بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 محرم 1448ھ 07 جولائی 2026 ء

دارالافتاء

 

سورۃ الرحمن کی تلاوت حق مہر میں مقرر کرنے کاحکم


سوال

میرے نکاح کا معاملہ طے ہو چکا ہے۔ لڑکی نومسلم (Revert) ہے اور اس کی خواہش ہے کہ مہر میں سونا، چاندی یا زیورات نہ رکھے جائیں، کیونکہ اسے ان چیزوں کی رغبت نہیں ہے۔ اس کی خواہش یہ ہے کہ مہر کے طور پر میں اسے سورۂ الرحمن سناؤں ( تلاوت کروں) اور  کچھ چاکلیٹس بطور تحفہ دوں۔

اس سلسلے میں درج ذیل امور کی شرعی رہنمائی مطلوب ہے:

1۔ کیا صرف سورۂ الرحمن کی تلاوت یا سنانا مہر قرار دینا شرعاً درست ہے؟

2۔ کیا صرف چاکلیٹس کو مہر مقرر کرنا جائز ہے، جبکہ وہ مالی مالیت رکھتی ہیں؟

3۔اگر مہر میں سورۂ الرحمن کی تلاوت اور چاکلیٹس دونوں مقرر کیے جائیں تو کیا یہ شرعاً صحیح ہوگا؟

4۔ اگر سورۂ الرحمن کو مہر بنانا درست نہ ہو تو کیا چاکلیٹس کو مہر مقرر کرکے سورۂ الرحمن کی تلاوت بطورِ محبت و تحفہ کی جا سکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی چیز کے حقِ مہر بننے کے لیے لازمی ہے کہ وہ شرعاً و عرفاً مال ہو، اور جو چیز شرعاً و عرفاً مال نہ ہو اسے بطورِ مہر مقرر کرنا جائز نہیں ہے؛ اس لیے زوجین کی رضامندی سے ہر وہ چیز مہر مقرر کی جا سکتی ہے جو مال ہو اور اس کی مالیت دس درہم یعنی (دو تولہ ساڑھے سات ماشہ چاندی، اور موجودہ اوزان کے بموجب اس کی مقدار 30 گرام 618 ملی گرام چاندی) کی مالیت کے برابر ہو، اس سے کم مال بطورِ مہر مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے۔

1۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا قرآن مجید کی تلاوت کو بطورِ مہر مقرر کرنا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ قرآن مجید کی تلاوت مال نہیں ہے اور مہر کے لیے مال کا ہونا ضروری ہے۔

2۔ اگر چاکلیٹ کی مالیت دس درہم کی مالیت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو، تو اس کو بطورِ مہر مقرر کرنا جائز ہے، اس سے کم بطورِ مہر مقرر کرنا جائز نہیں ہے۔

3۔ مہر میں سورۂ الرحمن کی تلاوت اور چاکلیٹ (جس کی مالیت دس درہم کے برابر ہو) کو بطورِ مہر مقرر کرنے سے صرف چاکلیٹ ہی مہر ہو گا، سورۂ الرحمن کی تلاوت مہر نہیں ہو گی۔

4۔ چاکلیٹ (جس کی مالیت دس درہم کی مالیت کے برابر ہو) بطورِ مہر مقرر کر کے سورۂ الرحمن کی تلاوت تحفے میں دینا بالکل جائز ہے۔

ارشاد باری تعالی ہے  :

"وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ مُحْصِنِينَ غَيْرَ مُسَافِحِينَ فَمَا اسْتَمْتَعْتُمْ بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ فَرِيضَةً وَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا تَرَاضَيْتُمْ بِهِ مِنْ بَعْدِ الْفَرِيضَةِ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلِيماً حَكِيماً (24) "

ترجمہ:"اور ان عورتوں کے سوا اور عورتیں تمہارے لئے حلال کی گئی ہیں یعنی یہ کہ تم ان کو اپنے مالوں کے ذریعہ سے چاہو اس طرح سے کہ تم بیوی بناؤ صرف مستی ہی نہ نکالنا ہو پھر جس طریق سے تم ان عورتوں سے متمتع ہوئے ہو سو ان کو ان کے مہر دو جو کچھ مقرر ہو چکے ہیں اور مقرر ہوئے بعد بھی جس پر تم باہم رضامند ہو جاؤ۔ اس میں تم پر کوئی گناہ نہیں۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ بڑے جاننے والے ہیں بڑی حکمت والے ہیں۔"(  ازبیان القرآن )

فتاوی شامی میں ہے:

"(قوله: وفي تعليم القرآن) أي يجب مهر المثل فيما لو تزوجها على أن يعلمها القرآن أو نحوه من الطاعات لأن المسمى ليس بمال."

(كتاب النكاح، باب المهر، ج:3، ص: 107، ط:ايج ايم سعيد)

بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما بيان أدنى المقدار الذي يصلح مهرا فأدناه عشرة دراهم أو ما قيمته عشرة دراهم، وهذا عندنا............. ((ولنا) قوله تعالى: {وأحل لكم ما وراء ذلكم أن تبتغوا بأموالكم} [النساء: 24] شرط سبحانه وتعالى أن يكون المهر مالا. والحبة والدانق ونحوهما لا يعدان مالا فلا يصلح مهرا، وروي عن جابر - رضي الله عنه - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: لا مهر دون عشرة دراهم، وعن عمر وعلي وعبد الله بن عمر - رضي الله عنهم - أنهم قالوا: لا يكون المهر أقل من عشرة دراهم، والظاهر أنهم لأنه باب لا يوصل إليه بالاجتهاد والقياس؛ ولأنه لما وقع الاختلاف في المقدار يجب الأخذ بالمتيقن وهو العشرة. وأما الحديث ففيه إثبات الاستحلال، إذا ذكر فيه مال قليل لا تبلغ قيمته عشرة".

 (كتاب النكاح، فصل بيان أدنى المقدار الذي يصلح مهرا، ج:2، ص: 276، ط: دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144801100895

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں