بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

18 ذو الحجة 1447ھ 04 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سستی سے بچنے کی اورچستی، مستقل مزاجی اختیار کرنے کے طریقہ


سوال

عرض یہ ہے کہ میں ایک نوجوان ہوں اور اپنی زندگی میں استقامت پیدا کرنے کی بہت کوشش کرتا ہوں۔ کبھی کوئی دینی علم حاصل کرنے کا ارادہ کرتا ہوں، کبھی کسی مفید ہنر کو سیکھنے کا، لیکن دو یا تین دن کے بعد دل سے رغبت اور حوصلہ ختم ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً میں کوئی بھی کام مستقل مزاجی سے جاری نہیں رکھ پاتا۔ یہ کیفیت تقریباً دو سال سے ہے، اور اس وجہ سے نہ دنیاوی ترقی میں تسلسل رہتا ہے، نہ دینی محنت میں۔ یہاں تک کہ اسی سستی اور غیر مستقل مزاجی کی وجہ سے بعض اوقات نمازیں بھی رہ جاتی ہیں، حالانکہ دل میں شوق اور نیت ہوتی ہے کہ میں پابندی سے نماز ادا کروں مگر استقامت برقرار نہیں رہتی۔ میں چاہتا ہوں کہ اپنی زندگی میں نظم و ضبط، توجہ اور استقامت پیدا کر سکوں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل ہو اور اپنی صلاحیتوں کو بہتر طور پر استعمال کر سکوں۔ محترم مفتی صاحب سے گزارش ہے کہ اس حوالے سے قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ ایک مسلمان کس طرح اپنے اندر یہ صفات پیدا کر سکتا ہے؟ کیا اس کے لیے کوئی مسنون دعائیں، اذکار یا عملی تدابیر ہیں جن پر عمل کیا جائے تو انسان مستقل مزاج بن سکتا ہے؟ 

جواب

مسلمان کو چست ہونا چاہیے اور سستی سے ہر طرح بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ نبی کریم ﷺ نے سستی سے پناہ مانگی ہے:
"اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بڑھاپے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔"

اس لیے سستی کے مقابلے میں چستی اختیار کرنی چاہیے اور یہ دعا مانگنی چاہیے۔

مستقل مزاجی حاصل کرنے کا عملی طریقہ یہ ہے کہ چند دن تک اپنے نفس کو زبردستی کسی اچھے کام پر لگایا جائے، چاہے ابتدا میں تکلیف محسوس ہو۔ جب انسان مسلسل اس عمل کو جاری رکھتا ہے تو آہستہ آہستہ وہ عادت بن جاتی ہے اور مستقل مزاجی پیدا ہو جاتی ہے۔ یاد رکھیں، کامیابی جلدی نہیں آتی، بلکہ صبر، محنت اور استقامت سے حاصل ہوتی ہے۔

استقامت قلبی کےلیے یہ آیت مجرب آزمودہ ہے فا ستَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ ۔

صحيح البخاري  میں ہے:

"حدثنا مسدد: حدثنا معتمر قال: سمعت أبي قال: سمعت أنس بن مالك رضي الله عنه قال:كان النبي صلى الله عليه وسلم يقول:اللهم إني أعوذ بك ‌من ‌العجز ‌والكسل، والجبن والهرم، وأعوذ بك من فتنة المحيا والممات، وأعوذ بك من عذاب القبر."

ترجمہ:حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے:اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں عاجزی اور سستی سے، بزدلی اور بڑھاپے سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں زندگی اور موت کے فتنوں سے، اور تیری پناہ مانگتا ہوں قبر کے عذاب سے۔

(کتاب الجہاد والسیر، باب: ما يتعوذ من الجبن،ج:3،ص:1039،ط:دار ابن كثير)

 تسہیل تربیت السالک میں ہے:

مستقل مزاجی کے حاصل ہونے کا طریقہ:

سؤال: حضور! میری طبیعت میں مستقل مزاجی بالکل نہیں ہے۔ جس کام کو شروع کرتا ہوں اس کا کچھ نتیجہ معلوم نہیں ہوتا ہے۔ اس کے لئے کوئی تجویز فرمادیجئے۔

جواب: السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ بحمدہ تعالیٰ میں خیریت سے ہوں دعا کرتا ہوں ۔ مستقل مزاجی کی تدبیر یہ ہے کہ کچھ دن نفس پر زبردستی کر کے تکلیف کے ساتھ کسی کام کو ہمیشہ کیا جائے بس اسی طرح عادت ہونے کے بعدمستقل مزاجی حاصل ہو جاتی ہے جلدی کامیابی نہیں ہوتی ہے۔

بسیار سفر باید تا پخته شود خامی

ترجمہ: پختگی اور مستقل مزاجی حاصل ہونے کے لیے ایک وقت لگتا ہے۔“

(پانچواں باب،مستقل مزاجی کے حاصل ہونے کا طریقہ،ج:1،ص:219،ط:زمزم پبلشر)

اعمال قرآنی میں ہے:

"استقامت قلب کے لئےفا ستَقِمْ كَمَا أُمِرْتَ وَمَنْ تَابَ مَعَكَ (هود (۱۱۲) خاصیت، استقامت قلب کے لئے گیارہ مرتبہ ہر نماز کے بعد پڑھے ۔"

(عنوان :استقامت قلب ،ص:23،ط:دارالاشاعت)

فقط واللہ اعلم 


فتویٰ نمبر : 144704101110

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں