
ایک عورت کا نکاح ایک جگہ ہوا اور شادی کے تین سال بعد شوہر کا انتقال ہوا، اس کے بعد اس کی عدت بھی گزر گئی، اب لڑکی کے سسر کہتے ہیں کہ میں اس کا نکاح اپنے دوسرے بیٹے کے ساتھ کراتا ہوں اور لڑکی اس لڑکے کے ساتھ راضی نہیں ہے، وہ کہتی ہے کہ اگر میرا نکاح کرایا تو میں زہر کھا کر اپنے آپ کو مار دوں گی، اب آیا اس لڑکی کی اجازت کے بغیر اس کا نکاح ہوجائے گا یا نہیں؟ اور بعض علماء نے یہ فتوی دیا ہے کہ زبردستی بھی نکاح ہوجاتا ہے۔ لہذا اپ اس مسئلے میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ شریعت مطہرہ کی رُو سے عاقلہ بالغہ لڑکی کا نکاح درست ہونے کے لیے لڑکی کا اس نکاح پر راضی ہونا ضروری ہے، عاقلہ بالغہ لڑکی کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح نہیں ہوسکتا ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں لڑکی کے سُسَر کا لڑکی کی رضامندی کے بغیر اس کا نکاح اپنے دوسرے بیٹے سے زبردستی کروانا جائز نہیں ہے، اگر لڑکی کے سُسَر نے زبردستی لڑکی کا نکاح اپنے دوسرے بیٹے سے کروادیا اور لڑکی نے اس نکاح سے انکار کردیا تو شرعاً یہ نکاح معتبر نہیں ہوگا، بلکہ یہ نکاح کالعدم شمار ہوگا ۔
فتاوی عالمگیری میں ہے:
"لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج."
(كتاب النكاح، الباب الرابع في الأولياء في النكاح، ج:1، ص:287، ط:رشيدية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144701101978
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن