بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 محرم 1448ھ 24 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

ثبوت نسب کے معاملہ میں ڈی این اے ٹیست کی شرعی حیثیت


سوال

ایک بندہ جس کی شادی 8 فروری 2025 کو ہوئی اور بیوی سے پہلی مرتبہ ملاپ 25 فروری کو ہوا اور بچے کی پیدائش 20 اکتوبر 2025 کو ہوئی۔ اور شوہر ایک مرتبہ ملاپ کے علاوہ بیوی سے وطی کا انکار کرتا ہے جبکہ بیوی وطی کا ایک سے زائد مرتبہ اقرار کررہی ہے اور 13 فروری کو وطی کا بتا رہی ہے۔ بہرحال وطی کے کچھ ہی دنوں بعد الٹراساؤنڈ ہوا تھا، جس میں بچہ کی عمر یعنی علوق کی تاریخ شادی سے پندرہ اور اٹھارہ دن پہلے کی بتائی جاتی ہے، اور پھر اسی طرح الٹراساؤنڈ کی مختلف رپورٹیں حاصل کی  جاتی ہیں تو اس میں بھی علوق کی یہی تاریخ بتائی جاتی ہے جو شادی سے پہلے کی ہے۔

تقریباً تین رپورٹیں اس امر پر متفق ہیں کہ یہ بچہ قبل از نکاح ٹھہرا اور دیگر مختلف رپورٹیں اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ بچہ بعد از نکاح قبل از جماع (بقول شوہر 25 فروری) ٹھہرا یعنی علوق کی تاریخ 7 فروری اور 11 فروری ہے۔

اب یہ مختلف رپورٹیں ڈاکٹروں کے سامنے پیش کی گئیں  کہ ان مختلف رپورٹوں  میں کس کا اعتبار کیا جائے؟ کیونکہ اس کا تعلق ثبوتِ نسب وغیرہ سے ہے اور شوہر ان مختلف رپورٹوں کی تفصیل میں متحیر ہے تو آیا اس امر کی بنیاد پر شوہر کے لیے ان مختلف رپورٹوں کے حل کی غرض سے DNA ٹیسٹ کروانا جائز ہے؟ مقصد صرف ذاتی تسلی ہے، حالانکہ بچہ تقریباً شادی سے ساڑھے سات مہینے بعد پیدا ہوا ہے۔

کیا اس DNA کو ثبوتِ نسب اور انکارِ نسب کے لیے بطورِ دلیل قرینہ اور شاہد کے مان سکتے ہیں؟ اور DNA سے نسب ثابت ہوتا ہے یا نہیں؟ جبکہ مختلف ڈاکٹروں نے یہی مشورہ دیا کہ DNA کروانا بہترین حل ہے۔

اب اگر شرعاً DNA پر فیصلہ کیا جائے گا تو رپورٹ منفی آنے کی صورت میں شرعاً نکاح کا کیا حکم ہوگا؟ اور نکاح ختم ہونے کی صورت میں مہر بیوی کا حق ہوگا یا نہیں؟ اور اگر DNA شرعاً ثبوتِ نسب کے لیے کافی نہیں ہے تو پھر شوہر کے اس انکار کے بعد شرعاً کیا فیصلہ کیا جائے گا؟ 

جواب

شریعت مطہرہ نے ثبوت نسب کا  مدار اس بات پر رکھا ہے کہ بچہ کی پیدائش اگر نکاح سے چھ ماہ مکمل ہونے سے پہلے ہو، تو بچہ غیر ثابت النسب قرار پائے گا، اور اگر پیدائش چھ ماہ یا اسکے بعد ہو،تو بچہ ثابت النسب شمار ہوگا۔

صورت مسئولہ مذکورہ بچہ کی ولادت چوں کہ نکاح کی تاریخ سے تقریبا ساڑھے سات ماہ بعد ہوئی ہے، لہذا مذکورہ بچہ از روئے شرع ثابت النسب قرار پائے گا؛ کیوں کہ شریعت مطہرہ نے ایسے نومولود  کو ثابت النسب قرار دیا ہےجو نکاح کے چھ ماہ یا اس کے بعد پیدا ہو،  مذکورہ شخص کو الٹرا ساؤنڈ کی مختلف رپورٹوں کی بنیاد پر بیوی کے کردار پر ہرگز شک نہیں کرنا چاہیئے، کیوں کہ مذکورہ رپورٹیں تخمینات پر مبنی پوتی ہیں، جن سے یقینیات کا ثبوت یا انکار شرعا درست نہیں، نیز اس معاملہ میں DNA ٹیسٹ کروانے کی بھی چنداں ضرورت نہیں، کیوں کہ  DNA کی بنیاد پر نسب کا انکار یا ولدیت کا دعوی شرعا معتبر نہیں،مسئولہ صورت میں نسب کے انکار کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ عدالت میں پہلے شوہر  چار مرتبہ قسم کھائے کہ میں نے اپنی بیوی پر جو الزام لگایا ہے میں اس میں سچا ہوں، اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ کی لعنت ہو اگر میں اس الزام میں جھوٹا ہوں۔ اس کے بعد عورت چار مرتبہ حلف اُٹھائے کہ اس نے مجھ پر جو الزام لگایا ہے یہ اس میں جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ یہ کہے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو  اگر یہ شوہر اپنے الزام میں سچا ہو۔ اس طرح میاں بیوی کا عدالت میں قسمیں کھانا ”لعان“ کہلاتا ہے۔ یہ لعان مرد کے حق میں ”حدِ قذف“ یعنی تہمت تراشی کی سزا کے قائم مقام ہوگا، اور عورت کے حق میں ”حدِ زنا“ کے قائم مقام ہوگا۔ جب وہ دونوں لعان کرچکیں، تو عدالت ان دونوں کے درمیان ہمیشہ کے لیے علیحدگی کا فیصلہ کردے گی۔ لعان کے بعد دونوں میاں اور بیوی ایک دُوسرے کے لیے حرام ہو جائیں گے،اورپھر ان دونوں کا آپس میں نکاح ہمیشہ کےلیےحرام ہو جائے گا۔ البتہ اگر شوہر تسلیم کرلے کہ اس نے جھوٹا الزام لگایا تھا، یا عورت تسلیم کرلے کہ شوہر الزام لگانے میں سچا تھا، تو دونوں کے درمیان لعان کی حرمت باقی نہیں رہے گی، اور دونوں دوبارہ نکاح کرسکیں گے۔ اگر مرد نے بچے کے نسب کی نفی کی تھی تو لعان کے بعد یہ بچہ شوہر کا تصوّر نہیں کیا جائے گا، اور شوہر سے اس کا نسب ثابت نہیں ہوگا، بلکہ بن باپ کا بچہ سمجھا جائے گا، اور اس کا نسب صرف عورت سے ثابت ہوگا۔

صحیح بخاری میں ہے:

" حدثنا قتيبة: حدثنا الليث، عن ابن شهاب، عن عروة، عن عائشة رضي الله عنها أنها قالت:اختصم سعد بن أبي وقاص وعبد بن زمعة في غلام، فقال سعد: هذا يا رسول الله ابن أخي عتبة بن أبي وقاص، عهد إلي أنه ابنه، انظر إلى شبهه. وقال عبد بن زمعة: هذا أخي يا رسول الله، ولد على فراش أبي من وليدته، فنظر رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى شبهه، فرأى شبها بينا بعتبة، فقال: (هو لك يا عبد، ‌الولد ‌للفراش ‌وللعاهر ‌الحجر، واحتجبي منه يا سودة بنت زمعة). فلم ترد سودة قط. "

ترجمہ:

” عائشہ بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:سعد بن ابی وقاص اور عبد بن زمعہ کے درمیان ایک لڑکے کے نسب کے بارے میں اختلاف ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ میرے بھائی عتبہ بن ابی وقاص کا بیٹا ہے۔ انہوں نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ ان کا بیٹا ہے۔ آپ اس کی مشابہت دیکھ لیجیے۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا:یارسول اللہ! یہ میرا بھائی ہے۔ یہ میرے والد کے بستر پر ان کی لونڈی سے پیدا ہوا ہے۔رسول اللہ ﷺ نے لڑکے کو غور سے دیکھا۔  اس کی شکل میں عتبہ سے واضح مشابہت پائی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا:" اے عبد! یہ بچہ تمہارا ہے، کیونکہ بچہ اسی کا شمار ہوتا ہے جس کے بستر پر پیدا ہو۔ اور زنا کرنے والے کے لیے محرومی (اور سزا) ہے۔اور اے سودہ بنت زمعہ! تم اس سے پردہ کرو۔ " چنانچہ سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا نے اس لڑکے سے ہمیشہ پردہ کیا۔ “

( کتاب البیوع،  باب شراء المملوك من الحربي وهبته وعتقہ، ج: 2، ص: 1080، ط: مکتبۃ البشری )

النھر الفائق شرح کنز الدقائق میں ہے:

"وأكثر مدّة الحمل سنتان ‌وأقلّها ‌ستّة ‌أشهرٍ "

(باب ثبوت النسب، ج:2، ص: 497، ط: دار الکتب العلمیہ )

فتاوی ہندیہ میں ہے:

''صفة اللعان أن يبتدئ القاضي بالزوج فيشهد أربع مرات يقول في كل مرة: أشهد بالله إني لمن الصادقين فيما رميتها به من الزنا، ويقول في الخامسة: لعنة الله عليه إن كان من الكاذبين فيما رماها به من الزنا يشير إليها في جميع ذلك، ثم تشهد المرأة أربع مرات، تقول في كل مرة: أشهد بالله إنه لمن الكاذبين فيما رماني به من الزنا، وتقول في المرة الخامسة: غضب الله عليها إن كان من الصادقين فيما رماني به من الزنا، كذا في الهداية.''

(کتاب الطلاق، الباب الحادي عشر في اللعان، ج:1، ص:516، ط:دار الفکر)

وفیہ ایضا:

''اللعان عندنا: شهادات مؤكدات بالأيمان من الجانبين مقرونة باللعن والغضب قائمة مقام حد القذف في حقه ومقام حد الزنا في حقها كذا في الكافي.''

(کتاب الطلاق، الباب الحادي عشر في اللعان، ج:1، ص:514، ط:دار الفکر)

وفیہ ایضا :

"قال أصحابنا: لثبوت النسب ثلاث مراتب (الأولى) النكاح الصحيح وما هو في معناه من النكاح الفاسد: والحكم فيه أنه يثبت النسب من غير عودة ولا ينتفي بمجرد النفي وإنما ينتفي باللعان، فإن كانا ممن لا لعان بينهما لا ينتفي نسب الولد كذا في المحيط۔"

(الباب الخامس عشر فی ثبوت النسب، کتاب الطلاق، ص:536، ج:1، ط:رشیدیه)

بدائع الصنائع میں ہے:

" وأما صفة النسب الثابت فالنسب في جانب النساء ... (وأما) في جانب الرجال فنوعان نوع يحتمل النفي ونوع لا يحتمله أما ما يحتمل النفي فنوعان (نوع) ينتفي بنفس النفي من غير لعان ونوع لا ينتفي بنفس النفي بل بواسطة اللعان (أما الذي) ينتفي بنفس النفي فهو نسب ولد أم الولد؛ لأن فراش أم الولد ضعيف؛ لأنه غير لازم حتى احتمل النقل إلى غيره بالتزويج فاحتمل الانتفاء بنفس النفي من غير الحاجة إلى اللعان (وأما) الذي ‌لا ‌ينتفي ‌بمجرد ‌النفي فهو نسب ولد زوجة يجري بينهما اللعان وهو أن يكون الزوجان حرين مسلمين عاقلين بالغين غير محدودين في القذف على ما ذكرنا في كتاب اللعان؛ لأن فراش النكاح لازم لا يحتمل النقل فكان قويا فلا يحتمل الانتفاء بنفس النفي ما لم ينضم إليه اللعان. "

( کتاب الدعوی، دعوى النسب، ج: 6، ص: 242، ط: دار الكتب العلمية )

فتاوی شامی میں ہے:

"و إن صدقته أربعًا لأنه ليس بإقرار قصدًا، و لاينتفي النسب لأنه حق الولد فلايصدقان في إبطاله.''

''(قوله: و لاينتفي النسب) لأنه إنما ينتفي باللعان ولم يوجد، وبه ظهر أن ما في شرحي الوقاية والنقاية - من أنها إذا صدقته ينتفي - غير صحيح كما نبه عليه في شرح الدرر والغرر بحر."

(باب اللعان، کتاب الطلاق، ج:3،ص:486، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144709100034

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں