بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اگر گھڑی میں کچھ سونا لگا ہو اس کو استعمال کرنے کا حکم


سوال

کچھ کمپنیوں کی گھڑیوں کے ڈائل کے اوپر ایک سونے کا بیزل ہوتا ہے، اور بعض گھڑیوں کا وہ بیزل  گھومتا بھی ہے،اور یہ بیزل جلد کو بھی نہیں لگتا،اور اس سونے کا اگر حساب کیا جائے تو وہ کل گھڑی کا چھ فیصد ہو گا،اس کے بارے میں سوال یہ ہے کہ آیا سونے کے بیزل والی  یہ گھڑی پہننا جائز ہے؟

جب کہ اس کی مثال مذکور ہے:

جواب

صورت مسئولہ میں مرد کے لیے سونے کےبیزل والی گھڑی کے پہننے کی گنجائش  ہے، البتہ اگر گھڑی کی چین میں بھی سونا ہو، تو پھر پہننا جائز نہیں ہوگا۔

فتاوی  شامی  میں  ہے:

"(ولايتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا سواء كان في حرب أو غيره". 

(کتاب  الحظر والإباحة، فصل في اللبس، 6 /359، ط:سعید)

فتاوی رشیدیہ میں ہے :

’’جس گھڑی کا کیس چاندی کا ہو یا سونے کا ہو یا چاندی سونا اس میں غالب ہو اس گھڑی کا استعمال، اس کو چلانا، اس میں ساعت کا دیکھنا منع ہے‘‘۔

(ص602، ط:  عالمی مجلس تحفظ اسلام)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144711100725

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں