
کچھ کمپنیوں کی گھڑیوں کے ڈائل کے اوپر ایک سونے کا بیزل ہوتا ہے، اور بعض گھڑیوں کا وہ بیزل گھومتا بھی ہے،اور یہ بیزل جلد کو بھی نہیں لگتا،اور اس سونے کا اگر حساب کیا جائے تو وہ کل گھڑی کا چھ فیصد ہو گا،اس کے بارے میں سوال یہ ہے کہ آیا سونے کے بیزل والی یہ گھڑی پہننا جائز ہے؟
جب کہ اس کی مثال مذکور ہے:

صورت مسئولہ میں مرد کے لیے سونے کےبیزل والی گھڑی کے پہننے کی گنجائش ہے، البتہ اگر گھڑی کی چین میں بھی سونا ہو، تو پھر پہننا جائز نہیں ہوگا۔
فتاوی شامی میں ہے:
"(ولايتحلى) الرجل (بذهب وفضة) مطلقا سواء كان في حرب أو غيره".
(کتاب الحظر والإباحة، فصل في اللبس، 6 /359، ط:سعید)
فتاوی رشیدیہ میں ہے :
’’جس گھڑی کا کیس چاندی کا ہو یا سونے کا ہو یا چاندی سونا اس میں غالب ہو اس گھڑی کا استعمال، اس کو چلانا، اس میں ساعت کا دیکھنا منع ہے‘‘۔
(ص602، ط: عالمی مجلس تحفظ اسلام)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100725
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن