
{ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابْتَغُوا إِلَيْهِ الْوَسِيلَةَ وَجَاهِدُوا فِي سَبِيلِهِ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ }(35) (سورة المائدة)۔ اس آیت سے ہمارے یہاں کے چند مشائخ مرشد پکڑنے کی دلیل دیتے ہیں۔ یعنی اس آیت کی تفسیر کرتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا مرشد بناؤ، مرشد تلاش کرو۔ دوسرے علماء کو کہتے ہوئے سنا کہ یہ تفسیر غلط ہے۔مہربانی کر کے رہنمائی فرمائیں۔
سورۃ المائدہ کی مذکورہ آیت نمبر 35 میں وسیلہ سے مراد نیک اعمال ہیں، مرشد نہیں۔ یعنی آیت میں طاعات کے ذریعے اللہ کا قرب حاصل کرنے کا حکم ہے؛ لہٰذا اس آیت کو بعض مشائخ کا مرشد بنانے کی دلیل بنانا درست نہیں۔البتہ وسیلہ کے لغوی معنی کے لحاظ سے اس میں نیک لوگوں کی صحبت بھی شامل ہے۔
تفسير طبری میں ہے:
"حدثنا بشر قال، حدثنا يزيد قال، حدثنا سعيد، عن قتادة قوله:"وابتغوا إليه الوسيلة"، أي: تقربوا إليه بطاعته والعملِ بما يرضيه."
(سورۃ المائدۃ، ج:10، ص:291، ط:دار التربية والتراث)
بیان القرآن میں ہے:
”قولہ تعالی:وَابْتَغُوا الخ وسل بمعنی تقرب کے ہے، جس کا ذریعہ طاعات کا کرنا اور معاصی کا چھوڑنا ہے، اور توسل بالصالحین کے مسئلہ کو اس آیت سے کوئی مس نہیں(من روح المعانی)“۔
(ج:1، ص:476، ط:مکتبہ رحمانیہ)
معارف القرآن میں ہے:
” اور سین کے ساتھ لفظِ وسیلہ کے معنی اس چیز کے ہیں جو کسی کو کسی دوسرے سے محبت و رغبت کے ساتھ ملادے(لسان العرب، مفرداتِ راعب)۔۔۔۔
اس میں جس طرح ایمان اور عمل صالح داخل ہیں، اسی طرح انبیاء و صالحین کی صحبت و محبت بھی داخل ہے کہ وہ بھی رضائے الہی کے اسباب میں سے ہے۔“
(ج:3، ص:126-128، ط:مکتبہ معارف القرآن)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144706100847
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن