بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تجدید ایمان کا طریقہ


سوال

جب میں نے تجدید ایمان کیا تو میں نے یہ کلمہ پڑھا:

أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله

اور کلمہ طیبہ بھی پڑھا:

لاَ اِلٰہَ اِلَّا اﷲُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اﷲ

تو کیا میرا تجدید ایمان ہوگیا ہے؟ اور اپنے گناہوں پر استغفار بھی کیا اور اب میں نے ایک ویڈیو دیکھی، جس میں ایک بندہ مسلمان ہوتا ہے تو اس نے یہ کلمہ پڑھا ہے: أشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله، تو اب مجھے یہ بتائیں  کہ دونوں کلمہ ایک جیسے ہیں اور دونوں کا معنیٰ بھی ایک ہے تو جب میں نے تجدید ایمان کیا اس کلمہ سےأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله تو میرا تجدیدِ ایمان ہوگیا ہے ؟کیونکہ تجدید ایمان کے بعد تجدیدِ نکاح بھی میں نے کیا ہے۔

جواب

صورت مسئولہ میں جب آپ نے تجدید ایمان کے لیے کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑھ لیا تو ان الفاظ کے ذریعے آپ کا تجدید ایمان کرنا درست ہو گیا، اس کے بعد شک اور شبہ کی ضرورت نہیں ۔

آپ نے ویڈیو میں اگر کسی کو مذکورہ کلمہ پڑھتے ہوئے دیکھا جس میں "وحدہ لا شریک لہ "کے الفاظ نہیں ہیں تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، آپ نے جو کلمہ پڑھا ہے وہ تجدید ایمان کے لیے درست ہے۔

حدیث شریف میں ہے: 

"حدثنا داود بن رشيد، حدثنا الوليد يعني ابن مسلم، عن ابن جابر، قال: حدثني عمير بن هانئ، قال: حدثني جنادة بن أبي أمية، حدثنا عبادة بن الصامت، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " من قال: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له، وأن محمدا عبده ورسوله، وأن عيسى عبد الله، وابن أمته، وكلمته ألقاها إلى مريم وروح منه، وأن الجنة حق، وأن النار حق، أدخله الله من أي أبواب الجنة الثمانية شاء."

(صحیح مسلم، باب من لقي الله بالإيمان وهو غير شاك فيه دخل الجنة وحرم على النار، ج: 1، صفحہ: 57، رقم الحدیث: 46، ط: دار إحياء التراث العربي - بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144706100777

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں