
1۔ جن روایات کے ذریعے روزانہ کی بارہ رکعتیں اور تراویح کو سنت مؤکدہ قرار دیا گیا اور نہ پڑھنے پر گناہ کا حکم ہے، براہ کرم ان روایات اور طرز استدلال کے بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
2۔ اس بات کو مع الدلیل واضح فرمادیں کہ سنت مؤکدہ بلا عذر چھوڑنے والا گناہ گار ہوگا یا نہیں؟ جب کہ تارکِ سنت کی نیت یہ ہو کہ نمازیں تو صرف فرض و واجب ادا کرنا ضروری ہے، سنت چاہے پڑھیں یا نہ پڑھیں، اگر پڑھیں تو ثواب ملے گا اوراگر نہ پڑھیں تو گناہ نہیں، کیوں کہ بات یہ ہے کہ یہ اعمال تو خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جاری کیے ہیں، حالاں کہ ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سے اعمال ایسے ہیں جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مواظبت فرمائی، لیکن وہ سنت مؤکدہ نہیں، جیسے تہجد پڑھنا، مسواک کرنا، یومِ عاشورہ کا روزہ رکھنا وغیرہ، اسی بنا پر یہ لوگ موصوف فقہائے کرام کے طرف سے سنت مؤکدہ کے تعین کو وہ نہیں سمجھتے، ان اعتراضات کے جواب، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اعمال خود کیا اور اس پر مواظبت فرمائی اس اعمال کو کرنے کا امت پر حکم اور نہ کرنے پر گناہ کی وضاحت مع الدلیل رہنمائی فرمادیں ۔
3۔ نماز تہجد نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی یا نہیں؟ اور امت پر اس کا حکم کیا ہے؟ کیوں کہ نبی علیہ السلام نے اس پر مواظبت فرمائی ہے اور فضائل بھی بتائے ہیں۔
جواب سے قبل چند باتیں ملحوظ رکھی جائیں:
قرآن کریم کے اکثر احکام اجمالی اور اصولی طور پر آئے ہیں، جن کی تفصیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے 23 سال کی مدت میں اپنے قول وفعل سے بیان فرمائی، اور حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس پر عمل کر کے دکھلا یا، اسی کو مدِ نظر احکام کی درجہ بندی بعد کے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے فرمائی ہے کہ کونسا عمل فرض ہے اور کون سا واجب اور کونسا سنت مؤکدہ اور کونسا سنت غیر مؤکدہ، اور ہر ایک کے کرنے اور نہ کرنے کی صورت میں احکامات بیان فرمائے۔ نیز فقہاء اور ائمہ مجتہدین رحمہم اللہ نے احکامات کی یہ درجہ بندی کمال علم، اصول دین میں گہری نظر اور تقوی وللہیت کے اعلی درجہ پہ من جانب اللہ فائز ہونے کی بنیاد پر کی ہے، جس کی مثال ونظیر بعد کے زمانے میں نہیں ملتی، لہذا بعد میں آنے والے متبعین کے لیے ان کی تقلید لازم ہوئی اور جس عمل کو انہوں نے نصوص کی بنیاد پر فرض قرار دیا، متبعین کے نزدیک وہ فرض ہی ہے خواہ متبع دلیل سمجھنے سے عاجز ہو، کیوں کہ ہر ایک شخص اس درجہ کی فقہی بصیرت کا حامل نہیں ہوسکتا جس کےذریعے وہ فقہاء اور ائمہ مجتہدین کے دلائل اور طرز استدلال کو سمجھ سکے، اس لیے ائمہ اربعہ کے مقلدین کے لیے اپنے ائمہ کی تقلید لازم ہے اگرچہ وہ ان کی دلیل اور اور طرز استدلال سے ناواقف ہوں۔
مذکورہ بات ذہن میں رکھتے ہوئے یہ سمجھنا چاہیے کہ فقہائے احناف نے سنت کی دو قسمیں بیان کی ہیں:
سنت مؤکدہ وہ ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مواظبت اختیار فرمائی ہو یا کام کے کرنے کی تاکید کی ہو، اور اسے بلا عذر کبھی ترک نہ کیا ہو، تو ایسے عمل کا چھوڑنا اور اس کے ترک کی عادت بنا لینا گناہ ہے۔ اور سنت غیرمؤکدہ وہ عمل ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے موظبت اختیار نہ کی ہو، اور کبھی بغیر عذر کے ترک بھی کیا ہو ایسے کام کرنے والا ثواب کا مستحق ہوتا ہے، البتہ اس کو چھوڑنے والا عذاب یا ملامت کا مستحق نہیں ہوتا۔
ارشادِ باری تعالی ہے:
وَمَآ اٰتٰکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْهُ وَمَا نَهٰکُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوْا.(الحشر، 59: 7)
ترجمہ:"اور جو کچھ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تمہیں عطا فرمائیں سو اُسے لے لیا کرو اور جس سے تمہیں منع فرمائیں سو (اُس سے) رُک جایا کرو۔"
دوسری جگہ ارشاد ہے:
﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59) ﴾
ترجمہ:اے ایمان والو تم الله کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو اور تم میں جو لوگ اہل حکومت ہیں ان کا بھی پھر اگر کسی امر میں تم باہم اختلاف کرنے لگو تو تم اس امر کو الله تعالیٰ اور رسول کے حوالہ کردیا کرو اگر تم الله تعالیٰ پر اور یوم قیامت پر ایمان رکھتے ہو یہ امور سب بہتر ہیں اور ان کا انجام خوشتر ہے ۔(بیان القرآن)
ایک اور جگہ ارشاد ہے:
﴿قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ (31) قُلْ أَطِيعُوا اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْكَافِرِينَ (32) ﴾
ترجمہ : آپ فرمادیجئیے کہ اگر تم خدا تعالیٰ سے محبت رکھتے ہو تو تم لوگ میرا اتباع کرو خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگیں گے اور تمھارے سب گناہوں کو معاف کردیں گے اور الله تعالیٰ بڑے معاف کرنے والے بڑے عنایت فرمانے والے ہیں ۔(بیان القرآن)
ان ارشادات کا تقاضا تو یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلمکا ہر قول وفعل واجب العمل ہے، اور چھوڑنے کی وجہ سے آدمی گناہ گار اور شفاعت سے محروم ہوجائے، لیکن فقہاء کرام نے امت کی آسانی کے لیے سنتوں کی تقسیم کی کہ بعض سنتیں مؤکدہ ہیں اور بعض غیر مؤکدہ،یہ فرق فقہاء کرام نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ اور حضرات صحابہ کرام کے عمل کو ملحوظ رکھتے ہوئے اصول شریعت میں گہرے غور فکر کے بعد کیا، اور جو مؤکدہ اور غیر مؤکدہ کی تعریف بعد کے علماء نے کی، وہ ان فقہاء کے اصول ومنہج کو سامنے رکھ کی ہیں، ورنہ درحقیقت یہ طے کرنا کہ فلاں سنت مؤکدہ ہے اور فلاں غیر مؤکدہ، ائمہ مجتہدین کا کام ہے، نہ کہ بعد کے وہ علماء جنہوں نے مؤکدہ وغیر مؤکدہ کی تعریف کی ہے۔
مذکورہ باتیں پیش نظر رکھتے ہوئے سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں:
1۔ فقہاء نے دن ورات میں بارہ رکعات کو نصوصِ شرع کی بنیاد پر سنتِ مؤکدہ قرار دیا ہے، اسی طرح تراویح کو بھی سنتِ مؤکدہ قرار دیا گیا ہے، اس کی دلیل وہ تمام آثار وروایات ہیں جن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان نمازوں کے ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے اور خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے ان پر مواظبت بھی منقول ہے، ان سنتوں کو بلا عذر چھوڑنے پر گناہ کا حکم ان نصوص کی بنا پر ہے، جن میں سنتیں ادا کرنے کی تاکید اور چھوڑنے پر وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔
تراویح کی بیس رکعت سنتِ مؤکدہ ہے، روایات میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیس رکعات ادا کرنا ثابت ہے، اور یہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین، تابعین اور تبع تابعین رحمہم اللہ کا معمول تھا، اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور امتِ محمدیہ کے فقہاء کا اجماع ہے، بیس سے کم جتنی رکعات تراویح ادا کی جائے گی اتنی رکعات تو ادا ہوجائیں گی، لیکن مکمل تراویح ادا نہیں ہوگی، اور چوں کہ بیس رکعات تراویح پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے اور سنتِ مؤکدہ کو مستقل طور پر یا سستی اور غفلت کی وجہ سے چھوڑ دینا باعثِ گناہ ہے، اور اس پر اصرار کرنے والا فاسق ہے اور روزِ قیامت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محرومی کا خطرہ ہے۔
2۔ مذکورہ بالا تمہید میں ذکر کیے گئے ارشاداتِ قرآنی اور احادیث نبویہ اس بات پر صریح ہیں کہ سنتِ نبوی کو بلا عذر ترک کرنا اللہ تعالی کی نافرمانی ہے، اور اللہ تعالی کی نافرمانی گناہ کا باعث ہے۔ رہی بات ان اعمال کی جن پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مواظبت ثابت کرنا ہے اور وہ سنتِ مؤکدہ بھی نہیں ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ بہت سے اعمال حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذاتِ اقدس کے ساتھ خاص ہیں یا دیگر ادلہ ان کے سنتِ مؤکدہ ہونے کے منافی ہیں، ان میں سے تہجد کی نماز اور یوم عاشوراء کا روزہ بھی ہے، اس لیے اکثر علماء کے نزدیک تہجد کی نماز سنتِ مؤکدہ نہیں ہے اگر چہ بعض علماء اس کے سنتِ مؤکدہ ہونے کے بھی قائل ہیں، اسی طرح عاشوراء کا روزہ بھی سنتِ مؤکدہ نہیں ہے،البتہ مسواک سنتِ مؤکدہ ہے، فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے۔
3۔ابتداء اسلام میں حضورصلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں پر نماز تہجد فرض تھی، پھر مسلمانوں کے حق میں اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی، البتہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں اس کی فرضیت منسوخ ہونے میں اختلاف ہے، بعض کے نزدیک اخیر عمر تک تہجد فرض تھی اور بعض کے نزدیک اس کی فرضیت منسوخ ہوگئی تھی۔
تفصیل کے لیے صوفی عبدالحمید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب" نمازِ مسنون "مطالعہ کریں۔
صحیح بخاری میں ہے:
"عن عبد الله بن عمر: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي: قبل الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين في بيته، وبعد العشاء ركعتين، وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف، فيصلي ركعتين."
(كتاب الصلاة، باب الصلاة بعد الجمعة وقبلها، ج: 1، ص: 317، رقم الحديث: 946، ط: دار التاصيل)
سنن الترمذی میں ہے:
"عن عطاء، عن عائشة، قالت: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ثابر» على ثنتي عشرة ركعة من السنة بنى الله له بيتا في الجنة: أربع ركعات قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد المغرب، وركعتين بعد العشاء، وركعتين قبل الفجر."
(أبواب الصلاة، ج: 1، ص: 439، رقم الحديث: 414، ط: دار الغرب الإسلامي - بيروت)
سنن ابی داود میں ہے:
"عن أم حبيبة، قالت: قال النبي صلى الله عليه وسلم: «من صلى في يوم ثنتي عشرة ركعة تطوعا، بني له بهن بيت في الجنة»."
(كتاب الصلاة، باب تفريع أبواب التطوع وركعات السنة، ج: 1، ص: 486، رقم الحديث: 1250، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)
وفيه ايضا:
"عن عبد الله بن عمر، «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي قبل الظهر ركعتين، وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين في بيته، وبعد صلاة العشاء ركعتين، وكان لا يصلي بعد الجمعة حتى ينصرف فيصلي ركعتين."
(كتاب الصلاة، باب تفريع أبواب التطوع وركعات السنة، ج: 1، ص: 486، رقم الحديث:1252، ط: المطبعة الأنصارية بدهلي)
صحیح ابن حبان میں ہے:
"عن ابن عمر رضي الله عنهما، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "رحم الله امرءا صلى قبل العصر أربعا."
(القسم الأول: الأوامر، النوع الثاني، ذكر دعاء النبي صلى الله عليه وسلم بالرحمة لمن صلى قبل العصر أربعا، ج: 1، ص: 198، ط: دار ابن حزم)
الدرایہ فی تخریج احادیث الہدایہ میں ہے:
"وأما ما يتعلق بالعشاء ففي سنن سعيد بن منصور من حديث البراء رفعه 'من صلى قبل العشاء أربعا كان كأنما تهجد من ليلته ومن صلاهن بعد العشاء كمثلهن من ليلة القدر'، وأخرجه البيهقي من حديث عائشة موقوفا وأخرجه النسائي والدارقطني موقوفا على كعب."
(كتاب الصلاة، باب النوافل، ج: 1، ص: 198، ط: دار المعرفة)
مؤطا امام مالک میں ہے:
"كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب في رمضان بثلاث وعشرين ركعة."
(كتاب الصلاة في رمضان، باب ما جاء في قيام رمضان، ج: 1، ص: 115، رقم الحدیث، ط: دار إحياء التراث العربي)
مصنف ابن ابی شیبہ میں ہے:
"عن ابن عباس رضي الله عنهما: أن النبي صلي الله عليه وسلم يصلي في رمضان عشرين ركعةً سوی الوتر."
(في صلاة رمضان، كم يصلي في رمضان من ركعة، ج: 5، ص: 157، رقم الحديث، 7902، ط: دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض - السعودية)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح میں ہے:
"لكن أجمع الصحابة على أن التراويح عشرون ركعةً."
(باب قیام شھر رمضان، ج: 3، ص: 973، ط: دار الفكر، بيروت - لبنان)
المبسوط للسرخسی میں ہے:
"اختلفوا فيها وينقطع الخلاف برواية الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أن التراويح سنة لا يجوز تركها؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم أقامها ثم بين العذر في ترك المواظبة على أدائها بالجماعة في المسجد وهو خشية أن تكتب علينا ثم واظب عليها الخلفاء الراشدون رضي الله عنهم وقد قال النبي صلى الله عليه وسلم «عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين من بعدي» وأن عمر رضي الله عنه صلاها بالجماعة مع أجلاء الصحابة فرضي به علي رضي الله عنه حتى دعا له بالخير بعد موته كما ورد وأمر به في عهده. (قال) ولو صلى إنسان في بيته لا يأثم هكذا كان يفعله ابن عمر وإبراهيم والقاسم وسالم الصواف رضي الله عنهم أجمعين - بل الأولى أداؤها بالجماعة لما بينا."
(كتاب التراويح، الفصل الثالث في بيان كونها سنة متوارثة أم تطوعا مطلقة مبتدأة، ج: 2، ص: 145، ط: دار المعرفة)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما قدرها فعشرون ركعة في عشر تسليمات، في خمس ترويحات كل تسليمتين ترويحة وهذا قول عامة العلماء.
وقال مالك في قول: ستة وثلاثون ركعة، وفي قول ستة وعشرون ركعة، والصحيح قول العامة لما روي أن عمر رضي الله عنه جمع أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم في شهر رمضان على أبي بن كعب فصلى بهم في كل ليلة عشرين ركعة، ولم ينكر أحد عليه فيكون إجماعا منهم على ذلك.
"وأما سننها فمنها الجماعة والمسجد؛ لأن النبي صلى الله عليه وسلم قدر ما صلى من التراويح صلى بجماعة في المسجد، فكذا الصحابة رضي الله عنهم صلوها بجماعة في المسجد فكان أداؤها بالجماعة في المسجد سنة، ثم اختلف المشايخ في كيفية سنة الجماعة، والمسجد، أنها سنة عين أم سنة كفاية؟ قال بعضهم: إنها سنة على سبيل الكفاية إذا قام بها بعض أهل المسجد في المسجد بجماعة سقط عن الباقين.
ولو ترك أهل المسجد كلهم إقامتها في المسجد بجماعة فقد أساءوا وأثموا، ومن صلاها في بيته وحده، أو بجماعة لا يكون له ثواب سنة التراويح لتركه ثواب سنة الجماعة والمسجد."
(كتاب الصلاة، فصل في سنن صلاة التراويح، ج: 1، ص: 288، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ ایضا:
"ومنها أن الجماعة في التطوع ليست بسنة إلا في قيام رمضان، وفي الفرض واجبة أو سنة مؤكدة لقول النبي صلى الله عليه وسلم «صلاة المرء في بيته أفضل من صلاته في مسجده إلا المكتوبة» وروي أن النبي صلى الله عليه وسلم «كان يصلي ركعتي الفجر في بيته، ثم يخرج إلى المسجد» ولأن الجماعة من شعائر الإسلام وذلك مختص بالفرائض أو الواجبات دون التطوعات، وإنما عرفنا الجماعة سنة في التراويح بفعل رسول الله صلى الله عليه وسلم وإجماع الصحابة رضي الله عنهم، فإنه روي «أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى التراويح في المسجد ليلتين، وصلى الناس بصلاته» وعمر رضي الله عنه في خلافته استشار الصحابة أن يجمع الناس على قارئ واحد فلم يخالفوه فجمعهم على أبي بن كعب."
(كتاب الصلاة، فصل صلاة التطوع، ج: 1، ص: 298، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"التراويح سنة مؤكدة، ولم يتخرجه عمر من تلقاء نفسه، ولم يكن فيه مبتدعا؛ ولم يأمر به إلا عن أصل لديه وعهد من رسول الله صلى الله عليه وسلم ... وفي شرح منية المصلي: وحكى غير واحد الإجماع على سنيتها، وتمامه في البحر.(قوله لمواظبة الخلفاء الراشدين) أي أكثرهم لأن المواظبة عليها وقعت في أثناء خلافة عمر -رضي الله عنه- ووافقه على ذلك عامة الصحابة ومن بعدهم إلى يومنا هذا بلا نكير، وكيف لا وقد ثبت عنه صلى الله عليه وسلم: «عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين عضوا عليها بالنواجذ» كما رواه أبو داود بحر (قوله: إجماعًا) راجع إلى قول المتن سنة للرجال والنساء، وأشار إلى أنه لا اعتداد بقول الروافض إنها سنة الرجال فقط على ما في الدرر والكافي أو أنها ليست بسنة أصلا كما هو المشهور عنهم على ما في حاشية نوح، لأنهم أهل بدعة يتبعون أهواءهم لا يعولون على كتاب ولا سنة، وينكرون الأحاديث الصحيحة."
(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل،ج: 2، ص: 44، ط: سعید)
العرف الشذی میں ہے:
"قوله: (شفاعتي لأهل الكبائر إلخ) استدل التفتازاني بحديث الباب على أن ترك السنة كبيرة، لأن في الحديث: «من ترك سنتي لا يرد على حوضي ولم ينل شفاعتي» والشفاعة تكون لأهل الكبائر."
(كتاب صفة القيامة والرقائق والورع، باب ما جاء في الشفاعة، ج: 4، ص: 60، رقم الحديث: 2435، ط: دار التراث العربي)
مرقاۃ المفاتیح میں ہے:
"(والتارك لسنّتي) أيْ: المعرض عنها بالكلية، أو بعضها استخفافا وقلّة مبالاة كافر وملعون، وتاركها تهاونا وتكاسلا لا عن استخفافعاص، واللّعنة عليه من باب التغليظ رواه البيهقي في المدخل) : بفتح الميم، والخاء (ورزين) أو: ورواه رزين (في كتابه) . أي: الذي جمع فيه بين الصحاح."
(كتاب الإيمان، باب الإيمان بالقدر، ج: 1،ص: 184، ط: دار الفكر)
لمعات التنقیح میں ہے:
"وأما التارك للسنة استخفافا وقلة مبالاة فكافر، وتاركها تهاونا وتكاسلا لا عن استخفاف عاص إذا داوم على ذلك، وأما تركها أحيانا فليست بمعصية."
(كتاب الإيمان، باب الإيمان بالقدر، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 401، ط: دار النوادر)
فيض القدير میں ہے:
"(والتارك لسنّتي) بأن أعرض عنها بالكلية أو ترك بعضها استخفافا أو قلّة احتفال بها، وأراد باللعنة هنا أحد قسميها وهو الإبعاد عن الخير والرحمة، والإنسان ما دام في معصية بعيد عنهما ولو مسلما."
(حرف السين،ج: 4، ص: 95 ، ط: المكتبة التجارية الكبرى)
البحر الرائق میں ہے:
"سنة مؤكدة قوية قريبة من الواجب حتى أطلق بعضهم عليه الوجوب، ولهذا قال محمد: لو اجتمع أهل بلد على تركه قاتلناهم عليه، وعند أبي يوسف يحبسون ويضربون وهو يدل على تأكده لا على وجوبه."
(كتاب الصلاة، الجمع بين الصلاتين في وقت بعذر، ج:1، ص:269، ط:دار الكتاب الإسلامي)
العنایہ شرح الهدایہ میں ہے:
"قوله ومثل هذا الوعيد لا يلحق بترك غير الواجب) اعترض عليه بقوله صلى الله عليه وسلم «من ترك سنتي لم تنله شفاعتي». أجيب بأنه محمول على الترك اعتقادا أو الترك أصلا، فإن ترك السنة أصلا حرام قد تجب المقاتلة به، لأن فيه ترك الأذان ولا مقاتلة في غير الحرام."
(كتاب الأضحية، ج: 9، ص: 508، ط: دار الفكر)
مولانا حسام الدین مبارک پوری رحمہ اللہ "مرعاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح"میں مذکورہ حدیث کی تشریح کے بعد اس حدیث کے دیگر مصادر اور ائمہ محدثین سے اس کاحکم نقل کرتے ہوئے لکھتےہیں:
"والتارك لسنتي) أي المعرض عنها باكلية أو بعضها استخفافا بها وقلة مبالاة فهو كافر وملعون، وتاركها تهاونا وتكاسلا لا عن استخفاف فهو عاص، واللعنة عليه من باب التغليظ (رواه البيهقي في المدخل) بفتح الميم والخاء (ورزين) أي ورواه رزين (في كتابه) وأخرجه أيضا النسائي كما في الجامع الصغير، والطبراني في الكبير، وابن حبان في صحيحه، والحاكم."
( كتاب الإيمان، باب الإيمان بالقدر، الفصل الثاني، ج: 1، ص: 198، ط: إدارة البحوث العلمية)
مذکورہ حدیث کے الفاظ"التاركُ لسُنّتي"(میری سنت کو چھوڑنے والا) کی شارحینِ حدیث نے یہ تشریح بیان کی ہے:جوشخص سستی کی وجہ سے مستقل طورپر سنت کو چھوڑتا ہووہ گنا ہ گار ہے اور اس پر لعنت ، زجروتوبیخ (ڈانٹ ڈپٹ)کےطورپرہے،جوشخص سنت کو ناقابلِ اعتناسمجھ کر چھوڑتا ہووہ کافرہےاور اس پر لعنت حقیقۃً ہے،ہاں اگر کوئی شخص کبھی کسی وجہ سے کسی سنت کو چھوڑدےتو اس پرکوئی گناہ نہیں ہوگا،لیکن ایساکرنا بھی مناسب نہیں ہے۔یہاں پر لعنت سے مراد خیر اور رحمت سے دوری ہے،انسان جب کسی معصیت میں مبتلا ہوتا ہے تو وہ خیر اوررحمت سے دورہوتا ہے،چاہےوہ مسلمان ہی کیوں نہ ہو۔
باقی مذکورہ حدیث میں’’سنت‘‘سے مراد ’’سنت‘‘ کی کوئی مخصوص قسم سنتِ مؤکدہ وغیر مؤکدہ وغیرہ مرادہے، یا عمومی طور پر ہر’’سنت‘مراد ہے؟عام طور شارحینِ حدیث نے اس کی کوئی صراحت نہیں کی ،البتہ حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : یہ وعید ،سنتِ مؤکدہ کے ترک کرنے پر ہے۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح میں ہے:
«قوله: "ولو سيئة" منه ما وقع في حديث الطبراني من سن سنة حسنة فله أجرها ما عمل بها في حياته وبعد مماته حتى تترك من سن سنة سيئة فعليه إثمها حتى تترك ومن مات مرابطا في سبيل الله جرى له أجر المرابطين حتى يبعث يوم القيامة قوله: "واصطلاحا الطريقة المسلوكة في الدين" أوضح منه قول بعضهم طريقة مسلوكة في الدين بقول أو فعل من غير لزوم ولا إنكار على تاركها وليست خصوصية فقولنا طريقة الخ كالجنس يشمل السنة وغيرها وقولنا من غير لزوم فصل خرج به الفرض وبلا إنكار أخرج الواجب وقولنا وليست خصوصية خرج به ما هو من خصائصه صلى الله عليه وسلم كصوم الوصال اهـ قوله: "على سبيل المواظبة" متعلق بقوله المسلوكة والمراد المواظبة في غالب الأحيان كما يفهم مما بعده.
(كتاب الطھارة، فصل في سنن الوضوء، ص: 64، ط: دار الكتب العلمية)
وفیہ ایضا:
قوله: "وهي المؤكدة إن كان النبي صلى الله عليه وسلم تركها أحيانا" كالأذان والإقامة والجماعة والسنن الرواتب والمضمضة والإستنشاق ويلقبونها بسنة الهدى أي أخذها هدى وتركها ضلالة أي أخذها من تكميل الهدى أي الدين ويتعلق بتركها كراهة وإساءة قال القهستاني حكمها كالواجب في المطالبة في الدنيا إلا أن تاركه يعاقب وتاركها يعاتب اهـ وفي الجوهرة عن القنية تاركها فاسق وجاحدها مبتدع وفي التلويح ترك السنة المؤكدة قريب من الحرام يستحق به حرمان الشفاعة صلى الله عليه وسلم: "من ترك سنتي لم ينل شفاعتي" وفي شرح المنار للشيخ زين الأصح أنه يأثم بترك المؤكدة لأنها في حكم الواجب والإثم مقول بالتشكيك فهو في الواجب أقوى منه في السنة المؤكدة اهـ وقيل الإثم منوط بإعتياد الترك وصحح وقيل لا إثم أصلا قوله: "وأما التي لم يواظب عليها" كأذان المنفرد وتطويل القراءة في الصلاة فوق الواجب ومسح الرقبة في الوضوء والتيامن وصلاة وصوم وصدقة تطوع ويلقبونها بالسنة."
(كتاب الطھارة، فصل في سنن الوضوء، ص: 64، ط: دار الكتب العلمية)
فتاوی شامی میں ہے:
"اعلم أن المشروعات أربعة أقسام، فرض وواجب وسنة ونفل، فما كان فعله أولى من تركه مع منع الترك إن ثبت بدليل قطعي ففرض، أو بظني فواجب، وبلا منع الترك إن كان مما واظب عليه الرسول صلى الله عليه وسلم أو الخلفاء الراشدون من بعده فسنة، وإلا فمندوب ونفل."
(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج: ص: 1021، ط: سعيد)
بدائع الصنائع میں ہے:
"وأما مقدار كل واحدة منها، ووقتها على التفصيل: فركعتان قبل الفجر، وأربع قبل الظهر لا يسلم إلا في آخرهن، وركعتان بعده، وركعتان بعد المغرب، وركعتان بعد العشاء كذا ذكر محمد في الأصل، وذكر في العصر والعشاء إن تطوع بأربع قبله فحسن، وذكر الكرخي هكذا إلا أنه قال في العصر: وأربع قبل العصر، وفي العشاء وأربع بعد العشاء، وروى الحسن عن أبي حنيفة وركعتان قبل العصر، والعمل فيما روينا على المذكور في الأصل.
والأصل في السنن ما روي عن عائشة - رضي الله عنها - عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من ثابر على اثنتي عشرة ركعة في اليوم والليلة بنى الله له بيتا في الجنة: ركعتين قبل الفجر، وأربع قبل الظهر، وركعتين بعدها، وركعتين بعد العشاء» ، وقد واظب رسول الله - صلى الله عليه وسلم - عليها ولم يترك شيئا منها إلا مرة أو مرتين لعذر وهذا تفسير السنة...إلي قوله:
وإنما ذكر في الأصل في التطوع بالأربع قبل العصر حسن؛ لأن كون الأربع من السنن الراتبة غير ثابت؛ لأنها لم تذكر في حديث عائشة، ولم يرو أنه - صلى الله عليه وسلم - كان يواظب على ذلك؛ ولذا اختلفت الروايات في فصله إياها، وروي في بعضها أنه صلى أربعا، وفي بعضها ركعتين فإن صلى أربعا كان حسنا لحديث أم حبيبة - رضي الله عنها - عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من صلى أربع ركعات قبل العصر كانت له جنة من النار»... إلي قوله: وإنما قال في الأصل: إن التطوع بالأربع قبل العشاء حسن؛ لأن التطوع بها لم يثبت أنه من السنن الراتبة، ولو فعل ذلك فحسن؛ لأن العشاء نظير الظهر في أنه يجوز التطوع قبلها وبعدها، ووجه رواية الكرخي في الأربع بعد العشاء ما روي عن ابن عمر - رضي الله عنه - موقوفا عليه ومرفوعا إلى رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال «من صلى بعد العشاء أربع ركعات كن له كمثلهن من ليلة القدر» وروي عن عائشة أنها «سئلت عن قيام رسول الله - صلى الله عليه وسلم - في ليالي رمضان فقالت: كان قيامه في رمضان وغيره سواء، كان يصلي بعد العشاء أربعا لا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم أربعا لا تسأل عن حسنهن وطولهن، ثم كان يوتر بثلاث."
(كتاب الصلاة، فصل: الصلاة المسنونة، ج: 1، ص: 284، ط: دار الكتب العلمية)
منحۃ السلوک شرح تحفۃ الملوک میں ہے:
فصل في السنن الرواتب وغيرها.
لما فرغ عن بيان الفرائض شرع في بيان السنن، والرواتب جمع راتبة، والسنة الراتبة: هي السنة المؤكدة، وقوله: (وغيرها) أي وفي بيان غير السنن الرواتب أيضا، وهي السنن غير المؤكدة.
قوله: (وهي) أي السنن الرواتب (ركعتان قبل الفجر، وأربع قبل الظهر، وركعتان بعدها، وركعتان بعد المغرب، وركعتان بعد العشاء) فهذه اثنتي عشرة ركعة. لما روي عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت: "كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي قبل الظهر أربعا وبعدها ركعتين، وبعد المغرب ركعتين، وبعد العشاء ركعتين، وقبل الفجر ركعتين" رواه أبو داود ومسلم وابن حنبل.
قوله: (وأربع قبل العصر) وهذا غير مؤكد، لعدم المواظبة عليه، ولهذا جعلها في الأصل حسنا."
(کتاب الصلاۃ، ص: 144، ت: د. أحمد عبد الرزاق الكبيسي، ط: وزارة الأوقاف والشؤون الإسلامية)
الدر المختار میں ہے:
ويأثم بارتكابه كما يأثم بترك الواجب، ومثله السنة المؤكدة.
وفي الزيلعي في بحث حرمة الخيل: القريب من الحرام ما تعلق به محذور دون استحقاق العقوبة بالنار، بل العتاب كترك السنة المؤكدة، فإنه لا يتعلق به عقوبة النار، ولكن يتعلق به الحرمان عن شفاعة النبي المختار (ص)، لحديث من ترك سنتي لم ينل شفاعتي فترك السنة المؤكدة قريب من الحرام وليس بحرام اهـ."
(كتاب الحظر والاباحة، ص: 650، ط: دار الکتب العلمیة)
فتاوی شامی میں ہے:
"وفي البحر من باب صفة الصلاة: الذي يظهر من كلام أهل المذهب أن الاسم منوط بترك الواجب أو السنة المؤكدة على الصحيح؛ لتصريحهم بأن من ترك سنن الصلوات الخمس قيل: لا يأثم والصحيح أنه يأثم، ذكره في فتح القدير، وتصريحهم بالإثم لمن ترك الجماعة مع أنها سنة مؤكدة على الصحيح وكذا في نظائره لمن تتبع كلامهم، ولا شك أن الإثم مقول بالتشكيك بعضه أشد من بعض، فالإثم لتارك السنة المؤكدة أخف من الإثم لتارك الواجب. اهـ."
(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج: 1، ص: 104، ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"والذي ظهر للعبد الضعيف أن السنة ما واظب عليه النبي صلى الله عليه وسلم، لكن إن كانت لا مع الترك فهي دليل السنة المؤكدة، وإن كانت مع الترك أحيانا فهي دليل غير المؤكدة، وإن اقترنت بالإنكار على من لم يفعله فهي دليل الوجوب، فافهم هذا فإن به يحصل التوفيق."
(كتاب الطهارة، سنن الوضوء، ج: 1، ص: 105، ط: سعید)
وفیہ ایضا:
"[تنبيه] ظاهر ما مر أن التهجد لا يحصل إلا بالتطوع؛ فلو نام بعد صلاة العشاء ثم قام فصلى فوائت لا يسمى تهجدا وتردد فيه بعض الشافعية.
قلت: والظاهر أن تقييده بالتطوع بناء على الغالب وأنه يحصل بأي صلاة كانت لقوله في الحديث المار «وما كان بعد صلاة العشاء فهو من الليل» ثم اعلم أن ذكره صلاة الليل من المندوبات مشى عليه في الحاوي القدسي. وقد تردد المحقق في فتح القدير في كونه سنة أو مندوبا، لأن الأدلة القولية تفيد الندب؛ والمواظبة الفعلية تفيد السنية لأنه - صلى الله عليه وسلم - إذا واظب على تطوع يصير سنة؛ لكن هذا بناء على أنه كان تطوعا في حقه، وهو قول طائفة. وقالت طائفة: كان فرضا عليه فلا تفيد مواظبته عليه السنية في حقنا لكن صريح ما في مسلم وغيره عن عائشة أنه كان فريضة ثم نسخ، هذا خلاصة ما ذكره " ومفاده اعتماد السنية في حقنا لأنه - صلى الله عليه وسلم - واظب عليه بعد نسخ الفرضية، ولذا قال في الحلية: والأشبه أنه سنة."
(كتاب الصلاة، ج: 2، ص: 25، ط: سعيد)
فتاوی ہندیہ میں ہے:
"(ومنها(اي المندوبات) صلاة الليل. كذا في البحر الرائق ومنتهى تهجده - عليه السلام - ثمان ركعات وأقله ركعتان. كذا في فتح القدير ناقلا عن المبسوط."
(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافع، ج: 1، ص: 112، ط: دار الفكر)
کفایت المفتی میں ہے:
’’سنتِ مؤکدہ کااہتمام کرنا واجب کے قریب ہے، بلاکسی عذر کے سنتِ مؤکدہ کاترک جائز نہیں ہے، جوشخص بلاکسی عذر کے سنتِ مؤکدہ ترک کرتاہے وہ گناہ گار اور لائقِ ملامت ہے، البتہ اگر کوئی عذر ہو مثلاً وقت تنگ ہے اور صرف فرض نماز ادا کی جاسکتی ہویاکوئی ضرورت تو اس وقت سنتوں کو چھوڑ سکتاہے‘‘۔
(کتاب الصلوۃ، ج:3، ص:319، ط:دارالاشاعت)
امدالاحکام میں ہے:
نماز تہجد سنت مؤکدہ ہے یا مستحب؟
سوال :ایک لڑکے کانام حبیب اللہ ہے، مالابدمنہ اردو پڑھتاتھا، ایک جگہ لکھا ہے ، کہ نماز تہجد سنتِ مؤکدہ ہے، اسی درمیان میں ایک حافظ صاحب تشریف لائے، اور کہنے لگے،کہ سنتِ مؤکدہ نہیں بلکہ نفل ہے، اور تم کو معلوم نہیں، لڑکے نے کہا کہ جناب حافظ صاحب!ہم نے تنبیہ الغافلین میں بھی یہی پڑھا ہے، کہ نماز تہجد سنتِ مؤکدہ ہے، اور مالابدمنہ میں بھی موجود ہے، بس جناب حافظ صاحب بہت غصہ ہوکر بولے، کہ تم کو کیا معلوم، اور کون ہمارے میں اتنا مسئلہ جانتاہے،اس بستی میں ؟تو لڑکے نے کہا کہ ہم کو تو بس یہی کتاب بس ہے، تو فوراً حافظ صاحب نےکہا کہ اس کتاب پدوڑی کو نہیں مانتے ۔
الجواب: نماز تہجد کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے، بعض کے نزدیک سنت مؤکدہ ہے،بدلیل مواظبته صلی اللہ علیه وسلم علیها من غیر افتراض علیه،قال فی رد المحتار: ومفادہ اعتماد السنیة فی حقنا لأنه صلی اللہ علیه وسلم واظب علیه بعد نسخ فرضیته. وکذا قال فی الحلیة: الأشبه أنه سنة،(ص:616،ج:1)،اور بعض كے نزديك مستحب هے، وحملوا مواظبته صلى الله عليه وسلم على كونها فريضة،مختصة به،اور اکثر علماء کا قول یہی ہے،کہ امت کے حق میں نماز تہجد مستحب ہے، سنتِ مؤکدہ نہیں ،قال فی مراقي الفلاح،وأکثر المتون علیه ،وندب صلوۃ اللیل خصوصاً آخرہ کما ذکرناہ،اور اس عبد ضعیف کا خیال یہ ہے کہ ابتداءً تو صلوۃ تہجد مستحب ہی ہے، لیکن بعد شروع کردینے کے اور عادی ہوجانے کے اس پر مواظبت کرنا سنت مؤکدہ ہے،ودلیله قوله صلی اللہ علیه وسلم لابن عمر یا عبداللہ لاتکن مثل فلان کان یقوم اللیل ثم ترك، رواہ البخاري،فی کتاب التهجد،چوں کہ اس مسئلہ میں اختلاف ہے، اس لیے قاضی ثنا ء اللہ صاحب نے جو بڑےمحقق ومحدث عالم ہیں، سنت مؤکدہ ہونے کو اختیار کیاہے۔‘‘
(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:605،ط:مکتبہ دارالعلوم کراچی)
’’مظاہرِ حق‘‘ میں ہے:
’’چھٹا ملعون اس شخص کو قراردیا گیا ہےجوسنتِ نبوی کو ترک کرتا ہو۔
اس کامسئلہ یہ ہے کہ جو شخص سستی اور کسل کی بناپرسنت کوترک کرتا ہووہ گناہ گار ہے،اور جوشخص سنت کو نعوذ باللہ ناقابلِ اعتناء سمجھ کرچھوڑتا ہو تو وہ کافر ہے، لیکن اس لعنت میں دونوں شریک ہیں۔مگر یہ کہاجائے گا کہ جو شخص ازراہِ کسل وسستی سنت چھوڑتا ہےاس پر لعنت کرنازجروتوبیخ کے لیے ہے، اور جوشخص ناقابلِ اعتناء سمجھ کر سنت کو ترک کرتا ہےاس پر حقیقتًا لعنت ہوگی، ہاں اکر کوئی شخص کسی وجہ سے کسی وقت سنت کو ترک کردےتو اس پر گنا ہ نہیں ہوگا،لیکن یہ بھی مناسب نہیں ہے۔حضرت شاہ محمد اسحاق دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وعید سنتِ مؤکدہ کے ترک کرنے پر ہے۔‘‘
(کتاب الایمان،تقدیر پر ایمان لانے کابیان ، ج:1،ص: 170، ط: دار الاشاعت کراچی)
جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم معصوم ہیں، اور کائنات میں سب سے افضل بلکہ تمام انبیاء کے سردار ہیں، ان سے یہ سنتیں ثابت ہیں،وہ ان نمازوں کو پڑھتے تھے، تو جو امتی معصوم بھی نہیں اور کائنات میں سب سے افضل بھی نہیں، ان کو کتنی اہمیت سے ان سنتوں پر عمل کرنا چاہیے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی ضرورت محسوس کی تو امتی کیسے ان کی ضرورت کو محسوس نہیں کریں گے۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144501100951
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن