
میرا چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ اس نے زندگی بھر والدین کے ساتھ جو کچھ بھی تعاون کیا ہے، وہ اس کو واپس لینے کا مجاز ہے، جب کہ اس نے والدین کے ساتھ واپسی کا کوئی معاہدہ نہیں کیا تھا۔
تو کیا شرعاً میرے بھائی نے جو کچھ والدین کے ساتھ تعاون کیا تھا، اسے واپس لینا جائز ہے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل کے بھائی نےاپنے والدین کے ساتھ زندگی بھر جو بھی تعاون کیا ہے، اس کے لیے اس کو واپس لینے کا حق نہیں ہے۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"ولا يرجع في الهبة من المحارم بالقرابة كالآباء والأمهات، وإن علوا والأولاد، وإن سفلوا."
(کتاب الھبة، الباب الخامس في الرجوع في الھبة، ج:4، ص:387، ط: دار الفکر)
العقود الدریۃ فی تنقیح الفتاوی الحامدیہ میں ہے:
"المتبرع لايرجع بما تبرع به على غيره، كما لو قضى دين غيره بغير أمره."
(کتاب المداینات ج:2 /ص:226 /ط:دار المعرفۃ)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101831
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن