
جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت میں اگر چہ افضل یہی ہے کہ مکمل سورت کی تلاوت کی جائے تاکہ تمام احادیث پر عمل ہو جائے، لیکن اگر کوئی شخص ابتدائی تین آیات پڑھ لے، یا ابتدائی دس آیات پڑھ لے، یا آخری دس آیات پڑھ لے تو کیا کفایت ہو جائے گی؟ اگرچہ یہ تلاوت فضیلت کا باعث ہے۔
واضح رہے کہ جمعہ کے دن سورۃ الکہف کی تلاوت کی سب سے زیادہ فضیلت اس لیے ہے کہ سورۃ الکہف کی برکت سے اللہ تعالیٰ دجال کے فتنے سے اس کے پڑھنے والے کو محفوظ فرمائیں گے۔
لہٰذاجمعہ کے دن سورۂ کہف کی مکمل تلاوت افضل اور اولیٰ ہے، تاکہ اس باب میں وارد تمام احادیث پر عمل ہو جائے، تاہم اگر کوئی شخص مکمل سورت کی تلاوت نہ کر سکے اور صرف ابتدائی تین آیات یا ابتدائی دس آیات یا آخری دس آیات کی تلاوت کر لے، تو اصل فضیلت کے حصول کے لیے یہ مقدار کفایت کر جائے گی(یعنی دجال کے فتنہ سے محفوظ ہوجائے گا)، لیکن کامل سورت کی تلاوت کرنے کا جو ثواب ہے وہ حاصل نہیں ہوگا ۔
لہٰذا بہتر یہی ہے کہ استطاعت کی صورت میں پورے جمعہ کے دن میں ایک مرتبہ مکمل سورۂ کہف کی تلاوت کا اہتمام کیا جائے،کبھی ایسا ممکن نہ ہو تو مذکورہ مقدار پر اکتفا کیا جا سکتا ہے،تاہم اس کی عادت نہ بنائی جائے ۔
سنن ترمذی میں ہے:
"عن أبي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «من قرأ ثلاث آيات من أول الكهف عصم من فتنة الدجال."
(أبواب فضائل القرآن،باب ما جاء في فضل سورة الكهف، ج:5، ص:162، ط:شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي الحلبي - مصر)
مسند امام احمد میں ہے:
"عن أبي الدرداء، عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال: " من قرأ عشر آيات من آخر الكهف، عصم من فتنة الدجال ". قال حجاج: " من قرأ العشر الأواخر من سورة الكهف."
(من حديث أبي الدرداء عويمر، ج:45، ص:509،الرقم:27517، ط: مؤسسة الرسالة)
وفیه ایضاً:
"عن سهل بن معاذ، عن أبيه، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: " من قرأ أول سورة الكهف وآخرها، كانت له نورا من قدمه إلى رأسه، ومن قرأها كلها، كانت له نورا ما بين السماء إلى الأرض."
(حديث معاذ بن أنس الجهني، ج:24، ص:15، الرقم:15626، ط:مؤسسة الرسالة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706101560
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن