بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سید ہونے میں شک ہو تو کیا زکاۃ لے سکتے ہیں؟


سوال

میرا ایک سوال زکوٰۃ کے حوالے سے ہے،  میرے پردادا، جو میرے ابو کے دادا تھے، بچپن میں انڈیا سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے،  انہیں اپنے شجرے یا خاندان کی مکمل معلومات نہیں تھیں، بس اتنا جانتے تھے کہ وہ حیدرآباد سے ہیں۔ انہوں نے یہاں لوگوں کو یہ بتایا کہ ہم شیخ ہیں، وہ انتقال کر گئے۔اس کے بعد آج سے تقریباً پچیس سال پہلے میرے ابو کی پھپھو اور میرے ابو کے چاچا انڈیا گئے اور وہاں خاندان والوں سے شجرہ معلوم کیا، انہوں نے آ کر بتایا کہ ہم سید ہیں، شیخ نہیں۔ اب ہمارے خاندان میں اس بات پر اختلاف ہو گیا؛ آدھے لوگ اپنے نام کے ساتھ سید لکھتے ہیں اور آدھے شیخ لکھتے ہیں،  میرے ابو کی پھپھو اور چاچا کی بات پر کچھ لوگوں نے یقین کیا اور کچھ نے نہیں کیا،  میرے دادا نے یہ بات نہیں مانی کہ ہم سید ہیں، اور میرے ابو نے بھی اس پر یقین نہیں کیا، اب میں بڑا ہو گیا ہوں، لیکن میرے ابو اور دادا دونوں اس دنیا میں نہیں رہے، اور جنہوں نے کہا تھا کہ ہم سید ہیں، یعنی پھپھو اور چاچا، وہ بھی اب نہیں رہے،  انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ انہوں نے شجرہ دیکھا ہے۔

اب میرا سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں کیا میں زکوٰۃ لے سکتا ہوں یا نہیں؟ اس بارے میں مجھے رہنمائی چاہیے۔ میں اپنے نام کے ساتھ شیخ لکھتا ہوں۔ اگر میں زکوٰۃ نہیں لے سکتا تو کیا میری امی لے سکتی ہیں؟ جبکہ یہ بھی شک ہے کہ میں سید ہی ہوں یا نہیں۔

جواب

واضح رہے کہ  سید ہونے کے لیے نسب میں شہرت کافی ہے، لیکن شرط یہ ہے کہ سید نہ ہونے پر کوئی واضح ثبوت موجود نہ ہو،  چناں چہ اگر اس خاندان کے لوگ آباؤاجداد سے سید مشہور ہیں تو  یہ سادات میں سے ہونے کا قرینہ ہے، اگرچہ ان کے پاس نسب نامہ موجود نہ ہو ؛ کیوں کہ  سید ہونے کے لیے مکمل نسب نامہ محفوظ ہونا شرط نہیں ہے،البتہ وہ لوگ  جن کے پاس نہ تو شجرہ ہے اور نہ ہی قدیم سے ان کا خاندان سید خاندان کے طور پر مشہور ہے تو پھر انہیں ”سید“ نہیں کہا جا سکتا،  ایسے لوگ اگر اپنے کو ”سید“ کہیں یا لکھیں تو اس کا اعتبار نہیں ہوگا۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بھارت میں موجود خاندان کی طرف سے نسب کے حوالہ سے فراہم کردہ معلومات پر جن افراد نے یقین نہ کیا ہو اور اپنے  زعم میں وہ شیخ ہی ہوں تو غالب گمان کے مطابق وہ غیر سید ہی قرار پائیں گے،  ایسے افراد اگر مستحق زکوۃ ہوں تو ان کے لیے زکوۃ لینے کی اجازت ہوگی اور جن افراد نے بھارتی رشتہ داروں کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر یقین کرتے ہوئے اپنے آپ کو سید تسلیم کیا ہو تو وہ ان افراد کے لیے زکوۃ لینا جائز نہیں ہوگا ، بہر صورت سائل کی والدہ اگر غیر سید ہوں اور مستحق زکاۃبھی ہوں تو ان کے لیے زکوۃ لینے میں کوئی قباحت نہیں۔

فتح القدير  میں ہے: 

"قال (ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه إلا النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأشياء إذا أخبره بها من يثق به) وهذا استحسان".

(قوله ولا يجوز للشاهد أن يشهد بشيء لم يعاينه) أي لم يقطع به من جهة المعاينة بالعين أو السماع إلا في النسب والموت والنكاح والدخول وولاية القاضي فإنه يسعه أن يشهد بهذه الأمور إذا أخبره بها من يثق به من رجلين عدلين أو رجل وامرأتين، ويشترط كون الإخبار بلفظ الشهادة،.........وفي الفصول عن شهادات المحيط في ‌النسب أن يسمع أنه فلان بن فلان من جماعة لا يتصور تواطؤهم على الكذب عند أبي حنيفة، وعندهما إذا أخبره عدلان أنه ابن فلان تحل الشهادة، وأبو بكر الإسكاف كان يفتي بقولهما وهو اختيار النسفي.

(كتاب الشهادات، فصل ما يتحمله الشاهد على ضربين، ج:7، ص:388/389، ط: دار الفكر)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708100808

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں