بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تحریری طور پر ہبہ یا وقف کرنے کا حکم


سوال

میرے تایا نے اپنی حیاتی میں اپنی ایک زمین اپنے ایک دوست کو لکھ کر ہبہ یا وقف  کر دی،اب میرے تایا کے مرنے کے بعد ان کا بیٹا  کہتا ہے کہ  میں زمین کو فروخت کروں گا، اور میراث میں تقسیم کروں گا، کیوں کہ مجھے اس وقف کا علم نہیں،کیا وہ مذکورہ زمین کو اب فروخت کر سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ہبہ اور وقف دو الگ الگ چیزیں ہیں، جس بنا پر دونوں کے احکامات  بھی مختلف ہیں، چنانچہ اگر کسی شخص نے محض تحریری طور پر ہبہ لکھ دیا ہو اور قبضہ نہ دیا ہو تو ایسی صورت میں وہ ہبہ شرعاً معتبر نہیں ہوتا اگرچہ ہبہ کی تحریر پر گواہ بھی موجود ہوں، اور اگر کسی شخص نے اپنی زمین کو (کسی مسجد ، مدرسہ قبرستان وغیرہ کے لیے)  وقف لکھ دیا ہو اور اس پر شرعی گواہ موجود ہوں تو ایسی صورت میں وہ وقف درست ہو جاتا ہے، اور اس کو فروخت کرنا یا وراثت میں تقسیم کرنا جائز نہیں ہوتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں  سائل کے تایا نے  اپنے دوست  کو اپنی زمین    اگر ہبہ کے طور پر صرف لکھ کر دی تھی ،اور اس زمین پر قبضہ نہیں دیا تھا تو ایسی صورت میں وہ ہبہ شرعاً معتبر اور مفیدِ ملک نہیں، بلکہ وہ زمین سائل کے تایا  ہی کی ملکیت میں رہی،جو کہ اب اس کے انتقال کے بعد اس کے ورثاء کا حق بن چکی ہے، اس صورت میں تایا کے بیٹے کا اس زمین کو میراث میں تقسیم کرنا درست ہوگا۔(اور اگر قبضہ بھی دے دیا تھا تو ایسی صورت میں ہبہ درست ہو جائے گا، اور  وہ دوسرا شخص ( تایا کا دوست)اس زمین کا مالک شمار ہو گا،تایا کے ورثاء کے لیے اس زمین کے مطالبے کایا اسے فروخت کر کے میراث میں تقسیم کرنے کا  حق نہیں ہو گا۔)

اور اگر سائل کے تایا نے اپنی زمین بطورِ وقف لکھ کر  اپنے دوست کو دی تھی، اور اس تحریر پر شرعی گواہ بھی موجود ہیں ، تو ایسی صورت میں وہ زمین شرعاً وقف ہی شمار ہو گی ، اور اب وہ واقف کی منشاء کے مطابق ہی استعمال کی جائے گی،اس پر ورثاء وغیرہ کسی کا کوئی حق نہیں ہو گا۔( اور اگر وقف کی تحریر پر گواہ نہ ہوں توایسی صورت میں وقف کا محض دعویٰ کافی نہیں ہو گا۔)

فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

"لايثبت الملك للموهوب له إلا بالقبض هو المختار، هكذا في الفصول العمادية".

(4/378، الباب الثانی فیما یجوز من الھبة وما لا یجوز، ط: رشیدیة) 

فتاوی شامی میں ہے:  

"بخلاف جعلته باسمك فإنه ليس بهبة."

(ج: 5، ص:689، کتاب الھبة،ط: سعید)

وفيه أيضًا:

"(وتتم) الهبة (بالقبض) الكامل (ولو الموهوب شاغلاً لملك الواهب لا مشغولاً به) والأصل أن الموهوب إن مشغولاً بملك الواهب منع تمامها، وإن شاغلاً لا، فلو وهب جرابًا فيه طعام الواهب أو دارًا فيها متاعه، أو دابةً عليها سرجه وسلمها كذلك لاتصح، وبعكسه تصح في الطعام والمتاع والسرج فقط؛ لأنّ كلاًّ منها شاغل الملك لواهب لا مشغول به؛ لأن شغله بغير ملك واهبه لايمنع تمامها كرهن وصدقة؛ لأن القبض شرط تمامها وتمامه في العمادية".

(ج: 5، ص:690، کتاب الھبة،ط: سعید)

وفیه ايضاّ:

"ذكر في الخانية والإسعاف ادعى على رجل في يده ضيعة ‌أنها ‌وقف وأحضر صكا فيه خطوط العدول والقضاة الماضين وطلب من القاضي القضاء بذلك الصك قالوا ليس للقاضي ذلك لأن القاضي إنما يقضي بالحجة والحجة إنما هي البينة أو الإقرار، أما الصك فلا يصلح حجة لأن الخط يشبه الخط."

(كتاب الوقف ، فصل اجازة الواقف ، (4/ 413) ، ط :سعيد )

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144611100885

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں