بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سود کی رقم سے مستحق بچوں کا علاج کرانے کا حکم


سوال

کیا ہم سود کی آمدنی کو مستحق بچوں کے علاج کے اخراجات میں بغیر ثواب یا اجر کی نیت کے استعمال کر سکتے ہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اولاً کسی طرح سود ہی نہ لیا جائے کیونکہ یہ حرام ہے،اگر کہیں سے اتفاقاً آجاوے ،تو     سود کی رقم کو اصل مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، اور اگر اصل مالک کو واپس کرنا ممکن نہ ہو تو اسے ثواب کی نیت کے بغیرمستحق زکات افراد کو بلانیت ثواب صدقہ کرنا ضروری ہے۔لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سود کی رقم اگر واپس  نہ ہوسکےتو اس سے ثواب کی نیت کے بغیر مستحق بچوں کا علاج کرایا جا سکتا ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"والحاصل: أنه إن علم أرباب الأموال وجب رده عليهم، وإلا فإن علم عين الحرام لايحل له ويتصدق به بنية صاحبه".

(كتاب البيوع، باب البيع الفاسد، ج:5، ص:99، ط: سعید)

وفیہ ایضاً:

لو مات الرجل وكسبه من بيع الباذق أو الظلم أو أخذ الرشوة يتورع الورثة، ولا يأخذون منه شيئا وهو أولى بهم ويردونها على أربابها إن عرفوهم، وإلا تصدقوا بها لأن سبيل ‌الكسب ‌الخبيث التصدق إذا تعذر الرد على صاحبه۔

(کتاب الحظر والإباحة، باب الاستبراء وغیرہ ، فصل فی البیع ، ج9:ص:553،  ط:سعید)

معارف السنن میں  ہیں:

"قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقهائنا کالهدایة وغیرها: أن من ملك بملك خبیث، ولم یمكنه الرد إلى المالك، فسبیله التصدقُ علی الفقراء ... قال: و الظاهر أن المتصدق بمثله ینبغي أن ینوي به فراغ ذمته، ولایرجو به المثوبة."

(أبواب الطهارة، باب ما جاء: لاتقبل صلاة بغیر طهور، ج:1، ص:34، ط: المکتبة الأشرفیة)

فقط والله اعلم


فتویٰ نمبر : 144711101241

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں