بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سن گلاسز کے ساتھ نماز پڑھانا


سوال

 سن گلاسسز کے ساتھ نماز پڑھنا مسجد میں امامت کروانا جائز ہے کہ نہیں؟

جواب

اگر سن گلاسز لگانے کی ضرورت ہےیعنی  امام شدید دھوپ میں نماز پڑھا رہے ہیں تو بلا کراہت نماز جائز ہے اور اگر ضرورت نہیں ہے، محض شوقیہ طور پر محض زینت کے لیے لگائے ہیں تو مکروہ ہے۔

امداد الفتاوی میں ہے:

"نماز میں عینک لگانے کا حکم:

سوال: حالت نماز میں عینک لگائے رکھنا جائز ہے یا نہیں؟ برتقدیرِ  ثانی کراہتِ  تنزیہی ہے یا تحریمی؟  فقہائے متقدمین میں سے کسی نے اس مسئلہ کی تصریح کی ہے یا نہیں؟  بینواتوجروا۔

الجواب : عینک لگانے کی عادت مستحدث(نئی) ہے؛ اس لیے امید نہیں کہ کسی کے کلام میں اس کی تصریح ملے،  مگر قواعد سے یہ جواب ہے کہ فی نفسہ جائز ہے،  لیکن فعلِ  عبث ہے، اور عبث نماز میں مکروہ ہے،  اس عارض کے سبب یہ فعل مکروہ ہوگا"۔

  حاشیہ میں مفتی سعید احمد پالن پوری صاحب تحریر فرماتے ہیں:

"البتہ جو لوگ عینک کے عادی ہیں، یعنی بینائی کی کم زوری کی وجہ سے ’’نمبری عینک‘‘ لگاتے ہیں ؛ چوں کہ انہیں بغیر عینک کے طمانینت و سکون نہیں رہتا؛ اس  لیے ان کے  لیے یہ فعل عبث نہیں ہے، اور مکروہ نہ ہوگا۔ ۱۲ سعید احمد پالن پوری"۔

(کتاب الصلاۃ، باب ما یکرہ الصلاۃ وما یکرہ فیہ،265/2، ط: زکریا بک ڈپو)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"يكره للمصلي أن يعبث بثوبه أو لحيته أو جسده".

(كتاب الصلاة، الباب السابع فيما يفسد الصلاة وما يكره فيها، الفصل الثاني فيما يكره في الصلاة وما لا يكره، 1/ 105، ط: رشيدية)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144701102017

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں