
عام طور پہ کہا جاتا ہے کہ مسلمان کا لباس ایسا ہونا چاہیے جیسا کہ صلحا، علماء اور متقی لوگ پہنتے ہیں۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ لباس ایسا ہونا چاہیے جس سے ستر بھی ڈھک جائے اور جسم کی ہیئت بھی چھپ جائے۔ مگر آج کل دیکھا جائے تو کہیں پہ علماء اور صلحا شلوار سوٹ پہنتے ہیں کہیں پہ پینٹ شرٹ کوٹ بھی پہنتے ہیں ۔ دین کی تبلیغ کرنے والے کچھ بڑے معروف لوگ ہیں مگر یہ لوگ پینٹ شرٹ پہنتے ہیں اب پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ؛ 1۔ لباس کس قسم کا ہونا چاہیے؟ 2۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کس قسم کا لباس ہوتا تھا؟ 3۔ ہمارے ہاں مروجہ شلوار سوٹ، کیا یہ لباس سنت کے مطابق ہوگا ؟ 4۔ اور اسی طرح آج کل مردوں کے لباس میں کرتا اور تنگ سا پاجامہ چل رہا ہے۔ کیا ایسا لباس پہننا ٹھیک ہے؟ 5۔ عرب کے لوگ جو لمبا کرتا پہنتے ہیں کیا وہ بھی سنت کے مطابق شمار ہوگا؟ برائے مہربانی رہنمائی فرما دیں کہ مسلمان کو کس قسم کا لباس پہننا مناسب ہے؟ ایسے ہی عورتوں بچوں کے بارے میں بھی رہنمائی فرما دیں کہ ان کا لباس کس قسم کا ہو جسے سنت کے مطابق کہا جا سکے۔6۔ یہ بھی بتا دیں کہ کیا چھوٹے بچوں اور بچیوں کے لیے ٹراؤزر اور شرٹ وغیرہ کی گنجائش ہے؟
1-لباس کے سلسلے میں جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوالِ مبارکہ ہیں ان کو محدثینِ کرام نے جمع کیا ہے اور فقہاءِ کرام نے ان ہی احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں مرد اور عورت کے لباس کے احکام بتلائے ہیں ۔ان احادیثِ مبارکہ میں غور کرنے سے چند اَحکام معلوم ہوتے ہیں:
1- لباس کا سب سے اولین مقصد سترکو چھپانا ہے، اسی لیے اگر لباس ایسا ہو کہ وہ سترپوشی کا کام نہیں دیتا ، خواہ ناقص لباس ہو یا لباس تو پورا ہو لیکن اتنا تنگ اور چست لباس ہو جس سے اعضاء مستورہ کی حکایت اوران کی تصویر سامنے آتی ہو ا ایسا خفیف لباس ہو جس سے جسم کے اعضاء نظر آئیں۔ تو ایسا لباس خواہ مرد کا ہو یا عورت کا ، سب کے لیے ناجائز ہے ۔
2- اسی طرح مرد اور عورت یا کافر اور مسلمان کے درمیان ظاہری فرق لباس سے حاصل ہوتا ہے اور اگر ایک دوسرے کا لباس پہناجائے تو مشابہت کی وجہ سے امتیاز ختم ہونے کا اندیشہ ہے؛ اس لیے ایک دوسرے کی مشابہت اختیار کرنے سے منع فرمایا گیا ہے۔
3- مرد شلوار،پائجامہ یا تہبند وغیرہ اتنا نیچے نہ پہنیں کہ ٹخنے یا ٹخنوں کا کچھ حصہ چھپ جائے اور نہ ہی خواتین شلوار وغیرہ اتنی اونچی پہنیں کہ ان کے ٹخنے ظاہر ہوجائیں۔
4- لباس میں سادگی ہو، تصنع، بناوٹ یا نمائش مقصود نہ ہو،مال دار شخص نہ تو فاخرانہ لباس پہنے اور نہ ہی ایسا لباس پہنے کہ اس سے مفلسی جھلکتی ہو، اپنی مالی استطاعت کے مطابق ہی لباس کا اہتمام ہونا چاہیے۔
5- مرد کے لیے خالص ریشم (یا جس کپڑے کا بانا ریشم کا ہو) پہننا حرام ہے۔ مرد کے لیے خالص سرخ یا زعفرانی رنگ مکروہ ہے ، البتہ سرخ کے ساتھ کسی اور رنگ کی بھی آمیزش ہو تو جائز ہے۔ نیز مردوں کے لیے سفید رنگ پسندیدہ ہے ۔ اور عورتوں کا لباس زیادہ خوشبو والا نہ ہو۔
حوالہ جات کے لئے ملاحظہ ہو لنك میں فتوی ملاحظہ ہو:
3،2-۔رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام کے استعمال کردہ لباس میں ازار (تہبند)، چادر اور قمیص کا ذکر تو عام ملتاہے، اور شلوار کا استعمال صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت ہے، اور رسول اللہ ﷺ سے بھی شلوار خریدنا ثابت ہے، اور بعض روایات کے مقتضی سے آپ ﷺ سے بھی استعمال ثابت ہے، نیز آپ ﷺ نے اسے پسند فرمایا کہ اس میں ستر کا لحاظ زیادہ ہے۔ بہر حال جو شخص رسول اللہ ﷺ کا لباس اختیار کرنا چاہے تو قمیص یا چادر کے ساتھ تہبند پہننا آپ ﷺ کا معمول تھا، لیکن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امت کے صلحاء کرام سے چوں کہ شلوار کا استعمال ثابت ہے، بلکہ اہلِ علم کی اصطلاح میں جس عمل کو رسول اللہ ﷺ نے دیکھ کر اس سے منع نہ کیاہو، بلکہ سکوت فرماکر اس کی تائید وتصویب کی ہو تو وہ بھی حدیث سے ثابت شدہ کہلاتاہے۔ لہٰذا شلوار اور قمیص کو بھی سنت سے ثابت شدہ لباس کہا جائے گا۔باقی شلوار اور قمیص کی بناوٹ اور سلائی کی خاص وضع مقرر نہیں ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے لباس کے لیے عمومی اصول کی طرف بھی راہ نمائی فرمائی ہے، اس کی روشنی میں لباس اختیار کرنا چاہیے، نیز ملحوظ رہے کہ پتلون اگر اتنی چست ہو کہ جس سے اعضاء مستور کی ہئیت اور خد و خال نظر آتے ہوں تو ایسی پتلون پہننا شرعاً جائز نہیں، البتہ اگر پتلون ڈھیلی ڈھالی ہو اعضاء مستور کی ہئیت اور حجم نمایاں نظر نہ آتا ہو تو ایسا کوٹ پتلون فی نفسہ جائز تو ہوگا لیکن جس علاقے کے عرف میں یہ لباس مبلغین اور علماء کا نہ ہو تو وہاں ان کے لیے مناسب نہیں ہے کہ ایسا لباس پہنیں۔
5۔عربی جبہ کا حکم بھی گزشتہ تفصیل سے سمجھ لینا چاہیے۔
6۔ نابالغ بچے اگرچہ احکامات کے مکلف نہیں ہیں،اس لیے بالکل چھوٹے بچوں کو ٹی شرٹ وغیرہ پہنائے جاسکتے ہیں تاہم بچے جب کچھ سمجھ درا ہوجائیں تو والدین کے ذمہ لازم ہے کہ غیر شرعی لباس سے اجتناب کروائیں ، تاکہ بالغ ہونے کہ بعد بچے بچیاں لباس کے حوالہ سے بے راہ روی کا شکار نہ ہوں۔ نیز بچپن سے جس چیز کی عادت ڈالی جائے گی وہی پختہ ہوجائے گی۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144508101270
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن