بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

تعدد نکاح میں مرد وعورت کے درمیان فرق کی وجہ و حکمت


سوال

 ہمارا ایمان ہے کہ عورت ایک وقت میں متعدد نکاح نہیں کر سکتی،  لیکن جہاں بات برداشت نہ کرنے کی ہو تو جس طرح مرد اپنے ساتھ کوئی شریک نہیں برداشت کر سکتا، اسی طرح عورت بھی نہیں برداشت کر سکتی، حالانکہ اسلام دین فطرت ہے، تو پھر ایسا حکم کیوں دیا گیا؟

جواب

دین اسلام  فطرتِ انسانی سے ہم آہنگ اور ہر قسم کی افراط و تفریط سے پاک ایک مکمل آسمانی دین ہے،اس کے تمام احکام مصالحِ عباد اور مقاصدِ شریعت پر مبنی ہیں، یہی وجہ ہےکہ  اسلامی شریعت میں خاندانی نظام کو پاکیزگی، نظم و ضبط، اور نسب کی حفاظت کے اصولوں پر قائم کیا گیا ہے۔ انہی مقاصد کے پیش نظر عورت کو بیک وقت ایک سے زائد نکاح کرنے کی اجازت نہیں دی گئی،اگر عورت  ايك وقت ميں ايك سے زائد نكاح كرے گي تو   بچوں كے نسب  مشكوك هوجائيں گے اور خانداني نظام عزت وشرف  سب  تباه وبرباد هوجائے گا  ۔ هر پيدا هونے والا بچه  باپ كي شفقت اور كفالت سے محروم هوگا اس ليے عورت كو  بيك وقت متعدد  نكاح كي اجازت نه دينے كا حکم  فطرتِ سلیمہ کے عین مطابق ہے۔

تاہم  مرد کو بیک وقت چار تک نکاح کی جواجازت دی گئی ہے،  وہ محض خواہش پر مبنی نہیں، بلکہ   کئی حکمتوں پر مشتمل ہے ، جس میں کثرت اولاد ،بیوہ ،مطلقات  کے نان نفقہ کا انتظام ،یتیموں کی کفالت ، مرد وعورت دونوں کے لیے  عفت اور پاکیزگی  سرفہرست ہیں نیز ان حکمتوں کے باوجود یہ حکم عدل و مساوات کی سخت شرائط کے ساتھ مشروط ہے۔ اگر مرد بیویوں کے درمیان انصاف نہ کر سکے تو اسے صرف ایک بیوی پر اکتفا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، تاکہ خاندانی نظام میں بگاڑ اور ظلم کا راستہ بند ہو جائے۔

چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے :

"﴿ وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوْا فِي الْيَتَامٰى فَانْكِحُوْا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَآءِ مَثْنٰى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوْا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانِكُمْ ذٰلِكَ أَدْنٰى أَلَّا تَعُوْلُوْا ﴾ "(النساء:3)

ترجمہ:” اور اگر تم کواس بات کا احتمال ہو کہ تم یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکوگے تو اورعورتوں سے جوتم کو پسند ہوں نکاح کرلو دو دوعورتوں سے اور تین تین عورتوں سے اور چارچار عورتوں سے، پس اگر تم کو احتمال اس کا ہو کہ عدل نہ رکھوگے تو پھر ایک ہی بی بی پر بس کرو یا جو لونڈی تمہاری ملک میں ہو وہی سہی، اس امرمذکور میں زیادتی نہ ہونے کی توقع قریب ترہے۔“(بیان القرآن)

درج بالا آیت کی تفسیر میں عورت کے لئے متعدد خاوند ہونے کی ممانعت سے متعلق مولانا محمد ادریس کاندھلوی ؒ اپنی شہرۂ آفاق تفسیر”معارف القرآن“ میں لکھتے ہیں:

”1۔اگر ایک عورت چند مردوں میں مشترک ہو تو بوجہ استحقاق نکاح ہر ایک کو قضاء حاجت کا استحقاق ہوگا اور اس میں غالب اندیشہ فساد اور عناد کا ہے شاید ایک ہی وقت میں سب کو ضرورت ہو اور عجب نہیں کہ نوبت قتل تک پہنچے ۔ہندوؤں کے بعض فرقوں کے مذہب میں یہ جائز ہے کہ پانچ بھائی مل کر ایک عورت رکھ لیں بے غیرتوں کا مذہب بے غیرتی ہی کی باتیں بتلاتا ہے اسلام جیسا با غیرت مذہب ہرگز ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتا کہ عورت کبھی کسی سے ہم آغوش اور ہم کنار ہو اور کبھی کسی سے۔

2۔ مرد فطرتًا حاکم ہے اور عورت محکوم ہے اس لیے کہ طلاق کا اختیار مرد کو ہے جب تک  مرد عورت کو آزاد نہ کرے تو عورت دوسرے مرد سے نکاح نہیں کر سکتی جیسے باندی اور غلام باختیار خود قید سے نہیں نکل سکتے اسی طرح عورت باختیار خود قید نکاح سے نہیں نکل سکتی باندی اور غلاموں میں اگر اعتاق ہے تو عورتوں میں طلاق غرض یہ کہ جب مرد حاکم ہوا تو عقلاً یہ تو جائز ہے کہ ایک حاکم کے ماتحت متعدد محکوم ہوں اور متعدد اشخاص کا ایک حاکم کے ماتحت رہنا نہ موجب ذلت و حقارت ہے نہ موجب صعوبت۔ بخلاف اس کے کہ ایک شخص متعدد حاکموں کے ماتحت ہو تو ایسی صورت میں کہ جب محکوم ایک ہو اور حاکم متعدد ہوں تو محکوم کے لیے عجب مصیبت کا سامنا کہ کس کس کی اطاعت کرے اور ذلت بھی ہے جتنے حاکم زیادہ ہوں گے اسی قدر محکوم میں ذلت بھی زیادہ ہوگی ۔اس لیے شریعت اسلامیہ نے ایک عورت کو دو یا چار خاوند سے نکاح کی اجازت نہیں دی اس لیے کہ اس صورت میں عورت کے حق میں تحقیر و تذلیل بھی بہت ہے اور مصیبت بھی نہایت سخت ہے۔نیز متعدد شوہروں کی خدمت بجالانا اور سب کو خوش رکھنا نا قابل برداشت ہے اس لیے شریعت نے ایک عورت کو دو یا چار مردوں سے نکاح کی اجازت نہیں دی تاکہ عورت اس تذلیل و تحقیر اور نا قابل برداشت مشقت سے محفوظ رہے۔

3۔نیز اگر ایک عورت کے متعدد شوہر ہوں تو متعدد شوہروں کے تعلق سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ ان میں سے کس کی اولاد ہوگی اور اُن کی تربیت کسی طرح ہو گی اور ان کی وراثت کسی طرح تقسیم ہو گی نیز وہ اولاد چاروں شوہروں کی مشترکہ ہوگی یا منقسمہ اور تقسیم کس طرح ہو گی اگر ایک ہی فرزند ہوا تو چار باپوں میں کس طرح تقسیم ہو گا اور اگر متعدد اولاد ہوئی اور نوبت تقسیم کی آئی تو بوجه اختلاف ذکورت و انوشت اور بوجہ تفاوت شکل وصورت اور بوجہ اختلاف قوت وصحت اور بوجہ تفاوت فہم و فراست موازنہ تو ممکن نہیں اس لیے اس تفاوت کی وجہ سے تقسیم اولاد کا مسئلہ غایت درجہ پیچیدہ ہوگا اور نہ معلوم باہمی نزاع سے کیا کیا صورتیں اور فتنے رونما ہوں ۔“

(سورۃ النساء، ج:2، ص:137/138، ط:مکتبۃ المعارف شہداد پور سندھ)

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"قال عروة: قالت عائشة: وإن الناس استفتوا رسول الله صلى الله عليه وسلم بعد هذه الآية فأنزل الله ويستفتونك في النساء [النساء: 127] ، قالت عائشة: وقول الله في الآية الأخرى وترغبون أن تنكحوهن [النساء: 127] رغبة أحدكم عن يتيمته إذا كانت قليلة المال والجمال، فنهوا أن ينكحوا من رغبوا في ماله وجماله من يتامى النساء إلا بالقسط من أجل رغبتهم عنهن إذا كن قليلات المال والجمال. وقوله: مثنى وثلاث ورباع أي انكحوا ما شئتم من النساء سواهن إن شاء أحدكم ثنتين وإن شاء ثلاثا، وإن شاء أربعا.۔۔۔ وقوله: فإن خفتم ألا تعدلوا فواحدة أو ما ملكت أيمانكم، أي فإن خشيتم من تعداد النساء أن لا تعدلوا بينهن، كما قال تعالى، ولن تستطيعوا أن تعدلوا بين النساء ولو حرصتم [النساء: 129] فمن خاف من ذلك فليقتصر على واحدة"

(سورۃ النساء، ج:2، ص:183 تا 185، ط:دار الكتب العلمية)

تفسیر الرازی میں ہے:

"المسألة السابعة: قوله: مثنى وثلاث ورباع محله النصب على الحال مما طاب، تقديره: فانكحوا الطيبات لكم معدودات هذا العدد، ثنتين ثنتين، وثلاثا ثلاثا، وأربعا أربعا. ۔۔۔ المسألة الأولى: المعنى: فإن خفتم أن لا تعدلوا بين هذه الأعداد كما خفتم ترك العدل فيما فوقها، فاكتفوا بزوجة واحدة أو بالمملوكة"

(سورۃ النساء، ج:9، ص:488 تا 489، ط:دار إحياء التراث العربي)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌للرجل أن يتزوج زوجة غيره وكذلك المعتدة، كذا في السراج الوهاج. سواء كانت العدة عن طلاق أو وفاة أو دخول في نكاح فاسد أو شبهة نكاح، كذا في البدائع."

(كتاب النكاح، الباب الثالث في بيان المحرمات، ج:1، ص:280، ط:دار الفكر بيروت)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144611101756

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں