
ایک سنار کے پاس میں نے دیڑھ پونے دو کڑوڑھ روپے انویسٹ کیے،اس نے کہا کہ میں اس کا سونا خرید کر لوگوں کے ساتھ اس کی خرید فروخت کا معاملہ کروں گا، اور جتنی دفعہ بھی خرید وفروخت کا معاملہ کروں گا تو اس پر جتنانفع ہو گا،تو اس کا آدھا نفع میرا ہوگا اور آدھا آپ کا، اور آپ کی اصل آپ کو واپس مل جائے گی، اب چاہے آپ سونے کی شکل میں لینا چاہیں یا پیسے کی شکل میں، جس کے بعد میں نے مذکورہ سنار کو تجارت کی غرض سے رقم دے دی ،اور یہ معاملہ کرتے وقت نقصان کے حوالہ سے کوئی بات نہیں کی گئی، مذکورہ سنار کا پہلے سے اپنا سونے کا کاروبار ہے۔
ہم نے جب اس کو پیسے دیے تو اس نے اگلے ہی دن سونے کی تصویر بھیج دی کہ میں نے سونا خرید لیا ہے، اس کے بعد جب ہم اس سے لینے گئے تو پہلے تو اس نے ہمیں ٹہلایا، اور جب دیا تو کہنے لگا کہ میں نے تو آپ کا سونا خریدا ہی نہیں تھا، آپ کے جو پیسے تھے، وہ میں نے اپنے استعمال میں لے لیے تھے، اور اب میں مارکیٹ سے سونا خرید کر دے رہا ہوں، ایک تولہ پر تینتیس ہزار روپے اوپر چلاگیا ہے، آپ کا بیس تولہ سونا تھا، تو اس حساب سے آپ مجھے چھ لاکھ ساٹھ ہزار روپے اور دے دیں، کیوں کہ وہ میں نے اپنی جیب سے ڈالے ہیں۔
یہ ہمیں جب پتاچلا جب ہم اپنا سونا لینے گئے، اگر ایک تولہ پر تینتیس ہزار روپے بڑھ گئے ہیں، تو اصولا ًجو اس نے ہمارا بیس تولہ سونا خریدا تھا، اس حساب سے ہم اس کے ساڑھے سولہ ہزار کے دیندار بنتے ہیں، کیوں نفع کی طرح نقصان میں بھی برابری ہونی چاہیے، جبکہ وہ کہتا ہے کہ تینتیس ہزار روپے کے حساب سے دو، اور ہمیں یہ نہیں پتا کہ اس نے سچ کہا ہے یا جھوٹ، کیوں کہ پتا نہیں اس نے کتنی مرتبہ سونے کی ٹرانزیکشن کی ہے، اور کتنا نفع لیا ہے، اور اب وہ دعویدار ہو رہا ہے کہ ہمیں تینتیس ہزار روپے فی تولہ کے حساب سے دو، ہم نے اس سے اپنا بیس تولہ سونا واپس لے لیا ہے اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
صورتِ مسئولہ میں سائل نے جو رقم مذکورہ سنار کے پاس انویسٹ کی تھی، اور اس کے ساتھ نفع کی شرح متعین کرکے معاملہ کیا تھا، اس کی حیثیت شرعًا مضاربت کی تھی، اور مذکورہ سنار پر لازم تھا کہ وہ معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے اس رقم سے سونا خرید کر اس سے کاروبار کرتا، لیکن مذکورہ سنار نے سرے سے اس رقم سے کوئی سونا ہی نہیں خریدا، بلکہ اس رقم کو اپنے ذاتی استعمال میں لے کر اس میں ناجائز تصرف کیا، نیز سائل کو سونے کی تصویر بھیج کر اس کے ساتھ دھوکہ اور خیانت کی، جوکہ شرعًا ناجائز ہے، پس صورتِ مسئولہ میں ابتداء ہی سے مضاربت کا معاملہ درست نہیں ہوا، لہذا اب مذکورہ سنار پر سائل کی دی ہوئی اصل رقم لوٹانا ہی لازم ہے، اس سے زائد لینا سائل کے لیے درست نہیں ہے، اسی طرح سائل کا بیس تولہ سونا اٹھا کر لے آنا بھی شرعًا درست نہیں ہے، سائل کو چاہییے کہ سنار سے اپنی دی گئی رقم واپس لے لے یا اس رقم کے عوض موجودہ مالیت کے اعتبار سے جو سونا بنتا ہو، وہ وصول کرلے۔
فتاوی عالمگیری میں ہے :
"لو استهلك المضارب رأس المال أو أنفقه أو أعطاه رجلا فاستهلكه لم يكن له أن يشتري على المضاربة شيئا وإن أخذه من الذي استهلكه كان له أن يشتري به على المضاربة رواه الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى -، كذا في محيط السرخسي."
(کتاب المضاربة، الباب الرابع عشر، ج: 4، ص: 318، ط: رشيدية)
مجمع الأنہر میں ہے:
"(فإن تجاوز) المضارب بأن يخرج إلى غير ذلك البلد فتصرف فيه أو اشترى سلعة غير ما عينه أو في وقت غير ما عينه أو باع مع غير من عينه (ضمن) لأنه صار غاصبا بالمخالفة وكان المشترى له (والربح له) أي للمضارب، وعليه خسرانه."
(كتاب المضاربة، ج: 2، ص: 325، ط: دار إحياء التراث العربي)
مجمع الضمانات میں ہے:
"ثم المدفوع إلى المضارب أمانة في يده لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه لا على وجه البدل والوثيقة، وهو وكيل فيه لأنه يتصرف فيه بأمر مالكه فإذا ربح فهو شريك فيه، وإذا فسدت ظهرت الإجارة حتى استوجب العامل أجر مثله، وإذا خالف كان غاصبا لوجود التعدي منه على مال غيره."
(باب في مسائل المضاربة، الفصل الأول في المضاربة، ص: 303، ط: دار الكتاب الإسلامي)
درر الحکام شرح غرر الأحکام میں ہے :
"(وغصب إن خالف) لتعديه على مال غيره فيكون ضامنا (ولو) وصلية (أجاز بعده) أي المضارب إذا اشترى ما نهي عنه ثم باعه وتصرف فيه ثم أجاز رب المال لم يجز وكذلك المستبضع."
(کتاب المضاربة، أرکان المضاربة، ج: 2، ص: 310، ط: دار إحياء الکتب العربية)
فقط واللہ أعلم
فتویٰ نمبر : 144706100775
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن