بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سوا تولہ سونے اور رہائش کے لیے خریدے گئے پلاٹ پر زکات لازم ہونے کا حکم


سوال

 ایک عورت کے پاس 12 سال سے 555000  کی مالیت کا سونا موجود ہے جو کہ اندازاً 1.25 تولہ سونا ہے،  اس کی زکاۃ کسی سال بھی ادا نہیں کی،  لیکن اب زکاۃ ادا کرنے کا خیال آیا ہے، اس عورت کی ملکیت میں ایک پلاٹ بھی ہے جس کی مالیت تقریباً 25 لاکھ ہے جوکہ خود رہنے کی نیت سے لیا تھا لیکن بعد میں اس کے بیچنے کی نیت کی ہے اور وہ بھی تقریبا 10 سال سے اس کے پاس ہے اور 6 سال قبل اس کے بیچنے کی نیت کی تھی اس عورت کا شوہر ہر مہینے تقریباً 30 ہزار تنخواہ گھر کے خرچے کے لیے بھیجتا ہے اور وہ رقم کبھی مہینے سے پہلے ختم ہو جاتی ہے اور کوئی پیسہ کبھی جمع کر کے نہیں رکھا ، جب پہلی مرتبہ اس کے پاس سونا آیا تھا تب بھی یہی صورت حال تھی اور اب بھی یہی صورتحال ہے ، اب کیا اس عورت پر زکاۃ واجب ہے یا نہیں؟ اگر  واجب ہے تو مکمل حساب کر کے بتائیں،سونے اور پلاٹ کی  ان تمام سالوں کی زکاۃ کتنی واجب ہوئی ؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی کے پاس صرف سونا ہو، سونے کے علاوہ نقدی، چاندی اور مالِ تجارت وغیرہ میں سے کچھ نہ ہو تو اس پر زکات لازم ہونے کے لیے ضروری ہے کہ سونے کی مقدار ساڑھے سات تولہ یا اس سے زائد ہو، اس سے کم مقدار سونے  پر زکات لازم نہیں ہوتی، لہذا سائل نے جو صورتحال  بتائی ہے، اس کے مطابق سوا تولہ پر زکوٰة  واجب نہیں ہوگی۔

اسی طرح اگر  پلاٹ رہائش کی نیت سے خریدا تھا،  بعد میں اُس کو بیچنے کا ارادہ ہو گیا،  تو  محض بیچنے کے ارادے سے اُس پلاٹ  پر زکوٰۃ  واجب نہیں ہو گی، ہاں جب سودا  جائے تو حاصل شدہ رقم اگر نصاب زکوٰة تک پہنچتی ہوتو  سال گزرجانے سےاس پر زکات  واجب ہو گی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"فأفاد أن التقويم إنما يكون بالمسكوك عملا بالعرف (مقوما بأحدهما) إن استويا، فلو أحدهما أروج تعين التقويم به؛ ولو بلغ بأحدهما نصابا دون الآخر تعين ما يبلغ به، ولو بلغ بأحدهما نصابا وخمسا وبالآخر أقل قومه بالأنفع للفقير سراج (ربع عشر) خبر قوله اللازم."

(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 299، ط: دار الفكر بيروت)

وفیہ ایضاً:

"(و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية.

وفي حاشيته رد المحتار: (قوله ويضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره."

(كتاب الزكاة، باب زكاة المال، ج: 2، ص: 303، ط: دار الفكر بيروت)

وفیہ ایضاً:

"(ولا في ثياب البدن) ... (وأثاث المنزل ودور السكنى ونحوها) وكذا الكتب وإن لم تكن لأهلها إذا لم تنو للتجارة... (وشرطه) أي شرط افتراض أدائها (حولان الحول)... (أو نية التجارة) في العروض، إما صريحا ولا بد من مقارنتها لعقد التجارة كما سيجيء، أو دلالة بأن يشتري عينا بعرض التجارة أو يؤاجر داره التي للتجارة بعرض".

(ردالمحتار، كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 265-267، ط: سعيد)

وفیہ ایضاً:

"(لا يبقى للتجارة ما) أي عبد مثلا (اشتراه لها فنوى) بعد ذلك (خدمته ثم) ما نواه للخدمة (لا يصير للتجارة) وإن نواه لها ما لم يبعه بجنس ما فيه الزكاة ...

(قوله: كان لها إلخ) لأن الشرط في التجارة مقارنتها لعقدها".

(كتاب الزكاة، ج: 2، ص: 272، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144708101670

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں