
احادیث مبارکہ میں بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعت پر اجرت لینا جائز ہے جبکہ دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اجرت علی الطاعات جائز نہیں ہے تو اس حوالے سے موجودہ زمانے میں کون سی روایات قابل عمل کہلائیں گی؟ اور دوسری طرف کی روایات کی کیاتاویل ہوسکتی ہے؟
نیز آج کل جو آن لائن قرآن اکیڈمی میں بچوں کو دین کی تعلیم دینے پر اجرت مقرر کی جاتی ہے آیا اس کا لینا جائز ہے یا نہیں؟ اگر جائز نہیں تو پھرائمہ کرام ، قراء حضرات کی اجرت کیسے جائز ہے؟ آن لائن تعلیم ویڈیو کالنگ کے ذریعہ بھی ہوتا ہے اور اسکرین شئیر نگ کے ذریعہ بھی ہوتا ہے۔
واضح رہے کہ طاعات پر اجرت لینا جائز نہیں ہے۔وہ احادیث جو جواز پر دلالت کرتی ہیں ان میں بنیادی حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے جس میں سانپ کے ڈسے ہوئے پر ایک صحابی نے بکریوں کے عوض دم (رقیہ) کیا اور وہ ٹھیک ہوگیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا بتایا گیا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ چیزیں جن کے عوض تم اجرت لیتے ہو ان سب میں سب سے زیادہ اجرت کی حق دار اللہ کی کتاب ہے۔ اس حدیث سے طاعات پر اجرت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ یہ قرآن کی قرأت تعلیم یا عبادت کی غرض سے نہیں کی گئی تھی بلکہ دواء کی غرض سے کی گئی تھی اور دواء اور علاج امر مباح میں سے ہے لہذا رقیہ (علاج) کے عوض اجرت لینا جائز ہے چاہے علاج ذکر اور قرآن کے ذریعہ ہو یا دیگر دواء اور جڑی بوٹیوں کے ذریعہ ہو۔
نیز قرآن کی حفاظت ضروریات دین میں سے ہے، لہٰذا فقہاء، متاخرین کی تصریح کے بموجب ضرورت کی بناء پر تعلیم قرآن پر اجرت لینے کی گنجائش ہے کیونکہ اجرت نہ ہونے کی صورت میں اس بات کا اندیشہ قران پڑھانے والے اپنے معاش کی فکر کی وجہ تعلیم قرآن میں تساہل کا شکار ہوجائیں اور قرآن کا علم ضائع ہوجائے۔ اسی طرح امامت اور اذان بھی اس میں شامل ہے،اس میں بھی ضرورت کی بناء پر اجرت لینا جائز ہے۔لہذا آن لائن قرآن پڑھانا اور اس پر اجرت لینا جائز ہوگا بشرطیکہ اس تعلیم و تعلم میں جاندار کی ویڈیو اور تصویر نہ ہو۔
اعلاء السنن میں ہے:
"و لا تعارض بينه و بين حديث ابن عباس و ابي سعيد الخدري في قصة اللديغ لانه ليس فيهما جواز اخذ الاجرة علي تعليم القرآن بل فيهما جواز الاخذ علي الرقي و هو غير التعليم، فلا نسخ ... والفرق بينه و بين ما اختلف فيه ان الرقية نوع مداواة و الماخوذ عليها ذعل و المداواة يباح اخذ الاجر عليها و الجعالة اوسع من الاجارة و بهذا تجوز مع جهالة العمل و المدةو قوله عليه السلام "احق ما اخذتم عليه اجرا كتاب الله يعني به الجعل في الرقية..الخ"
(کتاب الإجارة، ج:16، ص:174، ط: ادارۃ القرآن و العلوم الإسلامية)
فتاوی شامی میں ہے:
"(و) لا لأجل الطاعات مثل (الأذان والحج والإمامة وتعليم القرآن والفقه) ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن والفقه والإمامة والأذان.»
(قوله ولا لأجل الطاعات) الأصل أن كل طاعة يختص بها المسلم لا يجوز الاستئجار عليها عندنا لقوله عليه الصلاة والسلام «اقرءوا القرآن ولا تأكلوا به» وفي آخر ما عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى عمرو بن العاص «وإن اتخذت مؤذنا فلا تأخذ على الأذان أجرا» ولأن القربة متى حصلت وقعت على العامل ولهذا تتعين أهليته، فلا يجوز له أخذ الأجرة من غيره كما في الصوم والصلاة هداية. مطلب تحرير مهم في عدم جواز الاستئجار على التلاوة والتهليل ونحوه مما لا ضرورة إليه
(قوله ويفتى اليوم بصحتها لتعليم القرآن إلخ) قال في الهداية: وبعض مشايخنا - رحمهم الله تعالى - استحسنوا الاستئجار على تعليم القرآن اليوم لظهور التواني في الأمور الدينية، ففي الامتناع تضييع حفظ القرآن وعليه الفتوى اهـ، وقد اقتصر على استثناء تعليم القرآن أيضا في متن الكنز ومتن مواهب الرحمن وكثير من الكتب، وزاد في مختصر الوقاية ومتن الإصلاح تعليم الفقه، وزاد في متن المجمع الإمامة، ومثله في متن الملتقى ودرر البحار.
وزاد بعضهم الأذان والإقامة والوعظ، وذكر المصنف معظمها، ولكن الذي في أكثر الكتب الاقتصار على ما في الهداية، فهذا مجموع ما أفتى به المتأخرون من مشايخنا وهم البلخيون على خلاف في بعضه مخالفين ما ذهب إليه الإمام وصاحباه، وقد اتفقت كلمتهم جميعا في الشروح والفتاوى على التعليل بالضرورة وهي خشية ضياع القرآن كما في الهداية، وقد نقلت لك ما في مشاهير متون المذهب الموضوعة للفتوى فلا حاجة إلى نقل ما في الشروح والفتاوى، وقد اتفقت كلمتهم جميعا على التصريح بأصل المذهب من عدم الجواز، ثم استثنوا بعده ما علمته، فهذا دليل قاطع وبرهان ساطع على أن المفتى به ليس هو جواز الاستئجار على كل طاعة بل على ما ذكروه فقط مما فيه ضرورة ظاهرة تبيح الخروج عن أصل المذهب من طرو المنع، فإن مفاهيم الكتب حجة ولو مفهوم لقب على ما صرح به الأصوليون بل هو منطوق، فإن الاستثناء من أدوات العموم كما صرحوا به أيضا."
(کتاب الإجارة، باب الإجارة الفاسدۃ، ج: 6، ص: 55، ط: ا یچ ایم سعید)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707101943
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن