بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

19 صفر 1448ھ 03 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

ٹی وی پر فٹ بال میچ دیکھنا


سوال

1:کیا ورلڈ کپ کے میچز کو براہِ راست (Live) ٹی وی پر دیکھنا جائز ہے؟کیا مساجد، مدارس، اسلامی مراکز وغیرہ میں لوگوں، بچوں یا عوام کو کھلے عام ورلڈ کپ میچز دیکھنے کی دعوت دینا اور اجتماعی طور پر ورلڈ کپ دیکھنے کی محفلوں کا اہتمام کرنا جائز ہے؟

2:فٹ بال کا اس حد تک شوقین (Fan) ہونا کہ انسان کسی ٹیم یا کھلاڑی کی حمایت اور پیروی کرے، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ اور کیا یہ رِضا بالكفر كفر(کفر پر راضی ہونا بھی کفر ہے) کے حکم میں داخل ہوتا ہے؟

جواب

1:ٹی وی پر فٹ بال میچ دیکھنا خواہ براہ راست ہی کیوں نہ ہو شرعاً ناجائز اور گناہ کا عمل ہے،اور وقت کا ضیاع ہے، اسی طرح کسی صورت میں بھی ٹی وی اسکرین پر میچ دیکھنے کی دعوت دینا اور اجتماعی انتظام کرنا بھی شرعا ناجائز ہے۔

2:انسان کو اللہ تعالی نے اپنے احکامات کی پابندی کے لیے پیدا کیا ہے، انسان کا خود کو لہو ولعب میں مشغول کرنا مناسب نہیں ہے،تاہم اگر کوئی مسلمان کسی ٹیم کی حمایت کرتا ہے تو یہ جائز ہے۔لیکن قلبی تعلق اور دلی  دوستی کسی غیر مسلم کے ساتھ رکھنا جائز نہیں ہے،نیز ایک  مسلمان کا اپنےا ٓپ کو غیر  مسلم کھلاڑی کا فین کہنا بھی درست نہیں ہے؛اس لیے کہ  لہوولعب میں مبتلاء شخص کا فین ہونا خصوصا جب کہ غیر مسلم بھی ہو، درست نہیں ہے،باقی اس سے کفر لازم نہیں آئے گا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:

"﴿ لَايَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكٰفِرِينَ أَوْلِيَآءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَنْ تَتَّقُوْا مِنْهُمْ تُقَاةً وَّيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهُ وَإِلَى اللّٰهِ الْمَصِيرُ﴾." [آل عمران:28]

ترجمہ:

" مسلمانوں کو چاہیے کہ کفار کو (ظاہراً یا باطناً) دوست نہ بناویں  مسلمانوں (کی دوستی) سے تجاوز کرکے ، اور جو شخص ایسا (کام) کرے گا سو وہ شخص اللہ کے ساتھ (دوستی رکھنے کے) کسی شمار میں نہیں، مگر ایسی صورت میں کہ تم ان سے کسی قسم کا (قوی) اندیشہ رکھتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تم کو اپنی ذات سے ڈراتا ہے اور خدا ہی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ "

 ایک اور جگہ ارشاد ہے:

{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [ المائدة:2]

تفسیر ابن کثیر میں ہے:

"{ولا تعاونوا على الاثم و العدوان}، یأمر تعالی عبادہ المؤمنین بالمعاونة علی فعل الخیرات وهوالبر و ترك المنکرات و هو التقوی، و ینهاهم عن التناصر علی الباطل و التعاون علی المآثم والمحارم".

(ج: 2، ص: 10، ط: دارالسلام)

فتاوی شامی میں ہے:

"کل ما یؤدي إلی ما لایجوز لایجوز".

(ج: 6، ص: 360، ط: سعید)

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله: و لبس ثوب فيه تصاوير)؛ لأنه يشبه حامل الصنم فيكره. و في الخلاصة: و تكره التصاوير على الثوب صلى فيه أو لم يصل اهـ.

و هذه الكراهة تحريمية و ظاهر كلام النووي في شرح مسلم: الإجماع على تحريم تصويره صورة الحيوان، و أنه قال: قال أصحابنا و غيرهم من العلماء: تصوير صور الحيوان حرام شديد التحريم، و هو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه ... فينبغي أن يكون حرامًا لا مكروهًا إن ثبت الإجماع أو قطعية الدليل لتواتره."

(کتاب الصلاۃ باب ما یفسد الصلاۃ، ج: 2، ص: 29، ،ط: دار الکتاب الاسلامی)

مرقاة المفاتيح میں ہے:

"و أما اتخاذ المصور بحيوان، فإن كان معلقًا على حائط سواء كان له ظل أم لا، أو ثوبًا ملبوسًا أو عمامةً أو نحو ذلك، فهو حرام، و أما الوسادة و نحوها مما يمتهن فليس بحرام، و لكن هل يمنع دخول الملائكة فيه أم لا؟ فقد سبق."

(کتاب اللباس باب التصاویر ج: 7، ص: 2848، ط: دار الفکر) 

وفيه ايضاّ:

"وعنها، أنها اشترت نمرقة فيها تصاوير، فلما رآها رسول الله صلى الله عليه وسلم قام على الباب، فلم يدخل، فعرفت في وجهه الكراهية. قالت: فقلت: يا رسول الله أتوب إلى الله وإلى رسوله، فماذا أذنبت؟ فقال لي رسول الله صلى الله عليه وسلم: " ما بال هذه النمرقة؟ " قلت: اشتريتها لك لتقعد عليها، وتوسدها! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إن أصحاب هذه الصور يعذبون يوم القيامة، ويقال لهم: " أحيوا ما خلقتم ". وقال: " إن البيت الذي فيه الصورة لا تدخله الملائكة» ". متفق عليه"

فدل على أن التصوير حرام، وهو مشعر بأن استعمال الصور ممنوع ; لأنه سبب لذلك، وباعث عليه مع ما فيه من أنه زينة الدنيا."

(کتاب اللباس باب التصاویر ج: 7، ص: 2850، ،ط: دار الفکر)

العقود الدریہ میں ہے:

"الرضا بكفر نفسه كفر بالاتفاق اهـ"

(باب الردة والتعزير، ج: 1، ص: 99، ط: دار المعرفة)

فتح القدیر میں ہے:

"وإن كان في اعتقاده أنه يكفر به يكفر فيهما؛ لأنه رضي بالكفر حيث أقدم على الفعل الذي علق عليه كفره."

(كتاب الايمان، باب ما يكون يمينا، ج: 5، ص: 78، ط: الحلبى)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802100751

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں