بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سنی لڑکے کا شیعہ لڑکی سےنکاح کا حکم


سوال

میرا تعلق ایک سنی گھرانے سے ہے،میں ایک شیعہ لڑکی سےشادی کرناچاہتاہوں ،اس کےلئےمیں نےاپنےوالدین سےبات کی توانہوں نےمیری مخالفت کی اورکہاکہ یہ غیرشرعی ہے۔

1۔اب سوال یہ ہےکہ کیا واقعتاً سنی لڑکے کا  شیعہ لڑکی سے نکاح  جائز نہیں ہوتا؟

2۔اگر ناجائز ہےتو کیا جواز کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟

جواب

2۔1۔اگرکوئی شیعہ  حضرت علی رضی اللہ عنہ میں اعتقادِ الوہیت رکھے، یا یہ کہ حضرتِ جبریل علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھے کہ انہوں نے وحی پہنچانے میں یا یہ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے صحابی ہونے کا انکار کرے، یا حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر قذف و تہمت لگائے تو ایسے عقائدرکھنےوالاشیعہ کافر ہے؛ کیوں کہ یہ  قطعیات کا انکار کرتاہے،ایسےشیعہ کےساتھ خواہ لڑکاہویالڑکی   اہل السنت و الجماعت لڑکےیالڑکی کانکاح منعقد نہیں ہوتا۔

اوراگرایسےکفریہ عقائدنہ رکھتاہوتوکافرتونہیں   البتہ مبتدع و فاسق ضرور ہے، جس سے نکاح بوجہ عدمِ کفاءت درست نہیں۔

لہذاصورت مسئولہ میں سائل مذکورہ لڑکی کےساتھ نکاح  کرنےسےاجتناب کرےاوروالدین کی رضامندی کودیکھے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"نعم لا شك في تكفير من قذف السيدة عائشة - رضي الله تعالى عنها - أو أنكر صحبة الصديق، أو اعتقد الألوهية في علي أو أن جبريل غلط في الوحي، أو نحو ذلك من الكفر الصريح المخالف للقرآن."

(کتاب الجهاد، مطلب فی توبۃ الیأس مقبولۃ، ج: 4، ص: 237، ط: سعید)

بدائع الصنائع میں ہے:

'' ومنها أن لا تكون المرأة مشركةً إذا كان الرجل مسلماً، فلا يجوز للمسلم أن ينكح المشركة."

(کتاب النکاح، ج: 2، ص: 272، ط: دار الكتب العلمية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144707100926

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں