بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تحریراًخلع دینے پر مجبور کیا جائے تو خلع ہوجائے گی؟/ بچی کے نفقہ کے عوض خلع لینے کا حکم


سوال

 میرا سوال یہ ہے کہ میری سابقہ بیوی نے 12 اگست 2025 کو خلع لی تھی اور یہ خلع عدالت میں نہیں ہوئی، بلکہ اسٹامپ پیپر پر تحریر کی گئی جس پر مجھ سے زبردستی دستخط کروائے گئے۔ میری ایک بیٹی بھی ہے جس کی عمر ڈیڑھ سال ہے اور وہ ابھی دودھ پیتی ہے۔ میری سابقہ بیوی کے گھر والوں نے اسٹامپ پیپر پر یہ بھی لکھوایا کہ ”والد بچی کی سرپرستی کا دعویٰ بلوغت کی عمر تک نہیں کر سکتا“۔ یہ سب کچھ لڑکی والوں نے پولیس اسٹیشن میں پولیس کے زور سے کروایا، اور مجھے مجبور کیا گیا کہ میں خلع نامہ اور بچی سے متعلق ان باتوں پر دستخط کروں۔

ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی لکھوایا کہ” والد بچی سے ملاقات صرف جرگے کی صورت میں کر سکتا ہے، بصورتِ دیگر ملاقات نہیں ہو سکتی اور نہ ہی بچی کے خرچ کے لیے کچھ دے گا۔“
میں صرف اس بات پر پریشان ہوں کہ بطور والد بچی کا مجھ پر جو حق ہے، اگر میں وہ ادا نہیں کرتا تو کیا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آ جاؤں گا؟ کیوں کہ بچی کا والد پر حق ہوتا ہے۔
برائے مہربانی اس معاملے میں میری راہ نمائی کی جائے۔

دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر اس طرح زبردستی خلع لی جائے جیسا کہ مجھ سے زبردستی پولیس اسٹیشن میں دستخط کروائے گئے، تو کیا ایسی خلع کے بعد اگر میاں بیوی دوبارہ رجوع کرنا چاہیں تو اللہ تعالیٰ کا اس بارے میں کیا حکم ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر واقعتاً    سائل سےخلع لینے کے لیے  خلع کے لیے تیار کردہ اسٹامپ پیپر پر زبردستی دستخط کروائے گئے توایسی صورت میں  اگر سائل کو مارنے یا قید کرنے کی دھمکی دی گئی تھی اور سائل کا غالب گمان یہ تھا کہ اگر وہ دستخط نہیں کرے گا تو اسے مارا جائے گا یا قید کر لیا جائے گاتوصرف   اسٹامپ پیپر پر دستخط کر نے سے خلع یا طلاق نہیں ہوئی، اور اگر اس درجہ کی زبردستی نہیں تھی یا  سائل نے  زبان سے بھی  خلع  کے الفاظ ادا کر دیے تھے تو ان دونوں صورتوں  میں خلع  واقع ہوگئی ہے۔

 اگر مصدقہ ذرائع سے پہلی صورت ثابت ہوتی ہے تو پہلی صورت میں جب خلع  نہیں ہوئی تو سائل کی بیوی اب تک سائل کے نکاح میں ہے اور سائل کواپنی  بیو ی  کے ساتھ رہ کر گھر بسانے  کا حق حاصل ہےاوربیوی کے لیے دوسری جگہ نکاح کرنا ناجائز ہے، البتہ آپس کے معاملات کو خاندان کے بڑوں کے ذریعے حل کر ا  لیا جائے۔

اور  مذکورہ بالا تفصیل کے مطابق   اگر سائل پر دستخط کرنے کے لیے مذکورہ درجہ کی زبردستی نہیں کی گئی تھی یا  سائل نے خلع یا طلاق کے الفاظ ادا کردیے تھےتو ان صورتوں میں خلع ہوگئی ہے ، اور سائل نے اسٹامپ پیپر پر  اس شرط کولکھا تھا یا اس کو پڑھ کر دستخط کیے تھے کہ”  والد بچی کی سرپرستی کا دعویٰ بلوغت کی عمر تک نہیں کر سکتا“ اور ” والد بچی سے ملاقات صرف جرگے کی صورت میں کر سکتا ہے، بصورتِ دیگر ملاقات نہیں ہو سکتی اور نہ ہی بچی کے خرچ کے لیے کچھ دے گا“ تو اس صورت میں سائل کو بچی کے بالغ ہونے تک اپنے پاس لانے کا اختیار نہیں ہوگا،  اور حسبِ معاہدہ سائل کے ذمہ  بچی کے بالغ ہونے تک اس کا نفقہ بھی  لازم نہیں ہوگا۔  البتہ سائل اپنی طرف سے کچھ دے دے تو یہ اس کی طرف سے تبرع ہوگا،تاہم سائل کو بچی سے ملنے کا حق ہوگا اور اس کو بچی سے ملنے سے روکنے کاشرعاً کسی کو اختیار نہیں ہوگا۔

البتہ مذکورہ معاہدہ اس وقت درست ہوگا جب بچی کے حقوق ضائع ہونے کا اندیشہ نہ ہو چنانچہ  اگر سائل کی مطلقہ بچی کے کسی  نامحرم سے شادی کر لے  یابچی کے  حقوق ضائع ہونے کا اندیشہ ہو مثلاً بچی کی دینی و اخلاقی تربیت بگڑ رہی  ہو تواس صورت میں یہ معاہدہ نافذ العمل نہیں رہے گا اور  بچی کے حق کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے والد (سائل) کو بچی اپنی تربیت میں لینے کا حق  حاصل ہوگا، اس لیے کہ مذکورہ معاملہ میں اولاد بذاتِ خود ایک فریق ہے اور ماں باپ کو ان کے  مفادات کے خلاف کسی قسم کے معاہدہ یا سودا بازی کا شرعاً اختیار نہیں، جب کہ بچوں کی پرورش  درست طریقہ سے نہ ہو یا ان کو بھوکا پیاسا رکھنا ان کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی یہ سب ان کے مفادات کے خلاف ہے جو کہ درست نہیں ۔

تاہم اس صورت میں خلع ہوجانے کے بعد اگر سائل اور اس  کی سابقہ بیوی ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نیا مہر مقرر کر کے دو گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب و قبول کے ساتھ نکاح کر کے ساتھ رہ سکتے ہیں ،تاہم اس صورت میں  نکاح کے بعد سائل کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہ جائے گا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ولو تقديرا بدائع، ليدخل السكران (ولو عبدا أو مكرها)

وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية."

(کتاب الطلاق، رکن الطلاق، ج:3۔ ص:235، ط: سعید)

فتاوی شامی میں ہے:

"وفيه لو اختلعت على أن تمسكه إلى البلوغ صح عن الأنثى لا الغلام؛ ولو تزوجت فللزوج أخذ الولد وإن اتفقا على تركه لأنه حق الولد، وينظر إلى مثل إمساكه لتلك المدة فيرجع به عليها.

"(قوله: صح في الأنثى لا الغلام)لأنه يحتاج إلى معرفة آداب الرجال والتخلق بأخلاقهم، فإذا طال مكثه مع الأم يتخلق بأخلاق النساء، وفي ذلك من الفساد ما لا يخفى، كذا في الفتاوى الهندية. قال المقدسي: وفي قوله صح في الأنثى بحث لأن المفتى به الآن أن الأنثى لا تبقى عند الأم إلى البلوغ فتأمل اهـ.

قلت: العلة تضييع حق الولد، ولا تضييع في إبقاء الأنثى إلى البلوغ عند أمها، نعم يرد أن يقال: إن مدة البلوغ مجهولة ولعل الجهالة تغتفر لأن الغالب البلوغ في خمسة عشر(قوله: لأنه حق الولد) لأن إبقاءه عند زوجها الأجنبي مضر بالولد، ولذا سقط حقها في الحضانة."

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:3، ص:456، ط: سعید)

فتاوی قاضی خان میں ہے:

"رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان ابن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان ابن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة  هنا."

(کتاب الطلاق، فصل فی الطلاق بالکتابة، ج:1، ص:416، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"امرأة اختلعت مع زوجها على مهرها ونفقة عدتها وعلى أن تمسك ولدها منه ثلاث سنين أو عشر سنين بنفقتها صح الخلع وتجبر على ذلك وإن كان مجهولا فإن تركته على زوجها وهربت فللزوج أن يأخذ قيمة النفقة منها ولها أن تطالبه بكسوة الصبي أما لو اختلعت على إمساك الولد بنفقتها وكسوتها فليس لها أن تطالبه بالكسوة وإن كانت الكسوة مجهولة وسواء كان الولد رضيعا أو فطيما كذا في الخلاصة.۔۔۔۔۔۔۔۔ولو اختلعت على أن تمسك الولد إلى وقت البلوغ صح وهذا إذا كان أنثى أما في الابن فلا يصح لأنه يحتاج إلى معرفة آداب الرجال والتخلق بأخلاقهم فإذا طال مكثه مع الأم يتخلق ‌بأخلاق ‌النساء وفي ذلك من الفساد ما لا يخفى فإن تزوجت الأم فللأب أن يأخذ الولد منها وإن اتفقا لا يترك عندها لأن هذا حق الولد."

(كتاب الطلاق، الفصل الأول في شرائط الخلع وحكمه وما يتعلق به، ج:1، ص:490، ط: رشيدية)

وفيه ايضا:

"الولد متى كان عند أحد الأبوين لا يمنع الآخر عن النظر إليه وعن ‌تعاهده كذا في التتارخانية ناقلا عن الحاوي."

(كتاب الطلاق، الباب السادس عشر في الحضانة، ج:1، ص:543، ط: رشيدية)

البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے :

"(قوله الواقع به، وبالطلاق على مال طلاق بائن) أي بالخلع الشرعي أما الخلع فقوله عليه الصلاة والسلام‌‌ الخلع تطليقة بائنة، ولأنه يحتمل الطلاق حتى صار من الكنايات، والواقع بالكناية بائن"

(کتاب الطلاق، باب الخلع، ج:4، ص:77، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144704101127

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں