بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

28 محرم 1448ھ 14 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

تہ پہ مو خلوصہ یے تین مرتبہ کہنے سے طلاق کا حکم


سوال

 ایک شخص نے اپنی بیوی سے اپنی مادری زبان (وزیرستانی) میں کہا: "ته په مو خلوصه یے"، جس کا اردو ترجمہ ہے: "آپ مجھ پر آزاد ہو"۔ اس نے یہ الفاظ ایک ہی مجلس میں طلاق کی نیت سے تین مرتبہ کہے، جبکہ میاں بیوی ایک دوسرے کے ساتھ خوشگوار ازدواجی زندگی گزار رہے تھے اور دونوں جدائی پر راضی نہیں ہیں۔

جواب

صورتِ مسئولہ میں جب مذکورہ شخص نے پہلی مرتبہ اپنی بیوی سے "ته په مو خلوصه یے"  (آپ مجھ پر آزاد ہو) کہا تو اسی وقت بیوی پر ایک طلاقِ بائن واقع ہوگئی اور نکاح ٹوٹ گیا ۔اب شوہر کے لیے متعلقہ بیو ی سے رجوع کرنا جائز نہیں رہا۔

البتہ  باہمی رضامندی سے شوہر اپنی مطلقہ بیوی سے نئے مہر کے تعین کے ساتھ عدت کے اندر یا عدت کے بعد دوبارہ نکاح کر سکتا ہے،  جس کے بعد آئندہ شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا حق ہوگا، تجدید نکاح نہ کرنے کی صورت میں عدت مکمل ہوتے ہی مذکورہ خاتون کسی اور شخص سے نکاح کرنے میں آزاد ہوگی۔

نیز مسئولہ صورت میں چونکہ پہلے جملے سے ہی عورت بائنہ ہو کر نکاح سے نکل چکی تھی، لہذا شوہر کا باقی دو مرتبہ یہ جملہ دہرانا لغو ہے اور اس سے مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

فتاوی شامی میں ہے:

"ومن الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام فيقع بلا نية للعرف.

(قوله فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات."

(كتاب الطلاق، باب صريح الطلاق، ج: 3، ص: 252، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

وفیہ ایضاً:   

" وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت، لكن لما غلب استعمال حلال الله في البائن عند العرب والفرس وقع به البائن ولولا ذلك لوقع به الرجعي....وكونه التحق بالصريح للعرف لا ينافي وقوع البائن به، فإن الصريح قد يقع به البائن كتطليقة شديدة ونحوه: كما أن بعض الكنايات قد يقع به الرجعي، مثل اعتدي واستبرئي رحمك وأنت واحدة. والحاصل أنه لما تعورف به الطلاق صار معناه تحريم الزوجة، وتحريمها لا يكون إلا بالبائن، هذا غاية ما ظهر لي في هذا المقام، وعليه فلا حاجة إلى ما أجاب به في البزازية من أن المتعارف به إيقاع البائن، لما علمت مما يرد عليه، والله سبحانه وتعالى أعلم."

(كتاب الطلاق، باب الكنايات، ج: 3، ص: 299-300، ط: ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

النتف فی الفتاوى للسُّغدی میں ہے: 

"واما الطلاق الرجعي فان كل لفظة فيها لين ولطف فهو رجعي وكل لفظ فيه عنف وغلظ فهو بائن."

(كتاب الطلاق، الطلاق الرجعي، ج: 1، ص: 321، ط: مؤسسة الرسالة - بيروت)

المحيط البرہانی میں ہے: 

"والبائن لا يلحق البائن إلا أن يتقدم سببه بأن قال لها: إن دخلت الدار، فأنت بائن ونوى بها الطلاق ثم أبانها ثم دخلت الدار وهي في العدة وقعت عليها تطليقة بالشرط عند علمائنا الثلاثة رحمهم الله خلافا لزفر رحمه الله."

(كتاب الطلاق، الفصل الخامس: في الكنايات هذا الفصل يشتمل على أنواع،ج: 3، ص: 272، ط: دار الكتب العلمية، بيروت - لبنان)

فتاوی فریدیہ میں ہے: 

''یہ کلمات کہ ’تہ زمانہ خلاصہ یئے‘ عرف میں طلاق کیلئے استعمال ہوتے ہیں لہذا یہ الفاظ طلاق صریح کے ہیں، لما فی الدر المختار: صریحه ما لم یستعمل الا فیہ ولو بالفارسیہ۔''

(باب كنايات الطلاق، ج:5، ص: 335، ط: دار العلوم صدیقیہ)

 وفیہ ایضاً: 

"الجواب واضح رہے کہ یہ لفظ مجھ سے آزاد ہے بذات خود کنایہ ہے، لیکن ہمارے عرف میں یہ لفظ طلاق بائن میں متعارف ہے، لہذا شرط صدق و ثبوت اس سے طلاق ( بائن ) واقع گی، فليراجع الى رد المحتار ۲ : ۶۳۸ ، ۶۳۹ ففيه ذكر بعض نظائرها. وهو الموفق۔"

(باب كنايات الطلاق، ج:5، ص: 360، ط: دار العلوم صدیقیہ)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100913

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں