
ایک لڑکا جس کے رشتے کی بات ایک گھر میں چل رہی ہے اور لڑکی کے والد ٹی وی کی مرمت کا کام کرتے ہیں تو اب اس صورت میں ان کے گھر میں رشتہ کرنا صحیح ہے یا نہیں؟اگر درست ہے، تو اس کے لیے احتیاط کیا ہو سکتی ہے؟ وہ بتادیں! اور اگر غلط ہے، تو کیا اس میں کوئی شرعی گنجائش نکل سکتی ہے کہ وہاں رشتہ کر لیا جائے اور بعد کی احتیاط کیا ہوں گی؟
صورتِ مسئولہ میں ٹی وی کی مرمت کرنے والے شخص کی بیٹی کے ساتھ رشتہ کرنا درست ہے۔
چوں کہ ٹی وی اسکرین جائز و ناجائز دونوں طرح کے امور میں استعمال ہوتی ہے، اور استعمال کا تعلق ٹی وی اسکرین کی مرمت کرنے والے سے نہیں، لہٰذا مذکورہ لڑکی کے والد کی کمائی حرام نہیں ہے۔
الأشباہ و النظائر میں ہے:
"القاعدة الثانية: الأمور بمقاصدها كما علمت في التروك. و ذكر قاضي خان في فتاواه: إن بيع العصير ممن يتخذه خمراً إن قصد به التجارة فلايحرم، و إن قصد به لأجل التخمير حرم، و كذا غرس الكرم على هذا (انتهى) . و على هذا عصير العنب بقصد الخلية أو الخمرية".
(الأشباه والنظائر لابن نجيم، ص: 23، الناشر:دار الكتب العلمية)
بدائع الصنائع میں ہے:
و على هذا يخرج الاستئجار على المعاصي أنه لايصح؛ لأنه استئجار على منفعة غير مقدورة الاستيفاء شرعًا كاستئجار الإنسان للعب و اللهو، و كاستئجار المغنية، و النائحة للغناء، و النوح بخلاف الاستئجار لكتابة الغناء و النوح أنه جائز؛ لأن الممنوع عنه نفس الغناء، و النوح لا كتابتهما.
(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (4/ 189)
فتاوی شامی میں ہے:
و هذا يفيد أن آلة اللهو ليست محرمة لعينها، بل لقصد اللهو منها، إما من سامعها أو من المشتغل بها، و به تشعر الإضافة، ألا ترى أن ضرب تلك الآلة بعينها حل تارة و حرم أخرى باختلاف النية بسماعها، و الأمور بمقاصدها.
(كتاب الحظر و الإباحة، ج:6، ص:350، ط: ايج ايم سعيد)
’’سوال:
تصویربنانا،اپنےپاس رکھنا،ٹی وی دیکھناحرام ہیں،اس بات کےپیشِ نظر اگرکسی عالمِ دین کاٹی وی پردرسِ قرآن مجیدہویاکسی نیلام گھرکاپروگرام ہویاکوئی اورپروگرام توان سب کادیکھناحرام ہوا؟ مگرہم یہ پوچھناچاہتےہیں کہ ٹی وی کی مرمت کرنےوالے میکینک کی روزی حلال ہے یاحرام؟کیوں کہ کاریگردرست کرتاہےلوگ طرح طرح کے پروگرام دیکھتےہیں،توکیامرمت کرناجائز ہےیانہیں؟
جواب:
اس قسم کےآلات کی مرمت وغیرہ جائز ہے ان سےحاصل شدہ آمدنی بھی درست ہے۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم‘‘
کتبہ: ابوبکر سعید الرحمٰن
الجواب صحیح: ولی حسن ٹونکی (20-02-1982)
(فتویٰ نمبر 140204300008)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144712100951
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن