
جناب میں عمرہ کر چکا ہوں ، دوبارہ جانے کی ترتیب بن رہی ہے ،مگر مجھے اس کے لئے اپنی یونیورسٹی سے دس دن کی چھٹی لینی پڑے گی، جس میں میری پڑھائی کا اچھا خاصا نقصان ہو گا۔ مجھے کس چیز کو فوقیت دینا چاہیے؟ عمرہ یاپڑھائی؟
واضح رہے کہ زندگی میں ایک بار عمرہ کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، اور جمہور کے ہاں عمرے کی کثرت مستحب ہے۔ لہٰذا صورتِ مسئولہ میں اگر عمرے کے لیے رخصت لینے کی صورت میں جوتعلیم کا نقصان ہو گا، اگر اس کا ازالہ ممکن ہو، سےتو سائل کے لیے عمرے پر جانا بہتر ہے۔ اور اگر ازالہ ممکن نہ ہو تو پڑھائی کو ترجیح دے،تاہم ایک سےزائد بار عمرہ کرنامستحب ہے، فرض یا واجب نہیں ہے، لہٰذا اگر سائل تعلیمی نقصان کے پیشِ نظر عمرے پر نہ جائے تو بھی شرعاً کوئی حرج نہیں ہے۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(والعمرة) في العمر (مرة سنة مؤكدة) على المذهب وصحح في الجوهرة وجوبها. قلنا المأمور به في الآية الإتمام وذلك بعد الشروع وبه نقول (وهي إحرام وطواف وسعي) وحلق أو تقصير فالإحرام شرط، ومعظم الطواف ركن.وغيرهما واجب هو المختار ويفعل فيها كفعل الحاج (وجازت في كل السنة) وندبت في رمضان (وكرهت) تحريما (يوم عرفة وأربعة بعدها) أي كره إنشاؤها بالإحرام حتى يلزمه دم وإن رفضها لا أداؤها فيها بالإحرام السابق.
(قوله: و العمرة في العمر مرةً سنة مؤكدة) أي إذا أتى بها مرة فقد أقام السنة غير مقيد بوقت غير ما ثبت النهي عنها فيه إلا أنها في رمضان أفضل هذا إذا أفردها فلاينافيه أن القران أفضل لأن ذلك أمر يرجع إلى الحج لا العمرة .
فالحاصل :أن من أراد الإتيان بالعمرة على وجه أفضل فيه فبأن يقرن معه عمرة فتح ، فلا يكره الإكثار منها خلافا لمالك، بل يستحب على ما عليه الجمهور وقد قيل سبع أسابيع من الأطوفة كعمرة شرح اللباب .......... و قد اعتمر صلى الله عليه وسلم أربع عمرات كلهن بعد الهجرة في ذي القعدة على ما هو الحق و تمامه فيه."
(کتاب الحج،مطلب فی أحكام العمرة،472ْ2،ط: سعيد)
فتاوی هندیہ میں ہے:
"و هي في الشرع زيارة البيت و السعي بين الصفا و المروة على صفة مخصوصة وهي أن تكون مع الإحرام، هكذا في محيط السرخسي. العمرة عندنا سنة وليست بواجبة و يجوز تكرارها في السنة الواحدة."
(کتاب الحج،الباب السادس في العمرة،237/1،ط:دار الفکر،بیروت)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144702100250
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن