
آپ حضرات کے ہاں سے صادر ایک فتویٰ(فتویٰ نمبر:144607102968) پر بہن کے حصے کو بھائی کی جانب سے خریدنے کی صورت میں اجل کی عدمِ تعیین کی وجہ سے فسادِ بیع کا شبہ پیش کیا گیا تھا، جس کے جواب میں دارالافتاء سے اس بیع کو بیع حال قرار دے کر درست قرار دیا گیا۔ لیکن تشویش بدستور برقرار رہنے کی وجہ سے مکرر غور و فکر کی تکلیف گوارہ کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ آپ حضرات اپنے قیمتی اوقات سے وقت نکال کر اس میں غور و فکر کر کے ہماری تشفی فرمائیں گے۔
جواب میں تشویش و شبہ یہ ہے کہ دارالافتاء کے جواب میں اس بیع کو روزمرہ کے دکانداروں سے خرید و فروخت کی طرح بیع حال قرار دیا گیا ہے، حالاں کہ بیعِ حالی میں عقد کے دوران اجل کا کوئی ذکر نہیں ہوتا اور جانبین اس کو حالی اور غیر مؤجل بیع سمجھ رہے ہوتے ہیں۔ بعد العقد خریدار دکاندار سے بعد میں ادائیگی کی بات کرتا ہے، جیسے دکانداروں کے ساتھ ہمارا معاملہ رہتا ہے۔ جب کہ ہمارے زیرِ غور مسئلہ میں تو بھائی صلبِ عقد ہی میں اجلِ مجہول کا ذکر کر رہا ہے، جیسا کہ استفتاء میں صراحتاً مذکور ہے:”آپ کے حصے کی رقم جب مجھ سے ہوگی تو میں دے دوں گا اور یہ مکان اور دکانیں میں رکھتا ہوں۔“ اور عقد میں اجلِ مجہول کا ذکر ہونے کی صورت میں اسے بیع حالی قرار دے کر درست قرار دینے پر دل مطمئن نہیں ہو رہا۔
دارالافتاء کے جواب میں در مختار کی عبارت :"[فروع] باع بحال ثم أجله أجلا معلوما أو مجهولا.......الخ" میں بھی پہلے حالاً (بلا تاجیل) فروخت کرنے کے بعد اس میں اجل مقرر کرنے کا ذکر ہے، جب کہ سوال میں تو عقد میں ہی اجلِ مجہول کا ذکر ہے۔ لہٰذا اس عبارت کی صورتِ مسئولہ سے موافقت نظر نہیں آرہی، چناں چہ جواب میں اسی ذکر کردہ عبارت کے آگے شامیہ میں یوں منقول ہے: "ثم قال: بعده: استأجر أرضا وشرط تعجيل الأجرة إلى الحصاد أو الدياس يفسد العقد ولو لم يشترطه في العقد بل بعده لا يفسد كما في البيع، فإن الرواية محفوظة أنه لو باع مطلقا ثم أجل الثمن إلى حصاد ودياس لا يفسد ويصح الأجل اهـ."(الشامية، 4/ 533، ط:سعيد)۔ اسی طرح علامہ حصکفی رحمہ اللہ نے بیعِ فاسد میں ذکر فرمایا: "(ولو) (باع مطلقا عنها) أي عن هذه الآجال (ثم أجل الثمن) الدين....... (إليها صح) التأجيل"وقال العلامة ابن عابدين رحمه الله تحته: "(قوله ولو باع إلخ) أفاد أن ما ذكر من الفساد بهذه الآجال إنما هو إذا ذكرت في أصل العقد، بخلاف ما إذا ذكرت بعده كما لو ألحقا بعد العقد شرطا فاسدا، ويأتي تصحيح أنه لا يلتحق"(الشامية، 5/ 82 ، ط:سعيد)۔
ان عبارات سے واضح ہوتا ہے کہ صلبِ عقد میں تاجیلِ مجہول کا ذکر مفسدِ اجارہ و بیع ہے، جب کہ ہمارے استفتاء کی صورت میں صلبِ عقد ہی میں بھائی نے ایجاباً بہن کو اجلِ مجہول میں رقم ادا کرنے کا ذکر کیا ہے اور بعد ازاں بہن نے اسے قبول کیا ہے۔
جواب سے پہلے بطورِ تمہید کچھ باتیں ذکر کی جاتی ہیں:
1:۔ واضح رہے کہ اگر بیع و شراء کسی ایسے امر پر مشتمل ہو جو فریقین کے درمیان نزاع کا سبب بن سکتا ہو، تو ایسی بیع و شراء شرعاً فاسد ہو جاتی ہے، لیکن اگر وہ امر فریقین کے باہمی نزاع کا سبب نہ ہو اور کسی اور شرعی محظور پر بھی مشتمل نہ ہو، تو اس صورت میں بیع و شراء کا ایسے امر پر مشتمل ہونا موجبِ فساد نہیں ہوتا۔
2:۔ اگر بیع و شراء کرتے وقت دورانِ ایجاب و قبول ہی ثمن کی ادائیگی کے لئے نامعلوم مدت کی شرط لگائی جائے تو شرعاً ایسی شرط فاسد ہوتی ہے جو بیع کو فاسد کر دیتی ہے، لیکن اگر ایسی شرط ایجاب و قبول سے پہلے یا بعد میں لگائی جائے تو بیع و شراء بہر حال درست ہو جاتی ہے، البتہ شرط کے بارے میں یہ تفصیل ہے:اگر مشروطہ مدت ایسی ہو جس کے جلد یا تاخیر سے آنے کا امکان ہو تو یہ شرط معتبر سمجھی جائے گی اور ثمن کی ادائیگی مؤجل ہو جائے گی، اور اگر وہ مدت ایسی ہو جس کے آنے یا نہ آنے میں ہی تردد ہو، تو یہ شرط کالعدم شمار ہوگی۔
البتہ یہ تفصیل اس وقت ہے جب ثمن کی ادائیگی کے لئے نامعلوم مدت کی شرط لگائی جائے ، اور اگر ایسی شرط لگائی ہی نہ جائے، بلکہ خریدار فروخت کنندہ سے مجہول مدت میں ثمن کی ادائیگی کا وعدہ کر کےمہلت کی درخواست کرے اور فروخت کنندہ احسان کے طور پر مہلت دے دے ، جیسا کہ عام طور پر جان پہچان والوں میں ایسا معاملہ پیش آتا رہتا ہے، تو اس سے بیع ادھار ہو کر فاسد نہیں ہوتی، بلکہ بیع حالاً منعقد ہو کر درست رہتی ہے، خواہ یہ درخواست ایجاب و قبول سے پہلے کی جائے، یا ایجاب و قبول کے بعد کی جائے ، ہر صورت میں بیع نقد ہی منعقد ہوگی اور فروخت کنندہ کو فی الحال ثمن کے مطالبہ کا حق حاصل ہوگا۔
دونوں صورتوں میں فرق یہ ہے کہ پہلی صورت میں شرط لگانے کی وجہ سے بیع ادھار ہوکر بعد میں ثمن کی ادائیگی خریدار کا حق بن جاتی ہے، جو جہالت کی وجہ سے فریقین کے درمیان نزاع کا سبب بن سکتی ہے، لہٰذا بیع فاسد قرار پاتی ہے۔ جب کہ دوسری صورت میں بائع سے بعد میں ادائیگی کا وعدہ کر کے مہلت مانگنے کی وجہ سے بیع ادھار نہیں ہو جاتی، بلکہ بیع نقد ہی رہتی ہے، لیکن خریدار صرف ادائیگی کے لئے بائع سے مہلت کی درخواست کرتا ہے اور بائع تبرع اور احسان کے طور پر مہلت دے دیتا ہے، چوں کہ یہ بائع کی طرف سے محض تبرع اور احسان شمار ہوتا ہے، جس پر بائع کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، اس لئے یہ باہمی نزاع کا سبب نہیں بنتا، لہذا اس سےبیع پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
رہی بات ادائیگی کی مدّت کو بطورِ شرط ذکر کرنے اور وعدہ و تبرع کی حیثیت سے بیان کرنے میں تمییز کی، تو جس طرح عربی میں شرط کے لئے مخصوص الفاظ استعمال ہوتے ہیں، مثلاً: بعتہ إلی شهر، اشتریتہ إلی شهر،(یا) بأجل إلی شهر، (یا) بنسيئۃ إلی شهر (یا) علی أن أؤدي الثمن بعد شهر اور اس سے ملتے جلتے الفاظ، اسی طرح اردو میں بھی شرط پر دلالت کرنے والے مخصوص الفاظ استعمال ہوتے ہیں، مثلاً:”میں یہ چیز مہینے کے ادھار پر خریدتا ہوں“،”میں یہ چیز خریدتا ہوں لیکن یا مگر ادائیگی مہینے کے بعد کروں گا“،”میں یہ چیز اس شرط پر خریدتا ہوں کہ رقم ایک مہینے کے بعد دوں گا“،یا اس نوعیت کے دیگر جملےجو شرط ہونے پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کے برعکس تبرع و احسان کے طور پر مدّتِ ادائیگی ذکر کرنے کے لئے یا تو صریح الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں، یا پھر ایسے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو تبرع و احسان پر دلالت کریں،مثلاً:”ابھی میرے پاس پیسے نہیں ہیں، کچھ مہلت دے دیں یا ابھی ثمن کا مطالبہ نہ کریں،کچھ رعایت کیجئے بعد میں ادا کر دوں گا“،یا اس طرح کے دیگر جملے۔
اور اگر کہیں مطلق الفاظ استعمال کئے جائیں جو دونوں صورتوں پر محمول ہو سکتے ہوں، تو وہاں قرائن کو دیکھا جائے گا، مثلاً: اگر خریداری موجودہ قیمت پر ہوئی ہو اور معاملہ جان پہچان والوں کے درمیان ہو، تو اس صورت میں بیع نقد ہی سمجھی جائے گی، الا یہ کہ وہ خود ادھار ہونے کی صراحت کردیں۔
3:۔ مسلمانوں کے اقوال و افعال کو شرعی حدود کی رعایت رکھتے ہوئے جہاں تک ممکن ہو، صلاح اور درستگی ہی پر محمول کیا جائے گا، تاہم اگر وہ خود ایسی صراحت کر دے جس کی وجہ سے اس کے قول یا فعل کو صلاح و درستگی پر محمول کرنا ممکن نہ رہے، تو پھر یہ حکم نہیں۔
4:۔ دارالافتاء سے جاری شدہ سابقہ فتویٰ کی بنیاد اس بات پر ہے کہ متروکہ جائیداد میں بہن کا حصہ قیمت لگا کر متعین کرتے وقت باقاعدہ ایجاب و قبول ہو گیا تھا، پھر رقم کی ادائیگی کے لئے بھائی نے بہن سے یہ کہا تھا: ”آپ کے حصے کی رقم جب مجھ سے ہوگی تو میں دے دوں گا۔“ چنانچہ سابقہ فتویٰ میں واضح طور پر درج ہے:”صورتِ مسئولہ میں جب متروکہ جائیداد کی تعیین کے بعد بھائی اور بہن نے بٹوارے کے طور پر ہر ایک کے حصے کا تعین کر لیا تھا اور بھائی نے بہن کے حصے کی موجودہ قیمت لگا کر ان کا حصہ خرید لیا، اور رقم کی ادائیگی کے لئے یہ کہہ دیا کہ: آپ کے حصے کی رقم جب مجھ سے ہوگی تو میں دے دوں گاالخ“، لہذا سابقہ فتویٰ میں درج حوالہ جات پر عدمِ موافقت کا اشکال نہیں ہونا چاہیے۔
لہٰذا صورتِ مسئولہ میں بیٹے نے پورے مکان اور دکان کی بازاری قیمت لگا کر اپنی بہن کا حصہ متعین کرلیا، اور بہن سے کہا کہ:”آپ کے حصے کی رقم جب مجھ سے ہوگی تو میں دے دوں گا اور یہ مکان اور دکانیں میں رکھتا ہوں“ یہ نقد بیع ہے ادھار نہیں ہے، لہذا یہ درست ہے، جس میں بہن کو فوری اپنی رقم کے مطالبہ کا حق حاصل تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایجاب کے وقت بھائی نے یہ الفاظ بطورِ شرط نہیں کہے تھے، بلکہ بہن سے پیسے آنے کے بعد ادائیگی کا وعدہ کر کے مہلت کی درخواست کے طور پر کہے تھے، جو درج بالا تفصیل کے مطابق موجبِ نزاع نہ ہونے کی وجہ سے مفسدِ عقد نہیں ہے۔
زیرِ نظر مسئلہ میں بھائی کے الفاظ اگرچہ مطلق ہیں، جو شرط اور مہلت کی درخواست دونوں پر محمول ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں خاص طور پر مہلت کی درخواست پر محمول کرنے کی دو وجوہات ہیں:(1) عام طور پر جان پہچان والوں کے درمیان ایسا ہی ہوتا ہے کہ نقد خرید و فروخت کرتے وقت خریدار ادائیگی کے لئے مہلت مانگتا ہے اور فروخت کنندہ احسان کے طور پر مہلت دے دیتا ہے، یہی وجہ ہے کہ صورتِ مسئولہ میں موجودہ اصل قیمت پر ہی خرید و فروخت کی گئی ہے، حالاں کہ ادھار خرید و فروخت میں عام طور پر ادھار کی وجہ سےاصل قیمت سے زیادہ قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ (2) اگر ان الفاظ کو شرط پر محمول کیا جائے تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ دو مسلمانوں کا کیا ہوا معاملہ فاسد ہو، اور اگر انہیں مہلت کی درخواست پر محمول کیا جائے تو وہی معاملہ درست قرار پاتا ہے، اس لئے ان الفاظ کو مہلت کی درخواست پر محمول کرنا ہی اولیٰ اور بہتر ہے۔
اعلاء السنن میں ہے:
"أما ما قال ابن حجر:"(والحاصل) أن الذين ذكروه بصيغة الاشتراط(أي الذين ذكروا صيغة الاشتراط في صلب العقد بأن: فبعته إياه على أن لي فقار ظهره حتى أبلغ المدينة، وفي رواية:قَدْ أَخَذْتُ ،وَاشْتَرَطْتُ ظَهْرَهُ إِلَى أَهْلِي، وفي رواية: اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، وَاسْتَثْنَى ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، و في رواية:أَنَّهُ بَاعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، وَاشْتَرَطَ ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، و في رواية:بِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَةً وَشَرَطَ لِي حُمْلَانَهُ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وفي رواية:اشْتَرَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنِّي بَعِيرًا عَلَى أَنْ يُفْقِرَنِي ظَهْرَهُ سَفَرَهُ أَوْ سَفَرِي ذَلِكَ، إلى غير ذالك، من الناقل) أكثر عددا من الذين خالفوهم(اي الذين ذكروه بصيغة الوعد و الإعارة في صلب العقد بأن:اشْتَرَى مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعِيرًا ، وَأَفْقَرَنِي ظَهْرَهُ إِلَى الْمَدِينَة، و في رواية:بعنيه ولك ظهره حتى تقدم، و في رواية: أخذته بكذا و كذا، قد اعرتك ظهره إلى المدينة، إلي غير ذالك ، من الناقل)وهذا وجه من وجوه الترجيح فيكون أصح، ويترجح أيضا بأن الذين رووه بصيغة الاشتراط معهم زيادة وهما حفاظ فتكون حجة، وليست رواية من لم يذكر الاشتراط منافية لرواية من ذكره، لأن قوله: لك ظهره وأفقرناك ظهره وتبلغ عليه لا يمنع وقوع الاشتراط قبل ذلك."
ففيه أولا:أنا لا نسلم أن الذين ذكروا الاشتراط أكثر عددا، وقد مر تفصيله، أما ثانيا: فلأن قوله:" إن الذين ذكروه معهم زيادة وهم حفاظ" لا يفيده، لأنا لا ننكر الزيادة بل نتكلم في معناها، و نقول: هي لا تدل علي الاشتراط فى العقد(أي بقرينة الروايات الأخرى، من الناقل)، بل الظاهر أنه كان وعدا منه صلى الله عليه وسلم و إعارة، فذكروه بصيغة الشرط كما قال الإسماعيل:"إن قوله:ولك ظهره وعد قام مقام الشرط، لأن وعده لا خلف فيه، و هبة لا رجوع فيه، لتنزيه الله تعالى له عن دناءة الأخلاق، فلذلك ساغ لبعض الرواة أن يعبر عنه بالشروط". ووافقه عليه المهلب، واستحسنه ابن حجرأيضا، وقال" واقوى الوجوه في نظري ما تقدم نقله عن الإسماعيل من أنه وعد حل محل الشرط"."
(أبواب البيوع، باب النهي عن البيع بالشرط، ج:14، ص:149، ط:إدارة القرآن و العلوم الإسلامية)
مذکورہ عبارت سے معلوم ہوا کہ اگر مفسدِ عقد امر دورانِ عقد بطورِ شرط ذکر نہ کیا جائے، بلکہ محض وعدہ یا احسان کے طور پر ذکر کیا جائے، تو اس سے عقد فاسد نہیں ہوتا، اس کی وجہ یہ ہے کہ شرط کی صورت میں وہ امر مشروط لہ کا حق بن جاتا ہے، جو مفضی الی المنازعہ ہونے کی بنا پر مفسدِ عقد ہوتا ہے، جبکہ وعدہ اور تبرع کی صورت میں وہ حق نہیں بنتا، اس لئے مفسد بھی نہیں ہوتا۔
وفیہ ایضاً:
"وتأويل ما روى أبو حنيفة ...... عن النبي صلى الله عليه وسلم، أنه قال:"اشتروا على الله"، قالوا: وكيف ذاك يا رسول الله؟ قال:"يقولون: بعنا إلى مقاسمنا و مغانمنا"، أن لا يكون الأجل المجهول شرطا فى العقد، بل يكون البيع نقدا و يمهل البائع المشتري إلى الميسرة على وجه التبرع"
(أبواب البيوع، باب البيع إلى أجل مجهول، ج:14، ص:155، ط:إدارة القرآن و العلوم الإسلامية)
اس عبارت سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ نقد خرید و فروخت میں، اگر ثمن کی ادائیگی کے لئے مجہول مدت بطورِ تبرع اور احسان ذکر کی جائے، تو بیع ادھار ہو کر فاسد نہیں ہوتی، خواہ یہ مجہول مدت دورانِ ایجاب و قبول ہی کیوں نہ ذکر کی جائے۔
المدونۃ میں ہے:
"عن نافع أن ابن عمر كان يبتاع البيع ويشترط على صاحبه أن يقضيه إذا خرجت غلته أو إلى عطائه."
(كتاب البيوع لفاسدة، بيع الحيتان في الآجام والزيت قبل أن يعصر، ج:3، ص:197، ط:دار الكتب العلمية)
الاوسط من السنن و الاجماع و الاختلاف میں ہے:
"عن عمرو بن دينار، أن ابن عمر كان يبتاع إلى ميسرة، ولا يسمي أجلا."
(كتاب البيوع، جماع أبواب السلم، باب ذكر السلم أو البيع إلى الآجال المجهولة إلخ، رقم الحديث:8098، ج:10، ص:281، ط:دار الفلاح - مصر)
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیع إلی المیسرة کیا کرتے تھے، حالاں کہ آنحضرت ﷺ نے نامعلوم مدت تک خرید و فروخت سے منع فرمایا ہے اور خود حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے بھی بیع إلی المیسرة کی کراہت مروی ہے،چنانچہ السنن الکبریٰ للامام البیہقی میں ہے:
"عن عمرو بن دينار،عن عبد الله بن عمر " أنه كان يكره أن يشتري إلى يسره ."
(كتاب البيوع، باب لا يجوز السلف الخ، رقم الحديث:11119، ج:6، ص:41، ط:دار الكتب العلمية)
دونوں قسم کی روایات میں تطبیق کی صورت یہ ہے کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ جان پہچان والوں سے خرید و فروخت کا نقد معاملہ کرتے تھے،جس میں ان سے وسعت آنے کے بعد ثمن کی ادائیگی کا وعدہ کر کے مہلت مانگ لیتے تھے، اور جان پہچان والے لوگ تبرع اور احسان کے طور پر مہلت دے دیتے تھے۔ اسی کو بعض رواۃ نے وعدہ خلافی نہ ہونے کی وجہ سے عقد میں باقاعدہ شرط لگانے سے تعبیر کیا ہے، جیسا کہ إعلاء السنن میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی روایت کی اسی طرح کی توجیہ گزر چکی ہے۔ اس توجیہ کی تائید حضرت نافع رحمہ اللہ (جو جواز کی روایت کے راوی بھی ہیں) کی ایک روایت سے بھی ہوتی ہے، جو مصنف لابن ابی شیبۃ میں موجود ہے:
"عن ابن عون قال: ذكر (لنافع) أن ابن عمر كان يشتري إلى الميسرة، فغضب وقال: إنما كان يشتري من قوم قد عرفهم وعرفوه، فيمطلهم السنة والسنتين، وله من الرباع ما لو (شاء) (لباع) فقضاهم، وكان ابن عمر إذا أيسر قضى."
(كتاب البيوع، باب الرجل يشتري بالدين، رقم الحديث:24942، ج:13، ص:96، ط:دار كنوز إشبيليا للنشر والتوزيع، الرياض)
بدائع الصنائع میں ہے:
"(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة. فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع، وإن كان مجهولا جهالة لا تفضي إلى المنازعة لا يفسد؛ لأن الجهالة إذا كانت مفضية إلى المنازعة كانت مانعة من التسليم والتسلم فلا يحصل مقصود البيع، وإذا لم تكن مفضية إلى المنازعة لا تمنع من ذلك؛ فيحصل المقصود."
(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة فى البيوع، ج:5، ص:156، ط:سعيد)
وفیہ ایضاً:
"(منها) أن يكون الأجل معلوما في بيع فيه أجل فإن كان مجهولا يفسد البيع سواء كانت الجهالة متفاحشة: كهبوب الريح، ومطر السماء، وقدوم فلان، وموته، والميسرة، ونحو ذلك، أو متقاربة: كالحصاد، والدياس، والنيروز، والمهرجان، وقدوم الحاج، وخروجهم، والجذاذ، والجزار، والقطاف، والميلاد، وصوم النصارى، وفطرهم قبل دخولهم في صومهم، ونحو ذلك؛ لأن الأول فيه غرر الوجود، والعدم، والنوع الثاني مما يتقدم، ويتأخر فيؤدي إلى المنازعة فيوجب فساد البيع.......ولو باع بثمن حال، ثم أخر إلى الآجال المتقاربة جاز التأخير، ولو أخر إلى الآجال المتفاحشة لم يجز، والدين على حاله حال فرق بين التأجيل، والتأخير، ولم يجوز التأجيل إلى هذه الآجال أصلا، وجوز التأخير إلى المتقارب منها، ووجه الفرق: أن التأجيل في العقد جَعْلُ الأجلِ شرطا في العقد، وجهالة الأجل المشروط في العقد، وإن كانت متقاربة توجب فساد العقد؛ لأنها تفضي إلى المنازعة، فأما التأخير إلى الآجال المجهولة متقاربة فلا تفضي إلى المنازعة؛ لأن الناس يؤخرون الديون إلى هذه الآجال عادة، ومبنى التأخير على المسامحة، فالظاهر أنهم يسامحون، ولا ينازعون، وما جرت العادة منهم بالتأخير إلى آجال تفحش جهالتها بخلاف التأجيل؛ لأن ما جعل شرطا في البيع مبناه على المضايقة، فالجهالة فيها وإن قلت تفضي إلى المنازعة؛ ولهذا لا يجوز البيع إلى الآجال المتقاربة."
(كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة فى البيوع، ج:5، ص:178، ط:سعيد)
خط کشیدہ عبارت کا مفہومِ مخالف یہ ہے کہ اگر دورانِ عقد ثمن کی ادائیگی کے لئے مجہول مدّت بطورِ شرط ذکر نہ کی جائے، بلکہ ادائیگی کو مجہول مدّت تک مؤخر کرنے کی صرف درخواست کی جائے، تو اس سے عقد کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، کیوں کہ درخواست کی صورت میں بعد میں ادائیگی خریدار کا لازمی حق قرار نہیں پاتی، جو جہالت کی بنا پر مفضی الی المنازعہ ہو، بلکہ یہ مؤخر ادائیگی دراصل بائع کی جانب سے خریدار پر تبرّع اور احسان شمار ہوتی ہے، جس پر بائع کو مجبور نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا یہ عقد کے فساد کا سبب نہیں بنے گا۔
فتاویٰ شامی میں ہے:
"(وصح بثمن حال) وهو الأصل (ومؤجل إلى معلوم) لئلا يفضي إلى النزاع.(قوله: وهو الأصل) ؛ لأن الحلول مقتضى العقد وموجبهوالأجل لا يثبت إلا بالشرط بحر عن السراج. (قوله: لئلا يفضي إلى النزاع) ... وأما مفهوم الشرط المذكور وهو أنه لا يصح إذا كان الأجل مجهولا فعلته كونه يفضي إلى النزاع فافهم."
(كتاب البيوع، ج:4، ص:531، ط:سعيد)
المبسوط للامام السرخسی میں ہے:
"ولكنا نقول الأجل مدة يلحقه بالشرط بالعقد شرطا، فلا يثبت في حق الشفيع كالخيار وهذا؛ لأن تأثير الأجل في تأخير المطالبة، وبه تبين أنه ليس بصفة للمال؛ لأن الثمن للبائع، والأجل حق للمشتري على البائع فكيف يكون صفة للثمن."
(كتاب الشفعة، ج:14، ص:103، ط:دار المعرفة)
وفیہ ایضاً:
"وهذه الآجال المجهولة إذا شرطت في أصل البيع فسد بها العقد."
(كتاب المكاتب، باب ما لا يجوز من المكاتبة، ج:8، ص10، ط:دار المعرفة)
مذکورہ عبارت کا مفہومِ مخالف یہ ہے کہ اگر مجہول مدّت دورانِ عقد بطورِ شرط ذکر نہ کی جائے، بلکہ وعدہ یا احسان کے طور پر بیان کی جائے، تو اس سے بیع ادھار میں تبدیل ہو کر فاسد نہیں ہوگی، جیسا کہ المبسوط کی اگلی عبارت میں صراحتاً مذکور ہے کہ دورانِ عقد ثمن کو قسط وار ادا کرنے کا ذکر اگر بطورِ وعدہ ہو، تو اس سے عقد ادھار شمار نہیں ہوتا، چنانچہ بیعِ مرابحہ میں اس کا بیان بھی ضروری نہیں رہتا۔
وفیہ ایضاً:
"(قال) في الأصل إن كان الأجل ميعادا من غير شرط فله أن لا يدفعه حتى يقبض أجره؛ لأن المواعيد لا يتعلق بها اللزوم وهذا يصير رواية في فصل بيع المرابحة وهو أنه إذا اشترى عينا من بياع وواعده أن يستوفي الثمن منجما في كل سبت فللمشتري أن يبيعه مرابحة من غير بيان في الصحيح من الجواب؛ لأنه مشتر بثمن حال، والميعاد لا يكون لازما بدليل هذه المسألة."
(كتاب الإجارات، باب كل الرجل يستصنع الشيء، ج:15، ص:92، ط:دار المعرفة)
البحر الرائق میں ہے:
"وقيد بإخراج ما ذكر مخرج الشرط لأنه لو أخرجه مخرج الوعد لم يفسد كما إذا باع بستانا على أن يعمر حوائطه، وأخرجه مخرج الوعد، ولكن لو لم يبن البائع لم يجبر، ويخير المشتري في الرد كذا في الذخيرة لكن لم يبين بماذا يكون إخراجه مخرج الوعد، وهو أحد الأجوبة عن حديث بريرة فإن البيع لم يكن بشرط العتق، وإنما كان بوعد عتقها، وبين الإمام إسحاق الولوالجي صورة إخراجه مخرج الوعد قال اشتر حتى أبني الحوائط.......ولو اشتراه على أن يؤدي الثمن من بيعه فهو فاسد إن شَرَطَ"
(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:6، ص:94، ط:دار الكتاب الإسلامي)
درج بالا عبارت اس بات میں بالکل صریح ہے کہ کوئی ایسا امر جس کا صلبِ عقد میں بطورِ شرط ذکر کرنے سے بیع فاسد ہو جاتی ہو، وہی امر اگر محض وعدہ کی حیثیت سے ذکر کیا جائے تو اس سے بیع فاسد نہیں ہوگی، مزید یہ کہ اس وعدہ پر عمل درآمد کے لئے فریقِ مخالف کو مجبور بھی نہیں کیا جائے گا۔
فقط واللہ اعلم
فتویٰ نمبر : 144703100336
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن