بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 محرم 1448ھ 23 جون 2026 ء

دارالافتاء

 

سوتیلی والدہ کے دوسرے شوہر کے بیٹے سے اپنی بیٹی کا نکاح کرنے کا حکم


سوال

 زید نے ایک عورت یعنی عائشہ سے شادی کی اور اس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام حلیمہ ہے۔ پھر عائشہ کا انتقال ہو گیا۔ اس کے بعد زید نے دوسری شادی کی، اس عورت کا نام خدیجہ ہے۔ بعد میں زید بھی فوت ہو گیا۔ پھر خدیجہ نے ایک دوسرے مرد سے شادی کی اور اس سے ایک لڑکا پیدا ہوا جس کا نام عبداللہ ہے۔

اب یہ سوال ہے کہ کیا عبداللہ حلیمہ  کی بیٹی سے شادی کر سکتا ہے یا نہیں؟ اس لیے کہ ایک اعتبار سے حلیمہ عبداللہ کی بہن بنتی ہے، اور دوسرے اعتبار سے حلیمہ کا شوہر عبداللہ کا چچا لگتا ہے۔

جواب

حلیمہ کی بیٹی اور عبداللہ کے درمیان حرمت کا کوئی تعلق نہیں ،لہذاصورت مسئولہ میں عبداللہ کا حلیمہ کی بیٹی  سے شادی کرنا جائز ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال.

(قوله: وأما بنت زوجة أبيه أو ابنه فحلال) وكذا بنت ابنها بحر.

قال الخير الرملي: ولا تحرم بنت زوج الأم ولا أمه ولا أم ‌زوجة ‌الأب ولا بنتها ولا أم زوجة الابن ولا بنتها ولا زوجة الربيب ولا زوجة الراب. اهـ."

(كتاب النكاح،فصل في المحرمات،ج3،ص31،ط؛سعيد)

 فقط والله أعلم


فتویٰ نمبر : 144707102408

دارالافتاء : جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن



تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں