
شادی میں دلہن کو جو سونا دیا گیا تھا مہر کے علاوہ سسرال کی طرف سے،وہ تحفے کی نیت سے دیا گیا تھا سب واپس لے لیا گیا ہے، یہ کہہ کر کہ سسر کو ضرورت ہے، بعد میں جب حالات بہتر ہو جائیں گے تو دوسرے بنا دیں گے۔
اب مرحومہ کا انتقال ہو گیا ورثاء میں شوہر ،والدہ، ایک بیٹا اور دو بیٹیاں ہیں۔
سوال یہ ہے کہ مرحومہ کو جو سونا مہر کے علاوہ شادی کے موقع پر دیا گیا اور ضرورت کے لیے لیا گیا تھا، وہ مرحومہ کا ترکہ شمار ہوگا یا نہیں؟
اگر وہ ان کا ترکہ شمار ہوگا تو سسرال والوں پر اس کا واپس کرنا لازم ہے یا نہیں؟
صورت ِ مسئولہ میں مذکورہ سونا اگر واقعۃ لڑکے والوں نے بطورِہبہ (تحفہ) کےدیا تھا تو ایسی صورت میں مذکورہ سونا لڑکی کی ملکیت ہوگیاتھا، بعد ازاں سسر کی ضرورت کی وجہ سے یہ سونا لے لیا گیا تھا تو اس کی حیثیت قرض کی تھی، سسرال والوں پر لازم ہے کہ اس قدر سونا جو مرحومہ کا ترکہ بن گیا ہے اس میں شوہر کا حصہ کو چھوڑ کر بقیہ سونا دیگر ورثاء کو لوٹا دیں۔
صورتِ مسئولہ میںمرحومہ کے ترکہ کی تقسیم کا طریقہ کار یہ ہے کہ اگر مرحومہ کے ذمہ کوئی قرض ہو تو سب سے پہلے کل جائیداد میں سے قرضہ ادا کیا جائے، پھر اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو اسے تہائی مال میں سے نافذ کرنے کے بعد مرحومہ کہ کل جائیداد منقولہ و غیر منقولہ کو کل 48 حصوں میں تقسیم کرکے مرحومہ کے شوہر کو 12 حصے، ان کی والدہ کو 8 حصے، اور ان کے ہر ایک بیٹےکو 14 حصے اور ہر ایک بیٹی کو 7 حصے ملے گا۔
صورت تقسیم یہ ہے:
میت:48/12
| شوہر | والدہ | بیٹا | بیٹی | بیٹی |
| 3 | 2 | 7 | ||
| 12 | 8 | 14 | 7 | 7 |
یعنی فیصد اعتبار سے 25 فیصد شوہر کو،16.66 والدہ کو، 29.16 بیٹے کو اور ہر ایک بیٹی کو 14.58 ملیں گا۔
تکملہ فتح القدیر میں ہے:
"(وإن وهب هبةً لذي رحم محرم منه فلا رجوع فيها) لقوله - عليه الصّلاة والسّلام - :إذا كانت الهبة لذي رحم محرم منه لم يرجع فيها، ولأنّ المقصود فيها صلة الرحم وقد حصل (وكذلك ما وهب أحد الزوجين للآخر) ؛ لأنّ المقصود فيها الصلة كما في القرابة، وإنما يُنظر إلى هذا المقصود وقت العقد حتّى لو تزوّجها بعدما وهب لها فله الرجوع، ولو أبانها بعدما وهب فلا رجوع" .
(کتاب الہبۃ، باب الرجوع فی الہبۃ، ج: 9، ص: 44، ط: دار الفکر)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144707102109
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن