
میں نے اپنے شوہر سے خلع لی ہے، خلع نامہ مندرجہ ذیل ہے:
”آج مورخہ 17-07- 2026 ء کو خلع نامہ تحریر کرایا گیا ہے کہ میرا نکاح فلاں بن فلاں سے مسلم خاندانی قوانین مجریہ - ۱۹۶۱ کے تحت بمورخہ، 01-05 -2025 ء کو بعوض حق مہر-/ 25,000 ( پچیس ہزار روپے ) انجام پایا تھا۔ ذہنی ہم آہنگی کا فقدان اور گھر یلو نا چاقی کی وجہ سے میں فلاں بن فلاں کے ساتھ زندگی نہیں گزارنا چاہتی۔ آج کے بعد سے ہم دونوں کے درمیان کوئی تعلق/واسطہ نہیں ہے ۔آج سے میں آزاد ہوں اورفلاں بن فلاں بھی۔ میرے جہیز کا تمام سامان فلاں بن فلاں واپس کرنے کے پابند ہیں۔ خلع نامہ دونوں فریقین نے پڑھوا کر سنا، درست پایا، گواہان کی موجودگی میں دستخط وانگوٹھے ثبت کر دیے، تاکہ سندر ہے اور بوقت ضرورت کام آئے۔“
اب پوچھنا یہ ہے کہ مذکورہ خلع کی رو سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟
وضاحت: شوہر نے اپنی رضا مندی سے اس خلع نامہ پر دستخط کیے ہیں۔
نوٹ:کچھ سامان باقی ہے،جو شوہر واپس نہیں کر رہا۔اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
صورتِ مسئولہ میں شوہر کے مذکورہ تحریر پر دستخط کرنے سےایک طلاقِ بائن واقع ہو چکی ہے اور دونوں کا نکاح ختم ہو چکا ہے۔ عدت(اگر حاملہ ہو ، وضع حمل کے بعد اور اگرحاملہ نہ ہو، تو تین حیض) گزر جانے کے بعد بیوی دوسری جگہ نکاح کرنے کے لیے آزاد ہے۔
شوہر بیوی کا باقی رہ جانے والا تمام سامانِ جہیز اور بیوی کا ذاتی سامان واپس کرنے کا پابند ہے اور اسے روکنا جائز نہیں ہے۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
"إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا "
ترجمہ:”بے شک تم کو الله تعالیٰ اس بات کا حکم دیتے ہیں کہ اہل حقوق کو ان کے حقوق پہنچادیا کرو۔“
مشکوٰۃ المصابیح میں ہے:
"قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ’’ألالا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه ‘‘. رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى."
ترجمہ:’’خبردار کسی پر ظلم و زیادتی نہ کرو، خبردار کسی آدمی کی ملکیت کی کوئی چیز اس کی دلی رضامندی کے بغیر لینا حلال اور جائز نہیں ہے ۔‘‘
(باب الغصب والعاریة، الفصل الثانی، ج:2، ص:889، ط:المكتب الإسلامي)
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
"وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو أما إن أرسل الطلاق بأن كتب أما بعد فأنت طالق فكلما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة."
(كتاب الطلاق، الباب الثاني، الفصل السادس، ج:1، ص:378، ط:دار الفكر)
فتاویٰ شامی میں ہے:
"وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية."
(کتاب الطلاق، باب صریح الطلاق، ج:3، ص:252، ط:سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"والأصل الذي عليه الفتوى في زماننا هذا في الطلاق بالفارسية أنه إن كان فيها لفظ لا يستعمل إلا في الطلاق فذلك اللفظ صريح يقع به الطلاق من غير نية إذا أضيف إلى المرأة، مثل أن يقول في عرف ديارنا: رها كنم أو في عرف خراسان والعراق بهشتم؛ لأن الصريح لا يختلف باختلاف اللغات وما كان في الفارسية من الألفاظ ما يستعمل في الطلاق وفي غيره فهو من كنايات الفارسية فيكون حكمه حكم كنايات العربية في جميع الأحكام والله أعلم."
(کتاب الطلاق، فصل فی النیة، ج:3، ص:102، ط:دار الکتب العلمیة)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء."
(کتاب الطلاق، الفصل الخامس، ج:1، ص:375، ط:دار الفکر)
فتاوی شامی میں ہے:
"كل أحد يعلم أن الجهاز للمرأة إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها."
(کتاب الطلاق، باب المہر، ج:3، ص:158، ط: سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144802101039
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن