
کیا سپاری یعنی: چھالیا کھانا، خریدنا یا فروخت کرنا اسلام میں جائز ہے یا نہیں؟
چھالیہ کھانا جائز ہے، اسی طرح اس کا کاروبار بھی فی نفسہ جائز ہے، لیکن عوام الناس کے مفاد کی خاطر حکومتی سطح پر جن چیزوں کی خرید و فروخت ممنوع ہو، اس سے اجتناب ضروری ہے؛ کیوں کہ کسی بھی ریاست میں رہنے والا شخص اس ریاست میں رائج قوانین پر عمل درآمد کا (خاموش) معاہدہ کرتاہے، اور جائز امور میں معاہدہ کرنے کے بعد اسے پورا کرنا دیانۃً ضروری ہوتاہے؛ اس طرح کے جائز امور سے متعلق قانون کی خلاف ورزی گویا معاہدہ کی خلاف ورزی ہے، اور معاہدے کی خلاف ورزی سے شریعت نے منع کیا ہے۔ نیز قانون شکنی کی صورت میں مال اور عزت کا خطرہ رہتا ہے، اور پکڑے جانے کی صورت میں مالی نقصان کے ساتھ ساتھ سزا ملنے کا بھی اندیشہ ہوتا ہے، اور اپنے آپ کو ذلت کے مواقع سے بچانا ضروری ہے، لہذا اگر قانونی طور پر چھالیہ کی خرید و فروخت منع ہو تو اس پر عمل کرنا چاہیے۔
قرآن مجید میں ہے:
{واوفوا بالعهد إن العهد كان مسئولًا} [الإسراء: 34]
ترجمہ: اور عہد کو پورا کیا کرو؛ بے شک عہد کی باز پرس ہونے والی ہے۔ (بیان القرآن)
فتاوی شامی میں ہے:
"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع".
(باب البيع الفاسد، ج:5، ص:69، ط:ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول.
قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه.
(قوله: ربما أضر بالبدن) الواقع أنه يختلف باختلاف المستعملين ط (قوله: الأصل الإباحة أو التوقف) المختار الأول عند الجمهور من الحنفية والشافعية كما صرح به المحقق ابن الهمام في تحرير الأصول (قوله: فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه."
(كتاب الأشربة ، ج : 6 ، ص : 460، ط : ایچ ایم سعید)
فتاوی شامی میں ہے:
"(وصح بیع غیر الخمر ) ومفاده صحة بیع الحشیشة و الأفیون".
(كتاب الأشربة ، ج:6 ، ص:454، ط:ایچ ایم سعید)
بدائع الصنائع میں ہے:
"لأنّ طاعة الإمام فيما ليس بمعصية فرض، فكيف فيما هو طاعة؟"
(كتاب السير، فصل فى أحكام البغاة، ج:9، ص :453، ط:دار الحديث. القاهرة)
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144704101545
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن