بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سنتِ مؤکدہ کا حکم


سوال

میں اگر ظہر کی پہلی چار سنت مؤکدہ اور عشاء کی دو سنت مؤکدہ چھوڑ دیتا ہوں،  بس فرض ہی پڑھوں، تو کیا مجھے گناہ ملے گا؟اور اگر یہ میری عادت بن جائے تو کیا کرنا چاہیے؟

جواب

واضح رہے کہ سنتِ مؤکدہ عملاً واجب کی طرح ہے، یعنی بغیر کسی عذر کے اس کا چھوڑنے والا  گناہ گار  ہے،اور مستقل   چھوڑنے  کا عادی سخت گناہ گار ، فاسق، اور مستحقِ ملامت ہے، اور آخرت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت سے محروم رہے گا، اس لیے سائل کو چاہیے کہ وہ سنتِ مؤکدہ کے مستقل ترک کرنے  کی عادت سے باز آئے اور ان کا اہتمام کرے۔

"رد المحتار"میں ہے:

"في "التّلويح": ترك السّنّة المؤكّدة قريب من الحرام يستحقّ حرمان الشفاعة؛ لقوله - عليه الصّلاة والسّلام -: "من ترك سنّتي لم ينل شفاعتي" اهـ. وفي "التّحرير": إنّ تاركها يستوجب التّضليل واللّوم اهـ. والمراد الترك بلا عذر على سبيل الإصرار كما في "شرح التّحرير" لابن أمير حاج، ويؤيّده ما سيأتي في "سنن الوضوء" من أنّه لو اكتفى بالغسل مرّة إن اعتاده أثم، وإلّا لا".

(رد المحتار، كتاب الطهارة، 1/104، ط: سعيد)

وفيه أيضاً:

"ولهذا كانت السّنّة المؤكّدة قريبةً من الواجب في لحوق الإثم، كما في "البحر". ويستوجب تاركها التّضليل واللّوم، كما في "التّحرير"، أي: على سبيل الإصرار بلا عذر."

(رد المحتار، كتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، 2/12، ط: سعيد)

فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144702100122

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں