
میں اس وقت یوکے میں رہتا ہوں، اور میرے جیسے اکثر نوجوان یہاں اسٹوڈنٹ ویزے پر آتے ہیں، بعد میں جب ویزا ختم ہونے کے قریب ہوتا ہے تو ہمیں اسپانسرشپ تلاش کرنی پڑتی ہے۔ یہاں کا قانون یہ ہے کہ کاروباری مالکان یا وہ افراد جن کے پاس اسپانسر کرنے کا لائسنس ہو، وہ غیر ملکی کو اسپانسر کر سکتے ہیں۔لیکن اسپانسرشپ دینے کے لیے اکثر ہمارے مسلمان مالکان پیسے لیتے ہیں، کم از کم بیس ہزار پاؤنڈ یا اس سے بھی زیادہ۔ حالانکہ یہ یہاں کے قانون کی سخت خلاف ورزی ہے، اور اگر اس پر کوئی شکایت ہو جائے یا وہ پکڑے جائیں تو ان کا لائسنس منسوخ ہو جاتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے ملازم کے لیے جو تنخواہ مقرر ہوتی ہے، مثلاً اگر ایک گھنٹے کا ریٹ 15 پاؤنڈ مقرر ہو، تو یہ لوگ 7 یا 8 پاؤنڈ بلکہ اس سے بھی کم دیتے ہیں۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ اس صورتِ حال میں ملازم بھی مالک کے ساتھ رضامند ہو جاتا ہے، کیونکہ اسے ویزا درکار ہوتا ہے اور وہ مجبور ہوتا ہے (اور یہ ویزا بعد میں یہاں شہریت حاصل کرنے کے مقصد سے لیا جاتا ہے)۔
اس کے علاوہ مالکان حکومت کی طرف سے مقرر کردہ 28 دن کی سالانہ تنخواہ سمیت چھٹی اور بیماری کی چھٹی کے پیسے بھی ادا نہیں کرتے، اور 38 گھنٹے ہفتہ وار کام کے بجائے 80 گھنٹے یا اس سے زیادہ کام کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔ بدقسمتی سے یہ کام 99٪ ہمارے مسلمان ہی کرتے ہیں، اور بعض اوقات ذہنی اذیت بھی دیتے ہیں، اور اپنے اس عمل پر مطمئن بھی ہوتے ہیں۔
اب میرے سوالات یہ ہیں:
1.اس صورت میں مالک جو پیسے اسپانسرشپ دینے کے عوض لیتا ہے، کیا وہ حلال ہیں یا حرام؟
2.حکومت کے مقرر کردہ 15 پاؤنڈ فی گھنٹہ کے بجائے 6 یا 8 پاؤنڈ دینا کیا جائز ہے یا نہیں؟
3.اگر ملازم کو اس کے حقوق مکمل طور پر نہ ملیں، تو کیا اس کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ کام میں کوتاہی کرے یا مخلص نہ رہے؟
1.اسپانسرشپ کوئی ایسی چیز نہیں جسے بیچا جائے، بلکہ حقیقت میں یہ ایک قسم کی کفالت (ذمہ داری اٹھانے) کے حکم میں آتی ہے، یعنی اس میں اصل مقصد دوسرے شخص کی ذمہ داری اپنے ذمے لینا ہوتا ہے، اور یہ ما ل نہیں ہے۔لہذا جب کوئی شخص اس ذمہ داری کو پورا کرنے کے بجائے اس کو بیچنے لگتا ہے اور اس کے بدلے ہزاروں پاؤنڈ وصول کرتا ہے، تو یہ شرعاً درست نہیں ہے، چونکہ یہ رقم کسی جائز محنت یا تجارت کے بدلے نہیں بلکہ ایک قانونی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر لی جا رہی ہے اسی لیے اس طرح اسپانسرشپ کے عوض پیسے لینا جائز نہیں ہے، لینے کی صورت میں واپس کر دینا ضروری ہے۔
2.حکومت کے مقرر کردہ ریٹ (مثلاً 15 پاؤنڈ) کے بجائے 6 یا 8 پاؤنڈ دینا اور ملازم کو سالانہ چھٹیوں یا بیماری کی تنخواہ سے محروم رکھنا سراسر ظلم اور وعدہ خلافی ہے جو اسلام میں جائز نہیں ہے ۔اور یہ بات بھی قابلِ غور ہے کہ ملازم کی رضامندی یہاں معتبر نہیں، کیونکہ وہ رضامندی مجبوری کی وجہ سے ہے۔ شریعت میں ایسی رضامندی کو حقیقی رضامندی نہیں مانا جاتا جس میں انسان مجبور ہو۔لہٰذا کم اجرت دینا اور ملازم کے حقوق دبانا شرعی طور پر ناجائز اور حرام ہے ۔
3.جب مالک کی طرف سے ظلم اور حق تلفی ہو رہی ہو، تو ایسی صورت میں ملازم کے دل کا کام سے کھٹا ہونا فطری ہے، لیکن ملازم کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ بدلے میں کام میں کوتاہی کرے یا مخلص نہ رہے۔ اسلام کا سنہری اصول یہ ہے کہ ظلم کا جواب ظلم سے نہیں دیا جا سکتا۔ ملازم نے جتنے وقت کے لیے کام کا معاہدہ کیا ہے اس وقت میں پوری ایمانداری سے ڈیوٹی دینا ملازم کی ذمہ داری ہے تاکہ اس کا رزق حلال،طیب رہے۔ تاہم ملازم کو یہ پورا حق حاصل ہے کہ وہ اس ظلم کے خلاف قانونی آواز اٹھائے، قانونی راستہ اختیار کرے یا کسی ایسی جگہ ملازمت تلاش کرے، جہاں اس کا استحصال نہ ہو۔ مالک زیادتی کرے گا تو اس کا جواب دہ وہ خود ہوگا، ملازم کو اپنی ذمہ داری پوری کرنی چاہیے تاکہ قیامت کے دن اس کا دامن صاف ہو۔
قرآن کریم میں ہے:
"وَلَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُم بَيْنَكُم بِالْبَاطِلِ." (سورۃ البقرہ: 188)
ترجمہ: آپس میں ایک دوسرے کے مال ناحق (طور) مت کھاؤ ۔
(تفسیر بیان القرآن، ج: 1، ص: 133، ط: مکتبہ رحمانیہ)
سنن ابن ماجہ میں ہے:
"عن عبد الله بن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه."
(ابواب الإجارات، باب الرجل يستقي كل دلو بتمرة ويشترط جلدة، ص: 524، رقم الحديث: 2442، ط: دار الصديق )
قرآن کریم میں ہے:
"إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْخَائِنِينَ "(سورۃ الانفال: 58)
ترجمہ: بلا شبہ اللہ تعالی خیانت کرنے والوں کو پسند نہیں کرتے۔
(تفسیر بیان القرآن، ج: 2، ص: 102،ط: مکتبہ رحمانیہ)
قرآن کریم میں ہے:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَوْفُوا بِالْعُقُودِ."(سورۃ المائدہ: 1)
ترجمہ: اے ایمان والوں عہد کو پورا کرو ۔
(تفسیر بیان القرآن ، ج: 1، ص: 444، ط: مکتبہ رحمانیہ)
سنن ابی داؤد میں ہے:
" عن ابي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم أد الأمانة إلى من ائتمنك، ولا تخن من خانك."
(كتاب البيوع، باب في الرجل يأخذ حقه من تحت يده، ج: 5، ص: 392 ، رقم الحديث: 3532، ط: دار الرسالة العالمية)
فقط والله اعلم
فتویٰ نمبر : 144711100164
دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن