بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ٹریژری آفیسر (Treasury officer) کی کمائی حلال ہے یا حرام؟


سوال

 اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے  ٹریژری آفیسر (Treasury officer) کی کمائی حلال ہے یا حرام؟

جواب

واضح رہے کہ     اسٹیٹ بینک ٹریژری آفیسر کو  مختلف نوعیت کے کام کرنے ہوتے ہیں،  لہذا اگر وہ  سود  کے  متعلق معاملات میں کام کرتا ہو،  تو پھر اس کی کمائی حلال نہ ہو گی،تاہم اگر   وہ سودی معاملات میں کام نہیں کرتا، اور سودی معاملات سے بالکل اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا لیکن  اس وقت بھی سوال تنخواہ میں آتا ہے کہ تنخواہ سود کی رقم سے دی جاتی ہے یا مرکزی حکومت کےمختلف جائز ذرائعِ آمدنی کے فنڈ سے دی جاتی ہے؟ اگر سود کی رقم سے تنخواہ دی جاتی ہے تو بنک کی ملازمت نا جائز ہے اور تنخواہ بھی حرام ہے، اور اگر مرکزی حکومت کےمختلف جائز ذرائع آمدنی کے فنڈ  سے دی جاتی ہے تو تنخواہ جائز ہے۔

جیسا کہ  مفتی عبدالسلام چاٹگامی رحمہ اللہ تعالٰی   نےاسی نوعیت کے ایک سوال کے جواب میں لکھا ہے:

"صورتِ مسئولہ میں حکومتِ پاکستان کے نظام بنکاری کے سلسلہ میں اب تک ہماری تحقیق اور ہمارے علم میں جو باتیں آئی ہیں، اس اعتبار سے پورا نظام پہلے کی طرح سود پر ہی چل رہا ہے، اسلامی مشاورتی کونسل کے بعض ممبران سے تحقیق کی گئی ہے، تو انہوں نے بھی ہماری رائے کی حمایت اور تائید کی ہے، لہذا سودی نظام ختم کرنے کا اعلان ہمارے نزدیک حقیقت پر مبنی نہیں ہے، اس لیے جن بنکوں میں سودی کاروبار چلتا ہے، اور سود کی رقم سے تنخواہ دی جاتی ہے،ان بنکوں میں ملازمت جائز نہیں ہے۔

اسٹیٹ بنک کے ملازمین کو مختلف نوعیت کے کام کرنے ہوئے ہیں، تو بعض کام میں اگر سود کا لین دین نہیں بھی ہے، لیکن سوال تنخواہ میں آتا ہے کہ تنخواہ سود کی رقم سے دی جاتی ہے یا مرکزی حکومت کےمختلف ذرائعِ آمدنی کے فنڈ سے دی جاتی ہے؟ اگر سود کی رقم سے تنخواہ دی جاتی ہے تو بنک کی ملازمت نا جائز ہے، اور اگر مرکزی حکومت کےمختلف ذرائع آمدنی کے فنڈ جس میں غالب آمدنی جائز ہو ٗ سے دی جاتی ہے تو تنخواہ جائز ہے، اور اگر مخلوط آمدنی ہے تو اس میں غالب اور اکثریت کا اعتبار ہوتاہے، لہذا آپ اپنی عقل وفہم سے صحیح اور غلط راستہ کا تعین کرسکتے ہیں۔"

( فتوٰی نمبر:302،رجسٹر نمبر:39، صفحہ نمبر:230)

قرآن کریم میں ہے:

"{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ * فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ}." [البقرة: 278، 279]

ترجمہ:” اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرو اور جو کچھ سود کا بقایاہے اس کو چھوڑ دو اگر تم ایمان والے ہو، پھر اگرتم نہ کرو گے تو اشتہار سن لو جنگ کا اللہ کی طرف سے اور اس کے رسول کی طرف سے۔ اور اگر تم توبہ کرلوگے تو تم کو تمہارے اصل اموال مل جائیں گے، نہ تم کسی پر ظلم کرنے پاؤ گے اور نہ تم پر ظلم کرنے پائے گا، اور اگر تنگ دست ہو تو مہلت دینے کا حکم ہے آسودگی تک اور یہ کہ معاف ہی کردو  زیادہ بہتر ہے تمہارے لیے اگر تم کو خبر ہو۔“ (بیان القرآن )

صحیح مسلم میں ہے:

"عن جابر، قال: لعن ‌رسول ‌الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال:هم سواء."

(كتاب المساقات،باب لعن آكل الرباوموكله،ج:3،ص:1219،الرقم:1598،ط:داراحياء التراث العربي)

"ترجمہ:حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے لعنت بھیجی ہے سود کھانے والےپر، سود کھلانے والے پر، سودی معاملہ کے لکھنے والے پر اور سودی معاملہ میں گواہ بننے والوں پر اور ارشاد فرمایا کہ یہ سب (سود کے گناہ میں )برابر ہیں۔"

فتاوی شامی میں ہے:

"کل ما یؤدي إلی ما لایجوز لایجوز."

(کتاب الحظر و الإباحة، فصل في اللبس،360/6،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم


فتویٰ نمبر : 144708101273

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں