأمرنا وزادهم نفورا

القسم الثاني التكبر على الرسل من حيث تعزز النفس وترفعها على الانقياد لبشر مثل سائر الناس وذلك تارة يصرف عن الفكر والاستبصار فيبقى في ظلمة الجهل بكبره فيمتنع عن الانقياد وهو ظان أنه محق فيه وتارة يمتنع مع المعرفة ولكن لا تطاوعه نفسه للإنقياد للحق والتواضع للرسل كما حكى الله قولهم أنؤمن لبشرين مثلنا {وقولهم} إن أنتم إلا بشر مثلنا ولئن أطعتم بشرا مثلكم إنكم إذا لخاسرون وقال الذين لا يرجون لقاءنا لولا أنزل علينا الملائكة أو نرى ربنا لقد استكبروا في أنفسهم وعتوا عتوا كبيرا وقالوا لولا أنزل عليه ملك وقال فرعون فيما أخبر الله عنه {أو جاء معه الملائكة مقترنين} وقال الله تعالى {واستكبر هو وجنوده في الأرض بغير الحق} فتكبر هو على الله وعلى رسله جميعا

القسم الثالث التكبر على العباد وذلك بأن يستعظم نفسه ويستحقر غيره فتأبى نفسه عن الانقياد لهم وتدعوه إلى الترفع عليهم فيزدريهم ويستصغرهم ويأنف عن مساواتهم وهذا وإن كان دون الأول والثاني فهو أيضا عظيم من وجهين أحدهما أن الكبر والعز والعظمة والعلاء لا يليق إلا بالملك القادر فأما العبد المملوك الضعيف العاجز الذي لا يقدر على شيء فمن أين يليق بحاله الكبر فمهما تكبر العبد فقد نازع الله تعالى في صفة لا تليق إلا بجلاله".

(کتاب بيان ذم الكبر، أقسام التکبر، ج:3، ص:345، ط:دارالمعرفۃ)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144412100696

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں