
میں 32 سالہ عورت ہوں، 8 سال قبل میری شادی ہوئی تھی اور میری ایک 4 سال کی بیٹی ہے، میرے شوہر ملک سے باہر رہتے ہیں، لیکن سال میں کم از کم دو بار پاکستان ضرور آتے ہیں، میں اپنی ساس، سسر کے ساتھ رہتی ہوں۔
میرا مسئلہ یہ ہے کہ میں 8 سال سے ہفتے میں 3 دن کھانا بنا رہی ہوں لیکن میراکھانا پکانا بہت خراب ہے اور کسی کو پسند نہیں آتا ہے، میں نے اپنی شادی شدہ زندگی بھر کھانا پکانا سیکھنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہی، میرا کھانا پکانا اتنا خراب ہے کہ اکثر خاندان کے تمام افراد دسترخوان پر خالی پیٹ چھوڑ دیتے ہیں، جس سے میرا دل بری طرح ٹوٹ جاتا ہے اور میں اس کی قصوروار ہوں، میں نے اپنے سسرال والوں کو بتانے کی کوشش کی کہ میں کھانا نہیں بنا سکتی لیکن ہر بار کھانا پکانے سے انکار پر مجھے ایسا مجرم بنایا جاتا ہے جیسے میں اپنے سسرال کے لیے کھانا نہ پکانے کا گناہ کر رہی ہوں۔
میں پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا کھانا پکانا بہو کا مذہبی فریضہ ہے؟ کیا میں اپنے سسرال کے لیے کھانا نہ پکانے پر اللہ کے سامنے جوابدہ ہوں گا؟
واضح رہے کہ میاں بیوی کا باہمی رشتہ اور اسی طرح سسرالی رشتہ حسنِ اخلاق، حسنِ معاشرت اور ہمدردی و ایثار کے جذبہ سے ہی چل سکتا ہے، شریعتِ مطہرہ نے میاں بیوی کے حقوق میں توازن رکھا ہے اور حسنِ معاشرت کا حکم دے کر یہ واضح کیا ہے کہ زوجین اپنے رشتہ میں باہم اخلاقیات ،ایثار اور ہمدردی کا مظاہرہ کریں، لہذا میاں بیوی کے اِس رشتہ اور امور خانہ داری میں شریعت نے کچھ چیزیں بیوی کے ذمہ لازم نہیں کیں، اور کچھ شوہرکے ذمہ لازم نہیں کیں، لیکن حسنِ معاشرت کے باب میں دیانۃً اور اخلاقاً یہ چیزیں دونوں سرانجام دیں تو گھریلو نظام برقرار رہتا ہے، اور یہ رشتہ پھلتا پھولتا ہے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں سسرال کے لیے کھانا پکانا بہو پر شرعاً لازم نہیں ہے، اِس سلسلے میں اُس پر جبر کرنا بھی درست نہیں، اور اگر بہو انکار کرے تو گناہ گار بھی نہ ہوگی۔ البتہ معاشرتی اقدار اور اخلاقی تقاضوں کے پیش نظر عورت کو اپنے سسرال میں یہ امور سرانجام دینے چاہئیں، بالخصوص مشترکہ خاندانی نظام میں اِس کی اہمیت بڑھ جاتی ہے،کیوں کہ بیوی اگرشوھر کے والدین کی خدمت کے جذبہ سے یہ امور سرانجام دے گی تو شوھر کی نظروں میں اُس کی قدر و وقعت مزید بڑھ جائے گی اوربیوی کا یہ عمل میاں بیوی کے رشتہ میں محبت و الفت کاباعث بھی بنے گا۔
تاہم سسرال والوں کا اِس معاملہ میں سائلہ کو مُجرم تصور کرنا، لعن طعن کرنا یا کسی بھی طرح کی ذہنی اذیت پہنچانا بھی شرعاً درست نہیں ہے،یہ رویہ بے اعتدالی پر مبنی ہے،انہیں اِس معاملہ میں آپ کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے،ساتھ مِل جُل کر کھانا تیار کروانا چاہیےتاکہ آپ کے پکانے میں بہتری آجائے۔ نیز آپ کا یکسرانکار کردینا بھی مناسب نہیں ہے، کیوں کہ شوھر بھی بیوی کے متعدد ایسے کام کرتا ہے جو اُس کے ذمہ واجب نہیں ہوتے، اگر میاں بیوی ایک دوسرے کو یہ کہنا شروع کردیں کہ تمہارا یہ کام میرے ذمہ نہیں تو وہ دونوں خوشگوار زندگی نہیں گزارسکتے ہیں، اسی طرح سسرالی رشتہ دار بالخصوص ساس اور سسر کو بھی چاہیے کہ وہ اپنی بہو کو بیٹی کی طرح سمجھیں ، اسے عزت دیں، ذلیل نہ کریں، اور اس کے دکھ درد میں شریک ہوں، اور بہو کو چاہیے کہ وہ ساس و سسر کو اپنے ماں باپ کی طرح سمجھے اور حسبِ سہولت خدمت کو اپنے لیے سعادت سمجھے، اس سے گھریلو زندگی میں خوش گوار ماحول پیدا ہوگا، اور میاں بیوی کا ازدواجی رشتہ پائے دار اور مستحکم ہوگا۔
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"وإن قالت: لا أطبخ، ولا أخبز قال في الكتاب: لا تجبر على الطبخ والخبز، وعلى الزوج أن يأتيها بطعام مهيإ أو يأتيها بمن يكفيها عمل الطبخ والخبز قال الفقيه أبو الليث - رحمه الله تعالى - إن امتنعت المرأة عن الطبخ والخبز إنما يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ إذا كانت من بنات الأشراف لا تخدم بنفسها في أهلها، وإن لم تكن من بنات الأشراف لكن بها علة تمنعها من الطبخ والخبز أما إذا لم تكن كذلك فلا يجب على الزوج أن يأتيها بطعام مهيأ كذا في الظهيرية قالوا: إن هذه الأعمال واجبة عليها ديانة، وإن كان لا يجبرها القاضي كذا في البحر الرائق."
(كتاب الطلاق،الباب السابع عشر في النفقات ،الفصل الأول في نفقة الزوجة، ج:1، ص:548، ط:دارالفكر)
حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ ’’بہشتی زیور‘‘ میں خواتین کو خطاب کرکے تحریر فرماتے ہیں:
’’جب تک ساس خسر زندہ رہیں ان کی خدمت کو، ان کی تابع داری کو فرض جانو، اور اسی میں اپنی عزت سمجھو، اور ساس نندوں سے الگ ہوکر رہنے کی ہرگز فکر نہ کرو، ساس نندوں سے بگاڑ ہوجانے کی یہی جڑ ہے، خود سوچو کہ ماں باپ نے اسے پالا پوسا اور بڑھاپے میں اس آسرے پر اس کی شادی بیاہ کیا کہ ہم کو آرام ملے اور جب بہو آئی، ڈولے سے اترتے ہی یہ فکر کرنے لگی کہ میاں آج ہی ماں باپ کو چھوڑدیں ۔۔۔ جو کام ساس نندیں کرتی ہیں تو اس کے کرنے سے عار نہ کرو، تم خود بے کہے ان سے لے لو اور کردو، اس سے ان کے دلوں میں تمہاری محبت پیدا ہوجائے گی۔‘‘
(بہشتی زیور، حصہ چہارم، نکاح کا بیان، باب:۳۱، ص:۴۷-۴۸، ط: تاج کمپنی کراچی)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ”آپ کے مسائل اور اُن کا حل“میں لکھتے ہیں :
”بیوی اگر اپنی خوشی سے شوہر کے والدین کی خدمت کرتی ہے تو یہ بہت اچھی بات ہے، اور بیوی کے لیے موجبِ سعادت۔ لیکن یہ اخلاقی چیز ہے، قانونی نہیں۔“
وفیہ ایضا:
”والدین کی خدمت اولاد کا فرض ہے، اور اگر بیوی اپنی خوشی سے اُن کی خدمت کرے تو اس کی سعادت ہے، لیکن اس کو مجبور نہیں کیاجاسکتا۔ “
(کتاب النکاح، زوجیت کے حقوق، ج:۶، ص:۳۴۲-۳۴۳، ط:مکتبہ لدھیانوی)
جامعہ کے سابق رئیس دار الافتاء ”حضرت مولانا مفتی محمدعبدالسلام چاٹ گامی صاحبؒ“ ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں:
’’اگر بیوی فارغ ہو تو سسر اور ساس کی جائز خدمت کرنا اس پر لازم ہے، انسانی ہم دردی کے علاوہ اس وجہ سے بھی کہ وہ شوہر کے والدین ہیں، شوہر کے والدین کی خدمت کرنا درحقیقت شوہر کی خدمت کرنا ہے، البتہ جب وہ فارغ نہ ہو یا کوئی ایسی خدمت جو انجام دینا اس کے لیے درست نہیں، وہ بہو کے ذمہ نہیں ہے۔ فقط واللہ اعلم‘‘
(کتبہ: محمد عبدالسلام، 4/2/1412)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100748
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن