بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

4 ربیع الاول 1448ھ 18 اگست 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کے انتقال کے بعد والد کا اس فوت شدہ بیٹے کی بیوہ سے نکاح کرنا


سوال

ایک شخص کا شادی شدہ بیٹا فوت ہوا ہے، اس بیٹے کی اولاد بھی ہے، اور بیوہ بھی زندہ ہے، اب وہ شخص اپنے بیٹے کی بیوہ  (یعنی سسر اپنی بہو) سے نکاح کرنا چاہتا ہے، اور اسے نکاح پر مجبور کر رہا ہے،اور  کچھ علماء اس نکاح کو جائز کہہ کر اس کی تائید بھی کر رہے ہیں۔

لہذا اس معاملے کا شرعی حکم کیا ہے؟آیا سسر اپنے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ سے نکاح کر سکتا ہے؟ جب کہ فوت شدہ بیٹے نے اپنی بیوی کے ساتھ ازدواجی زندگی گزاری ہے، اور بچے بھی پیدا ہوئے ہیں۔

جواب

واضح رہے کہ بیٹا جب کسی عورت سے نکاح  کرے چاہیے وہ اس سےصحبت کرے یا نہ کرے وہ عورت ہمیشہ کے لیے اپنے سسر پر حرام ہوجاتی ہے ،لہذا     صورتِ مسئولہ میں سسر کا اپنے فوت شدہ بیٹے کی بیوہ سے نکاح کرنا ناجائز و حرام ہے، اگر نکاح کر لیا تو منعقد ہی نہیں ہو گا۔ جو لوگ اسے جائز قرار دے رہے ہيں وه غلطي پر ہيں ۔

قرآن کریم میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے: 

"{حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ وَبَنَاتُ الْأَخِ وَبَنَاتُ الْأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللَّاتِي فِي حُجُورِكُم مِّن نِّسَائِكُمُ اللَّاتِي دَخَلْتُم بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُم بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلَائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلَابِكُمْ وَأَن تَجْمَعُوا بَيْنَ الْأُخْتَيْنِ إِلَّا مَا قَدْ سَلَفَ ۗ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًا (23)}"سورہ النساء

ترجمہ:"تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں اور تمہاری بیٹیاں   اور تمہاری بہنیں   اور تمہاری پھوپھیاں   اور تمہاری خالائیں   اور بھتیجیاں اور بھانجیاں   اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دودھ پلایا ہے (یعنی انا) اور تمہاری وہ بہنیں جو دودھ پینے کی وجہ سے ہیں   اور تمہاری بیبیوں کی مائیں   اور تمہاری بیٹیوں کی بیٹیاں  جو کہ تمہاری پرورش میں رہتی ہیں ان بیبیوں سے کہ جن کے ساتھ تم نے صحبت کی ہو   اور اگر تم نے ان بیبیوں سے صحبت نہ کی ہو تو تم کو کوئی گناہ نہیں اورتمہارے ان بیٹوں کی بیبیاں جو کہ تمہاری نسل سے ہوں  اور یہ کہ تم دو بہنوں کو (رضاعی ہوں یا نسبی) ایک ساتھ رکھو لیکن جو پہلے ہوچکا۔ بیشک اللہ تعالیٰ بڑے بخشنے والے بڑے رحمت والے ہیں۔"(بیان القرآن ، سورۃ النساء آیت :23)

فتاوی شامی میں ہے:

"وحرم(وزوجة أصله وفرعه مطلقا) ولو بعيدا دخل بها أو لا..(قوله: وزوجة أصله وفرعه) لقوله تعالى {ولا تنكحوا ما نكح آباؤكم} [النساء: 22] وقوله تعالى {وحلائل أبنائكم الذين من أصلابكم} [النساء: 23] والحليلة الزوجة وأما حرمة الموطوءة بغير عقد فبدليل آخر وذكر الأصلاب لإسقاط حليلة الابن المتبنى لا لإحلال حليلة الابن رضاعا فإنها تحرم كالنسب بحر وغيره...(قوله: ولو بعيدا إلخ) بيان للإطلاق أي ولو كان الأصل أو الفرع بعيدا كالجد، وإن علا وابن الابن، وإن سفل. وتحرم زوجة الأصل والفرع بمجرد العقد دخل بها أو لا".

(كتاب النكاح، فصل في المحرمات، ج:3، ص:31، ط:سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144802101388

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں